یک خوش کن بل

ایک بہت ہی خوش کن بات سامنے آئی ہے جس نے بے شمار دوسری باتوں کی بوریت میں خاطر خواہ کمی کر دی ہے ۔ خیبر پختونخوا میں زرعی اراضی پر غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیزپرپابندی عائد کرنے اور زرعی اراضی کوتحفظ فراہم کرنے کے لئے قانونی مسودہ تیار کرلیاگیا ہے ۔اس مسودے میں چند اہم باتوں کی نشاندہی اور اس کے حوالے سے فیصلے تجویز کیے گئے ہیں ۔ اجازت نامے لئے بغیر کسی کو بھی زرعی اراضی پر ہائوسنگ سوسائٹی تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اگرچہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ قانون سازی تو بہت پہلے ہی ہو جانی چاہئے تھی لیکن اب بھی بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ ابھی تو تکالیف کا آغاز ہی ہوا تھا کہ ہم نے ہمارے نمائندوں نے اس کے سدباب کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔ اور سچ پوچھئے تو اس آگہی میں موجودہ حکومت کا بھی خاصا بڑا کردار ہے ۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی اور پاکستان میں درختوں کی کمی کے حوالے سے خاصی بات چیت کی کئی اقدامات کئے اور مسلسل اس حوالے سے کسی نہ کسی طریقے اپنی حکمت عملی کو مشتہر رکھا۔ لوگوں میں اس حوالے سے ایک احساس آگہی اور شعور کو بیدار کرنے کا یہ فائدہ ہوا کہ کم از کم لوگ کسی نہ کسی حد تک حکومت کی اس کوشش میں شامل ہونے لگے ہیں۔ بل کا یہ مسودہ میں سمجھتی ہوں اسی آگہی مہم کا ایک نتیجہ ہے وگر نہ اس سے پہلے تو باوجود اس کے یہ بات کہیں ہمارے لاشعور کا بھی حصہ بن چکی ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے باوجود ماضی میں ہم نے نہایت بیدردی سے اپنی زرعی زمینوں کو ہائوسنگ سکیموں میں تبدیل ہوجانے دیا۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ملتان کے ان آم کے درختوں کا بہت شور و غوغا رہا جنہیں ایک ہائوسنگ سکیم کی تعمیر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ کبھی الزام ایک پر لگا کبھی دوسرے پر لیکن کسی نے یہ نہ سوچا کہ الزام کے اصل ذمہ دار تک پہنچ جانا بھی بھلا کسی مسئلے کا حل ہو گا۔ بہانے بنائے جائیں گے الزام تراشیاں ہونگی ۔ اور اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے جو اقدامات کئے جانے چاہئیں وہ نہ ہو پائینگے ۔ اس وقت عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ یہ بل انہی اقدامات میں سے ایک ہے ۔ اس بل کو آج سے کئی سال قبل منظور ہو جانا چاہئے تھا تاکہ پاکستان کا وہ نقصان نہ ہوتا جو اب تک ہو چکا ہے ۔ یہ نہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث پاکستان کا خطرے کا شکار ہونا کوئی حالیہ کیفیت ہے ۔ یہ سب آج سے کئی سال پہلے خطرے کی علامت کے طور پر سامنے آچکا تھا۔ پاکستان میں تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں نہایت اہم گلیشیئر اور برفانی جھلیں موجود ہیں۔ گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اور ان برفانی جھیلوں کی سطح آب میں اضافہ ایک عرصے سے بین الاقوامی ماہرین کی نظر میں ہے ۔ پاکستان کو اس حوالے سے خبردار بھی کیا جاتا رہا لیکن اس وقت کی حکومت کے لئے یہ سب باتیں اہم نہ تھیں ان کے لئے درختوں کے جھنڈ کاٹ کر سڑکیں بنانا اہم تھا۔ ان کے لئے سمینٹ اور گارھے کی بنی عمارتیں اور پراجیکٹ اہم تھے کیونکہ ان میں کک بیک اور کمیشن رکھے جا سکتے تھے ۔ اس حکومت کی نااہلی نے ان کی بدعنوانی پر دھول اڑا دی ہے اور آج کی مشکلات میں الجھ کر ہم یہ بھولنے لگے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومتوں نے اس ملک و قوم کو پکے تہہ در تہہ ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔سڑکوں کی تعمیر کے نام کے پراجیکٹ میں صرف کمیشن ہی نہیں بنتا تھا وہ درخت بھی کٹ جاتے تھے جو ہمیں مستقبل کے نقصان سے بچا سکتے تھے ۔ بہت لمبی چوڑی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ پشاور کی بی آر ٹی اور لاہور کی اورنج لائن کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی میں کس قدر اضافہ ہوا کتنی دھول مٹی کتنے سالوں تک اڑتی رہی کتنے درخت کٹے شہریوں کو کتنی کوفت کا سامنا رہا۔ اگر اس کا مالیاتی اندازہ لگایا جا سکے ۔ اس کا حساب ہو سکے اور جو ہو سکتا ہے لیکن غریب ملکوں میں اس کا حساب نہیں کیا جاتا تو ان پراجیکٹس کے باعث سڑکوں پر ضائع ہوئے اور کوئی تعمیراتی کام نہ ہوا تو کوئی عدالت ان حکومتوں کو اور یہ فیصلے کرنے والوں کو بری الذمہ نہ ہو سکتی لیکن ابھی ہم اتنے اہم کہاں ہیں کہ ایسے حساب لگائے جائیں۔ ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہونے والے ملک اکٹھے ہو کر عالمی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کر سکتے ہیں کہ بڑے ملکوں کی صنعتی آلودگی ان کے لئے جانی نقصان کا باعث بن رہی ہے اور انہیں اس کا زرتلافی ادا کیا جائے ۔ابھی تک یہ تو نہیں ہوسکا لیکن بہرحال ہمارے وزیراعظم کو یہ خیال آیا ہے کہ ماحولیات کی بہتری کے لئے امیر ملکوں کو فنڈ دینا چاہئے ۔ اس حکومت کی ساری نااہلی اپنی جگہ صرف ماحولیاتی آلودگی کی طرف اس کی توجہ اور درخت لگانے کی اس مہم کا پلڑا میری نظر میں اتنا بھاری ہے کہ شاید اگلے انتخابات میں بھی ان کے حوالے سے مثبت سوچ رکھی جا سکتی ہے ۔ اور یہ بل بہر حال جماعت اسلامی کی جانب سے ہی متوقع تھا کیونکہ بقول اناطول لیون ''یہ ایک پڑھی لکھی اور روشن دماغ لوگوں کی جماعت ہے''۔