فرانس میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور اس کے دنیا پر اثرات

فرانس میں آج کل انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سیاستدان مارین لاپین کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اگر اقتدار میں آجاتی ہیں تو اس کے دنیا پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ فرانسیسی صدر امانوئل مکخوان جنہیں نسبتاً اعتدال پسند سیاستدان سمجھا جاتا تھا اب انہیں دنیا اور بالخصوص مسلمان ممالک میں ان کے اسلام مخالف بیانات اور چارلی ہیبڈو کی حمایت کی وجہ سے دائیں بازو کا سیاستدان تصور کیا جاتا ہے جبکہ حقیقتاً وہ اپنے ملک میں اسلامائزیشن کے روکنے اور مسلمانوں کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے بنیاد پرستوں کی جانب سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ حالات اس قدر سنگین ہوچکے کہ فرانس کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی جرنیلوں نے مکخوان کو ایک خط لکھ کر دھمکی دی کہ اگر مسلمانوں کی جانب سے فرانس میں خانہ جنگی ہونے سے پہلے ہی مسلمان آبادیوں کیخلاف کارروائی ناکی تو یہ مکخوان کا تختہ اُلٹ کر بغاوت کریں گے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان جرنیلوں کو مارین لاپین کی مکمل حمایت حاصل تھی جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے۔ لاپین ہی وہی سیاستدان ہے جو سابقہ صدارتی انتخابات میں 33فیصد ووٹوں کیساتھ فرانس کی دوسری مقبول ترین سیاستدان بن چکی تھی جو فرانسیسی معاشرے میں بنیاد پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا ایک واضح ثبوت ہے۔ انہی حالات کو دیکھ کر اب مکخوان نے بھی مسلمانوں کو نشانہ بناکر لاپین کو کاؤنٹر کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا ہے تاکہ اسے2022 کے انتخابات میں جیتنے سے روکا جاسکے۔فرانسیسی عوام میں بنیاد پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان دراصل یورپین یونین کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ جنگ عظیم دوئم سے قبل ایڈولف ہٹلر نے بھی اسی طرح یہودی اور غیر کاکیشائی نسل کے لوگوں کیخلاف نفرت کا پرچار کرکے فہرور کی کرسی تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس کے برعکس لاپین میں مسلمانوں سے نفرت کے علامات زیادہ ہیں۔ ہٹلر نے تو اول میں یہودیوں پر کھل کر تنقید نہیں کی تھی جب نازی پارٹی1928 میں صرف2.6 فیصد ووٹ لے سکی تھی۔ اس نے بتدریج جرمنوں کے دماغ می زہر بھرا اور انہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ جرمنوں کے حقوق پر یہودیوں نے قبضہ کیا ہے جو انہیں ان سے واپس لینا ہے۔ بالآخر یہودیوں کیخلاف ہٹلر کا زہر 1932 کے انتخابات میں سامنے آیا جب وہ ایک بڑی جیت کیساتھ جرمنی پر مسلط ہوا۔دنیا پر اس کے اثرات کی بات کریں تو یہ بات واضح ہے کہ لاپین کاکیشائی نسل سے تعلق رکھنے والے فرانسیسیوں کے علاوہ کسی اور طبقے کے بارے میں مثبت رائے نہیں رکھتی۔ انہوں نے تو ایک مرتبہ یہ بیان تک دیدیا تھا کہ سکھوں کو عوامی مقامات پر تربان پہننے کی اجازت نا دی جائے۔ مسلمانوں سے ان کی دشمنی ویسے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے لہٰذا امکان ہے کہ اقتدار میں آتے ہی وہ دیگر اقوام اور بالخصوص مسلمان ممالک کے شہریوں کے فرانس آنے پر پابندی عائد کریں گی، بالکل ویسے ہی جیسے ٹرمپ نے مخصوص ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلے پر سفری پابندی عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ لاپین کا اقتدار میں آنے سے دیگر یورپین ممالک میں بھی انتہاپسند جماعتوں کی جانب ووٹنگ رجحان بڑھے گا جو نیدرلینڈز میں انتہاپسند سیاستدان گیرٹ ولڈرز اور سویڈن میں نیونازی سوچ رکھنے والے سیاستدان چارلی ویمرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے واضح نظر آرہا ہے۔ اسی طرح مسلم ممالک میں بھی بنیاد پرستانہ سیاست کی حمایت میں اضافہ ہوگا جو پاکستان میں ٹی ایل پی کی اچانک بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پہلے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ ترکی میں اُردوگان نے اسلام پرست اور عثمانیہ سلطنت کا کھویا ہوا وقار واپس قائم کرنے کے وعدے کرکے اور یورپ مخالف نعرے لگاکر اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا جس کا ثبوت حال ہی میں اُردوگان کا آیا صوفیا کتھیڈرل کو مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کرنا ہے۔ دوسری جانب لاپین کی انتہائی مسلمان مخالف پالیسیاں مسلم اور مغربی دنیا کے درمیان مزید فاصلے پیدا کردے گی اور ممکن ہے کہ او آئی سی بھی اس کیخلاف کھل کر سامنے آجائے گا کیونکہ اب مسلم دنیا کی دو بڑی طاقتیں ایران اور سعودی عرب امریکہ یا یورپ نہیں بلکہ چین کے اثر ورسوخ میں آچکی ہیں۔ مختصر یہ کہ سیموئل پی ہنٹنگٹن کی سب پیشنگوئیاں اب ایک ایک کر کے حقیقت ثابت ہو رہی ہیں جو انہوں نے سردجنگ کے بعد قائم ہونے والی دنیا کے بارے میں اپنی کتاب ''کلیش آف سویلائزیشنز'' میں بیان کی تھی۔