مسابقتی امتحان کے نتائج کا آئینہ

گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال بھی پاکستان میں مقابلے کا امتحان سینٹرل سپیرئیر سروسز(سی ایس ایس )پاس کرنے والوں کی شرح مزید کم ہو گئی۔ سال2020میں سی ایس ایس کا امتحان صرف 1.96فیصد امیدوارپاس کر سکے۔ گزشتہ5سال میں پاس ہونے کی شرح انتہائی کم ہونے لگی ہے۔جس سے ایک جانب معیار تعلیم میں کمی ہے تو دوسری جانب قابل نوجوانوں کی مقابلے کے امتحان اور اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں عدم دلچسپی اور کارپوریٹ سیکٹر کی طرف رجحان ہے جہاں ان کو مسابقتی عمل میں سرکاری ملازمتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مواقع مشاہرہ اور سہولتیں میسر ہیں۔سال بہ سال کامیابی کی کم ہوتی شرح اور مقابلے کے امتحان کے یہ نتائج ہمارے معیارِِ تعلیم کے آئینہ دار ہیں۔ مقابلے کے امتحانات میں امیدواروں کی بھاری اکثریت بی اے سے زیادہ یعنی کم از کم ایم اے، ایم ایس سی ہوا کرتی ہے ایم فل امیدواروں کی خاصی تعداد بھی مسابقتی امتحان میں شریک ہوتی ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والوں اور ملک کی معروف جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طالب علموں کی بھی بڑی تعداد اس امتحان میں شرکت کرتی ہے اورکامیاب ہونے والے امیدواروں کی اکثریت انہی کی ہوتی ہے لیکن ان نتائج سے ان کے معیارِِ تعلیم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جو لوگ تعلیم کے شعبے میں ذمہ داریاں رکھتے ہیں یہ صورتحال ان سب کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے یہ مسئلہ ضرور ہے بڑی تعداد میں بچے مختلف سطحوں پر تعلیم چھوڑ دیتے ہیں یہ بھی بڑا مسئلہ ہے تعلیمی ادارے کم ہیں یقینا یہ بھی بڑا مسئلہ ہے لیکن غور فرمائیں تو ہمارے ہاں تعلیم کا ناقص معیار ان سب مسائل سے کسی صورت کم نہیں۔ تعلیمی معیار کا ناقص ہونا ایک المیہ ہے۔ وقت اور پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی اگر طالبعلم نے ناقص تعلیم ہی سے لیس ہونا ہے تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ؟ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ اس ناقص تعلیم کے ساتھ ہم ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔
کم عمری کی شادی کا معاملہ
خیبر پختونخوا حکومت کا کم عمری میں شادی کی روک تھام کیلئے علماء کرام کی مشاورت سے قانون سازی کرنے کے فیصلے پر پہنچنا قانون سازی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے علاوہ اس کے نفاذ کے ضمن میں بھی اہم قدم ہے۔اس سلسلے میں سعودی عرب اورترکی سمیت15اسلامی ممالک میں ہونے والی قانون سازی سمیت شرعی جائزہ بھی لیا جائے گا خیبر پختونخوا میں شادی کی عمر کم سے کم 18 سال رکھنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا قانون سازی میں اس نکتہ پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ اگر 18سال سے کم عمر میں شادی ناگزیر ہو تو عدالت اس کی اجازت دے سکے۔ کم عمر ی میں شادیاںطبی، سماجی، معاشی اور ثقافت کے لحاظ سے بھی درست قدم نہیںکم عمری کی شادی کے نتیجے میں لڑکیوں کو پیچیدہ طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر بچے کی پیدائش کے وقت موت کے منہ میں بھی چلی جاتی ہیں۔کم عمری میں شادی کی قانون میں گنجائش رکھنا بہت سی مصلحتوں کے باعث بہرحال ضروری ہے کسی لڑکی کی شادی کا فیصلہ صرف عمر کی بنیاد پر کرنا اور عمر کی شرط لازمی کرنا مشکلات کا باعث بن سکتا ہے عمر کی کی مقررہ حد ٹھنڈے علاقوں اور دیہات کے حوالے سے تو شاید درست فیصلہ ہو قصبات اور شہروں میں نوسال کی عمر میں لڑکیون کے بالغ ہونے کی مثالیں ہیں پھر جسمانی اور طبی طورپر مختلف علاقوں کی لڑکیاں اور مختلف خاندانوں کی لڑکیاں مختلف ہوسکتی ہیں علاوہ ازیں بھی معاشرتی مجبوریاں اور دیگر امور بھی سامنے آسکتی ہیں ان تمام مصلحتوں کا جائزہ لینے سے قبل شرعی طور پر قانون سازی کا جائزہ لینا بہتر قدم ہوگا شریعت سے متصادم کوئی قانون ازروئے دستوانہ تو نافذ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس پر عملدرآمد ممکن ہوگا لہٰذا بہتر یہی ہے کہ قانون سازی کرکے سوچنے کی بجائے ابھی تمام معاملات مدنظر رکھے جائیں۔