وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے منعقدہ ’او۔آئی۔سی‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے ورچوئل خطاب

ویب ڈیسک :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے منعقدہ ’او۔آئی۔سی‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے ورچوئل خطاب
(مورخہ 16 مئی 2021)

عزت مآب وزرائے کرام
معزز مندوبین
خواتین وحضرات

میں عزت مآب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ’او۔ آئی۔ سی‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا یہ اہم ہنگامی اجلاس بلایا، میں ’او۔ آئی۔ سی‘ کے سیکریٹری جنرل اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس ہنگامی اجلاس کے انعقاد کے لئے ضروری انتظامات کو ممکن بنایا۔

اس مجلس کا بروقت انعقاد اس ضمن میں نہایت ممدومعاون ثابت ہوگا کہ ہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں بالخصوص القدس الشریف اورغزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ اور مضبوط لائحہ عمل طے کریں، فلسطینیوں کے نصب العین کی حمایت اپنے قیام سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک واضح اور نمایاں اصول رہا ہے، بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح ابتداءسے ہی فلسطینی عوام کے جائز ومنصفانہ حقوق کے پرزور حامی رہے ہیں۔

میں آج لگی لپٹی رکھے بغیر برملا اندازمیں کھل کر اظہار خیال کرنا چاہوں گا، پاکستان، اپنے دفاع سے محروم، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی طاقت کے غیرقانونی، بلاامتیاز اور وحشیانہ استعمال، جبر، مطلق العنانی اور ناانصافی پر حیرت زدہ ہے، فلسطینیوں کے خلاف بربریت اور منظم جرائم کی مذمت کے اظہار کے لئے الفاظ کا دامن ناکافی ہے، اسرائیلی فوج کی کارروائیوں، اس کی نوآبادیاتی پالیسیز، اور اس کی جاری جارحیت، محاصرے اور اجتماعی آبادی کو سزا دینے کی ظالمانہ روش کی بناءپر مقبوضہ فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورت حال ناقابل برداشت ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے بے کس اور اپنے دفاع سے محروم فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے رحمانہ اور بلاامتیاز استعمال، عالمی انسانی و بنیادی حقوق سمیت عالمی قوانین اور اصولوں کی سنگین اورکھلی خلاف ورزی ہے، فلسطینی عوام کو درپیش اس سنگین صورتحال پر میرے وزیراعظم عمران خان نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور فلسطین کے صدر محمود عباس سے بات کی ہے، میں بذات خود بھی برادرم ریاض المالکی سمیت کلیدی علاقائی ہم مناصب سے رابطے میں رہا ہوں، حالیہ اسرائیلی جارحیت کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس سے آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں۔

اس افسردہ اور تاریک موقعے پر ہم فلسطین کے عوام اور حکومت کے ساتھ اپنی بھرپور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں جو جرآت اور بہادری سے اپنے جائز حقوق کا دفاع کررہے ہیں، اسرائیلی مظالم کے خلاف اور اپنی عرب اور اسلامی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے، برسرپیکار فلسطینی عوام کی جرات و بہادری کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔

جناب چئیرمین
معزز ساتھیو
غزہ پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں کی پاکستان شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ فلسطینیوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور ان کی بڑی تعداد زخمی ہے، پاکستان، مسجد اقصٰی کے تقدس کی پامالی اور اس میں عبادت کرنے والے بے گناہوں پر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور عیدالفطر پر ہلاکتیں اور تباہی ایک نہ ختم ہونے والی بے حسی پر مبنی ظلم ہے، مذہبی مقامات کا تقدس اوراحترام عالمی قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے، اس ضمن میں پاکستان نے 1968-69 میں سلامتی کونسل میں غیرمستقل رکن کی حیثیت سے اپنی مدت کے دوران کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

5 اگست 1969 کو مسجد اقصٰی میں آگ لگائے جانے کے واقعہ پر پاکستان کی پیش کردہ قراردادوں 252اور 267 کے علاوہ سکیورٹی کونسل نے(5ستمبر1969) قرارداد 271 بھی منظور کی تھی جس کا محرک بھی پاکستان تھا۔

مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری میں مسلسل توسیع اور فلسطینیوں کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کرنے پر بھی ہمیں شدید تشویش ہے۔

القدس الشریف کے پڑوس شیخ الجراح سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، منظم انداز میں آئینی و تاریخی حیثیت اور "آبادیاتی تناسب" میں تبدیلی، القدس الشریف کے عرب اسلامی اورمسیحی کلچر کو تبدیل کرنے کی تازہ ترین مثالیں ہیں، جو قطعی طورپر غیرقانونی، غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہے۔

محترم حاضرین
معزز ساتھیو

ہمیں فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف جاری جارحیت رکوانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طورپر درج ذیل اقدامات کئے جائیں، اول، عالمی برادری فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے غیرقانونی ، بے رحمانہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری رکوائے اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، عالمی برادری فوری مداخلت کرتے ہوئے غزہ میں شہری آبادی کے خلاف اسرائیلی مظالم رکوانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اور غزہ میں جاری بمباری کو فی الفور روکا جائے۔

دوم: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر فی الفور عمل کرایاجائے، یہ نہ صرف فوری بلکہ نہایت ناگزیر امر ہے۔

سوئم: انسانیت کے خلاف جرائم پر اسرائیل کو جوابدہی سے راہ فرار اختیار نہ کرنے دی جائے، عالمی قوانین بشمول چوتھے جینیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے متعدد معاہدات کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو استثناء نہیں ملنا چاہئے۔

چہارم: جارحیت کے مرتکب اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کو ناجائز طور پر ایک ہی پلڑے میں تولنے اور دونوں کو ایک ہی صف میں برابر کھڑا کر نے کی کوششیں بلاجواز ہیں۔

امت مسلمہ کی اجتماعی نمائندہ آواز ’او۔آئی۔سی‘ کو متحد ہوکر، فریب کاری پر مبنی اس تاثر کو مسترد کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

گزشتہ روز اسرائیل کے فضائی حملے میں غزہ میں بلند و بالا عمارت کو تباہ کرنا، جبر کے ذریعے میڈیا کو خاموش کرانے اور رپورٹنگ سے روکنے کا ثبوت ہے، اس عمارت میں میڈیا کے دفاتر بھی قائم تھے۔ یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔

’او۔ آئی۔ سی‘ کا قیام مسئلہ فلسطین سے ہوا تھا۔ ضرورت کی اس گھڑی میں امت مسلمہ کو اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھرپور یک جہتی اور ان کی حمایت کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔

مقبوضہ خطے میں فلسطینی عوام کے انسانی حقوق، انسانی عزت ووقار کی بحالی اور جاری خون ریزی رکوانے کے لئے پاکستان بطور رکن ایگزیکٹو کمیٹی اور وزرا خارجہ کونسل کے اگلے سربراہ کے طورپر ’او۔آئی۔سی‘ کے رکن ممالک کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہر قدم میں ان کے ہمرکاب اور شریک کار ہونے کے لئے آمادہ و تیار ہے۔

جناب چئیرمین
محترم ساتھیو

میں فلسطینی عوام کے منصفانہ اور جائز حقوق خاص طورپر ان کے استصواب رائے کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول کی جدوجہد میں پاکستان کی دائمی حمایت کے اعادہ کے ساتھ اپنی بات ختم کروں گا، میں پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ اور ’او۔آئی۔سی‘ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی حمایت کا بھی اعادہ کرتا ہوں جن میں 1967 سے پہلے کی سرحدات اور القدس الشریف دارالحکومت کی حامل ایک قابل عمل، خودمختار اور وحدت رکھنے والی فلسطینی ریاست تسلیم کی گئی ہے، ایسے حل کے بغیر انسانی وقار کی کوئی بھی بات نہ صرف نامکمل اور ادھوری رہے گی بلکہ علاقائی امن ایک خواب رہے گا اور عالمی سلامتی خطرات سے دوچار رہے گی، ہمیں اس نازک مرحلے پر فلسطینی عوام کا ساتھ ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔

میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

May be an image of one or more people, people standing and people sitting