کیا آرٹیکل370 بھارت کا داخلی مسئلہ ہے؟

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 370بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے ہمارا مسئلہ 35A کا خاتمہ ہے جس کے بعد بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کر سکتا ہے۔ وزیر خارجہ کی اس بات کو دوبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکورٹی اداروں کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کی خوردبین سے دیکھنا شروع کیا اور کچھ کو اس میں ''اِدھر ہم اُدھر تم'' کی پالیسی کی بُو آنے لگی۔ کچھ کا خیال تھا کہ اب پاکستان نے پانچ اگست کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی کرلی۔ اس تاثر کو وزیراعظم عمران خان نے ازخود دور کرنے کا فیصلہ کیا کہ بھارت کیساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے اور پانچ اگست کا اقدام واپس لئے بغیر مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں۔ انہوں نے اس سے زیادہ کھل کر بھی بات کی کہ مغرب بھارت کو چین کے مدمقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے اور اگر بھارت نے کھڑا ہونے کی کوشش کی تو تباہ ہوجائے گا۔ انہوں نے مغربی ملکوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے معاملے کو خارجہ پالیسی کیساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ یہ اس وقت عالمی اداروں پر کنٹرول اور گہرا اثر رسوخ رکھنے والی مغربی حکومتوں پر شدید تنقید ہے جو ایران، ترکی، روس، چین یا کسی دور میں لاطینی امریکہ کے ہوگیو شاویز اور فیڈل کاسترو کے لہجوں میں جھلکا کرتی تھی۔ مغرب شہری آزادیوں اور انسانی حقوق سے متعلق ان دوہرے معیارات اور پیمانوں کو بے نقاب کرنے پر اپنا غصہ کسی نہ کسی انداز سے ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم کی اس وضاحت کے بعد آرٹیکل 370 کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کے بیان کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کشمیر ایک سہ فریقی مسئلہ ہے اور اس کا کوئی معاملہ بھی کسی ایک فریق کا اندرونی معاملہ نہیں، اس حد تک بات ٹھیک ہے کہ بھارتی آئین میں کشمیر کو خصوصی شناخت دینے والی دفعہ370 بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اور کشمیری راہنما شیخ محمد عبداللہ کے طویل دوستانہ تعلقات کا مظہر تھی۔ اسی اُمید پر نہرو نے شیخ عبداللہ کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا تھا۔
بھارت کی طرف سے کشمیر کو دی گئی یہ آزادیٔ پرواز محض دوسال ہی جاری رہی اور بھارتی حکومت نے اس دفعہ کو غیرمؤثر بنانے کی کوششوں کا آغاز کرکے کشمیریوں کے بال وپر کترنا شروع کر دئیے۔ 1953میں شیخ عبداللہ کو برطرف کرکے گرفتار کر لیا گیا اور یوں پنڈت نہرو اور شیخ عبداللہ کے درمیان یارانے کی اس یادگار کی فلک بوس عمارت کی پہلی اینٹ کھسک کر رہ گئی۔ شیخ عبداللہ کی برطرفی اگرچہ دو دوستوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا کا شاخسانہ تھا اور پاکستان اس میں برا ہ راست فریق نہیں تھا مگر شیخ عبداللہ کی برطرفی پر پاکستان نے بھرپور احتجاج کیا۔ شیخ عبداللہ کو دی گئی آزادیاں بھارت نے ان کے جانشین بخشی غلام محمد کے ذریعے واپس لینے کا عمل شروع کیا۔ اسی دوران محمد علی بوگری نے کشمیری راہنما چوہدری غلام عباس کو بلا کر پوچھا کہ اب بخشی غلام محمد کیسا شخص ہے اور اس کیساتھ کیا رویہ اختیار کیا جائے؟ چوہدری غلام عباس نے کہا کہ بخشی اس قدر ذہین شخص ہے کہ اس ذہنی سطح کا کوئی آدمی آپ کی پوری کابینہ میں نہیں گویا کہ بخشی غلام محمد اور نہرو کے باہمی مسئلے سے پاکستان لاتعلق نہیں تھا۔ اس دوران پاکستان شیخ عبداللہ کی اسیری کے ہر مرحلے پر اور عوامی ردعمل کے ہر مظاہرے پر اپنا ردعمل جاری کرتا رہا کیونکہ کشمیریوں کا کوئی مسئلہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ اسی دور میں صدر اور وزیراعظم کے عہدے ختم کرکے گورنر اور وزیراعلیٰ میں بدل دئیے گئے۔ بھارتی آڈیٹر جنرل اور الیکشن کمیشن کو کشمیر تک توسیع دی گئی۔ الحاق کو حتمی قرار دیا گیا آل انڈیا سروسز یعنی انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز اور انڈین پولیس سروسز کا دائرہ بھی کشمیر تک بڑھایاگیا۔1964 میں بھارتی آئین کی 356 اور 357 کے تحت ریاستی حکومت کی ناکامی کی صورت میں صدر راج کا اختیار دیدیا گیا۔ اس سارے ناجائز تجاوزپر بھی پاکستان نے ہر مرحلے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کیا۔ 1975میں اندراگاندھی اور شیخ عبداللہ کا معاہدہ ایک اندرونی معاملہ تھا جو کشمیر کی رہی سہی خودمختاری کو چاٹ گیا اور بھارتی سپریم کورٹ کا دائر جموں وکشمیر تک وسیع ہوگیا۔ پاکستان نے اس مسئلے کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دینے کی بجائے عام ہڑتال کی اپیل کی جس کا دنیا بھر کیساتھ ساتھ کشمیر میں بھرپور اثر ہوا اور اپنی ہڑتال کی کال کی اس عوامی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے اعتماد کیساتھ اعلان کیا کشمیریوں نے اس معاہدے کو کلی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس لحاظ سے دفعہ370 دہلی کے حاکم اور سری نگر کے محکوم حکمرانوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا مگر یہ بھارت کے ڈھانچے میں کشمیر کی الگ شناخت کی علامت تھی۔ بھارت نے آزادی کی اس عمارت کو پہلے خود ہی ویران کیا پھر اس کے دردیوار اکھاڑے اور پانچ اگست کو اس کا ملبہ بھی چرانے کی کوشش کی تاکہ ثبوت اور آثار باقی نہ رہیں۔ پاکستان کو ماضی کی روایت کے تحت ہر اس کشمیری کیساتھ کھڑا ہونا ہے جو لمحۂ موجود میں دہلی کے مقابل کھڑا ہوتا ہے۔ ایک فریق کے طور پر پاکستان کی یہ تاریخی ذمہ داری ہے۔