بیت المقدس کا مقتل

خدا جانے اس میں کیا راز ہے کہ کاتب تقدیر نے کشمیریوں کا مقدر سرزمین بیت المقدس کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ دونوں جگہوں پر ظالم طاقتوں کا قبضہ ہے اور دونوں مقامات پر عوام اس قبضے کو ختم کرنے کیلئے نقدِجاں ہتھیلی پر رکھے لئے پھرتے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل دو بڑی معیشتیں اور ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود اپنے اپنے زیرنگیں حرماں نصیبوں کو دبا اور جھکا تو نہیں سکیں مگر ان کا بیدردی سے قتل عام کرکے انتقام کی آگ کو سرد کر رہی ہیں۔ مقدس مقامات کا تقدس بحال ہے نہ مقدس ایام کا احترام باقی ہے۔ قابض اور قاہر جب چاہے رقصِ ابلیس منعقد کرتا ہے۔ بیت المقدس کے مناظر، اسرائیلی فوجیوں کے ظلم وستم، نوجوانواں کے بھڑکتے جذبات اور خواتین کی فعالیت کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھیں تو اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ کونسا علاقہ ہے۔ صرف فلسطینی پرچم سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اُفتادگان فلسطین ہیں۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے اور شب قدر کو اسرائیل کی فوجوں نے بیت المقدس میں عبادت کرنے والے مسلمانوں کو جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا اس نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ مشرق بیت المقدس میں شیخ جراح کے علاقے میں یہودی آبادکاروں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی۔ بارہ فلسطینی گھرانوں کو مکانات خالی کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے۔ ان خاندانوں نے گھر خالی کرنے سے انکار کیا۔ ایسے ہی ایک گھر میں فلسطینی لڑکی کا یہودی آبادکار کیساتھ مکالمے کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہو گئی ہے جس میں فلسطینی لڑکی اپنے دالان میں کھڑے یہودی سے کہہ رہی ہے ''تم میرا مکان چرا رہے ہو، یعقوب تم جانتے ہو کہ یہ تمہارا مکان نہیں'' جس پر یہودی آبادکار جواب دیتا ہے کہ اگر میں نہیں چراؤں گا تو کوئی دوسرا اسے چرائے گا۔ یہودی آبادکار کا جواب ایک مائنڈ سیٹ کی عکاسی کر رہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا ہے آج نہیں تو کل۔ جیکب نہیں تو ڈیوڈ کے ہاتھوں ہی سہی مگر یہی ان کا مقدر ہے۔ ایک نقطے سے پھیلتے پھیلتے ایک پورا دائرہ یوں بے سبب نہیں بنا اس کے پیچھے گہری اور منظم منصوبہ بندی تھی۔ اس حکمت عملی نے فلسطینیوں اور ان کی نیم خودمختار اتھارٹی کو ایک نقطہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کی تشفی نہیں ہو رہی اور وہ باقی ماندہ فلسطینیوں کو بھی اپنے گھروں سے بے دخل کرکے عظیم تر بننے کا ایک اہم سنگ میل عبور کرنا چاہتا ہے۔ فلسطینیوں کے گھر چھیننے کی اس واردات کے بعد جہاں ایک طرف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا وہیں دوسری طرف اسرائیلی فوج نے رمضان المبارک اور بیت المقدس کا احترام کرنے کی بجائے نمازیوں اور اعتکاف پر بیٹھے ہوئے لوگوں پر تشدد کا آغاز کیا۔ اسرائیلی پولیس نے جابجا ناکے لگا کر مسلمانوں کو شب قدر کو عبادت کیلئے بیت المقدس میں داخلے سے روکنے کی کوشش کی۔ بیت المقدس کو جانے والے تمام راستے بندکر دئیے گئے تو لوگ گاڑیوں سے اُتر کر پیدل ہی مسجد اقصیٰ کی جانب چل پڑے۔ اسرائیلی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے، بدحواس کرنے والے شیل اور پیلٹ گن طرز کی گولیاں استعمال کیں۔ اس وقت بیت المقدس میں نوے ہزار نمازی جمع تھے اور صیہونی فورسز نے اس عبادت میں خلل ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسرائیلی فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائی میں اب تک پچیس افراد شہید اور پانچ سو سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ریڈکراس نے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کیلئے مسجد اقصیٰ کے قریب فیلڈ ہسپتال قائم کر رکھا ہے۔ بیت القدس میں اس وقت کوئی تصادم ہو رہا ہے نہ یہ میدان کارزار ہے بلکہ تین مذاہب کا مقدس شہر اسرائیل کے ہاتھوں مقتل بن کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف مسجد اقصیٰ اور اس کا نواحی علاقہ میدان جنگ تھا اور مسلمانوں کے خون سے سڑکیں لالہ زار تھیں تو دوسری طرف صیہونی جلوس نکال کر ''خدا کا یروشلم'' کے نعرے لگا رہے تھے۔ رمضان المبارک اور شب قدر کی مبارک ساعتوں میں فلسطینیوں کی عبادت میں خلل ڈالنے اور طاقت کے بے دریغ استعمال پر صرف دومسلمان راہنماؤں نے احتجاج کیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو ظالم اور دہشتگرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس کی عزت اور آبر و کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا ان حرکتوں سے اسرائیل مکہ میں طواف کرنے والے، استنبول، اسلام آباد، جکارتہ، کوالالمپور، قاہرہ سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں پر حملے ہم سب پر حملے ہیں۔ طیب اردوان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی مکہ مکرمہ میں ہی ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ اسرائیل کی فوج نے انسانیت کی تمام حدود اور عالمی قوانین پامال کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں اہل فلسطین پر حملہ کیا۔ ہم فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے فوری تدابیر کرے۔ یہ دوعالمی سطح پر دومسلمان راہنماؤں کی بلند ہونے والی دو آوازیں تھیں۔ اقوام متحدہ نے بھی حسب روایت اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ المیہ یہ ہے کہ زبانی کلامی یکجہتی اور اظہار تشویش فلسطینی عوام کے سروں پر تنی دکھ کی چادر میں چھید کا باعث نہیں بن رہے۔