سعودی عرب میں سفری پابندیاں ختم

ویب ڈیسک (ریاض)سعودی عرب میں آج رات ایک بجے سے سفری پابندیاں اٹھالی گئی ہیں۔ سعودی عرب کے ایئرپورٹس، بندرگاہیں اور سرحدی چوکیاں سعودی شہریوں کے لیے کھول دی گئی ہیں۔

ریاض کےکنگ خالد ایئر پورٹ سے پہلی پروازرات ایک بجےکےبعد سرائیوو کے لیے روانہ ہوئی ہے۔

محکمہ پاسپورٹ نے بیان میں کہا گیا کہ ’وہی سعودی سفر کرسکیں گے جو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے ہوں، ایک خوراک لینے والےوہ افراد بھی سفر کرنے کے اہل ہیں جو پہلی خوراک لینے کے بعد چودہ دن گزار چکے ہوں۔

سعودی شہریوں پر انڈیا سمیت تیرہ ممالک کے سفر پر پابندی ابھی بھی پابندی رہے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کو بھی سفر کی اجازت ہوگی۔ اٹھارہ برس سے کم عمر کے سعودی شہریوں کو سفر کی مشروط اجازت ہے۔ساما سے منظور شدہ ہیلتھ انشورنس سکیم لے چکے ہوں اور اس میں بیرون مملکت کورونا کے خطرات کی کوریج شامل ہو۔

سعودی محکمہ شہری ہوابازی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ پابندیاں ختم ہونے کے ساتھ سعودی عرب سے لگ بھگ ایک لاکھ سعودی احتیاطی تدابیر کے ساتھ بیرون ملک کا سفر کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ’ سفر کرنے سے پہلے توکلنا ایپ ڈاون لوڈ کرکے اسے ایکٹو کرلیں۔ ایئرپورٹ جانے سے قبل ای ٹکٹ پرنٹ کریں اور پرواز سے بہت پہلے ایئر پورٹ پہنچ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ’ ایئرپورٹ صرف سفر کرنے والے ہی جا سکتے ہیں۔ غیر مسافروں کو ایئرپورٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی البتہ معذور مسافروں کے ہمراہی مستثنی ہوں گے‘۔

سعودی وزارت داخلہ نے بھی غیرملکی مسافروں کے حوالے سے تمام ضروری ہدایات اور ایس او پیز جاری کردی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ’ ایئر پورٹس پر مسافروں کو خیر مقدم کرکے امیگریشن کے لیے بھیجا جائے گا جبکہ ویکسین لگوانے والوں کے کاونٹر الگ ہوں گے۔

سعودی عرب کے نو ایئر پورٹس سے ایک دن میں 385 پروازیں چلائے جانے کی توقع ہے۔ ان میں جدہ ایئرپورٹ سے 75 پروازیں، ریاض سے 225 اور دمام ایئرپورٹ سے 66 پروازیں روانہ ہوں گی۔

شہری ہوابازی اور سفریات کے ماہر نواف الطحینی نے بتایا کہ ’بیشتر مسافر قاہرہ، دبئی، نیویارک او واشنگٹن جا رہے ہیں‘۔
انہوں نے مسافروں سے کہا کہ’ وہ ائیر پورٹ کا رخ کرنے سے قبل توکلنا ایپ اپ ڈیٹ کرلیں۔ اس کے بغیر انہیں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ توکلنا ایپ ایئر پورٹ پر داخلے کے لیے ضروری ہے۔

انہں نے مزید کہا کہ ’ہر مسافر نہ صرف یہ کہ متعلقہ ملک بلکہ ہر فضائی کمپنی کی سفری شرائط سمجھ کرسفر کا آغاز کریں۔