کوئی اردو کوکیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں

آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا بلکہ اگر مرزا غالب کی زبان میں اس پر تبصرہ کیا جائے تو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
اس نخچیر یعنی شکار سے محبت کرنے کا ڈھنگ بابائے قوم نے سکھایا تھا مگر ہم ہی بھول بیٹھے تھے بھولے یوں تھے کہ 1973ء کے آئین میں اسے اس کا درست مقام دلانے اور سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے لئے ایک خاص مدت کا تعین تک کر لیا گیا تھا تاکہ اس دوران قومی زبان کے طور پر اس کو دفتری زبان بنانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جا سکیں۔ مقتدرہ قومی زبان نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور تمام تر سرکاری مراسلات یعنی خط و کتابت احکامات ہدایات کے لئے انگریزی زبان کے مترادفات پر تیزی سے کام شروع کیا گیا اور پھر ایک کتابچہ مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کے لئے ہدایات بھی سامنے آئیں ابتداء میں تھوڑا بہت کام ہوا بھی ہمیں یاد ہے کہ جس زمانے میں ہم ریڈیو پاکستان میں ہوا کرتے تھے اس حوالے سے اردو زبان کو بطور سرکاری زبان تمام تر خط و کتابت ہدایات وغیرہ استعمال کرنے کے لئے بطور نمونہ جو سکرپٹ یعنی مسودے مرتب کئے گئے تھے ان پر نہ صرف ہمیں عمل کرنے کی تلقین کی گئی تھی بلکہ اس کو عام کرنے کے لئے پروگراموں میں شامل کرنے کی ہدایات بھی آئی تھیں کچھ عرصہ تو یہ سلسلہ چلتا رہا مگر خدا جانے پھر کیا ہوا کہ یہ سلسلہ موقوف ہو گیا ممکن ہے اس کا کارن وہ مسودات تھے جن کی طرز تحریر کسی حد تک ادق یعنی مشکل تھی اور اسے سمجھنے کے لئے ادیب فاضل اور منشی فاضل کا ہونا ضروری تھا اب بھی آپ دیکھیں تو ہمارے ہاں قانون کی زبان یعنی تھانوں سے لیکر عدالتی نوٹسز اور دیگر قانونی معاملات میں رواں اردو کے بجائے ذرا مختلف انداز کی اردو زبان استعمال کی جاتی ہے مثلاً جہاں'' نہیں ہے'' کا استعمال ہونا چاہئے وہاں ''نہ ہے'' لکھا جاتا ہے اور یہ ا نگریزی کے دورسے چلا آرہا ہے اغلب گمان یہی ہے کہ یہ جو اساتذہ نے اردو زبان کے حوالے سے کچھ دعوے کئے ہیں ان کا کارن بھی ایسی ہی نامانوس زبان ہی ہو اگرچہ استاد ذوق نے تو معاصرانہ چشمک کی بناء پر غالب جیسے نابغۂ روزگار ہستی کو بھی نہیں بخشا اور ان کی مشکل پسندی اور طرز بیدل سے متاثرہ شاعری پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یاخدا سمجھے
خیر وہ تو دو استادوں کے بیچ زباندانی کی جنگ تھی تاہم اتنا ضرور ہوا کہ اس کے بعد مرزا غالب نے بھی یہ کہہ کر مشکل پسندی کو خیر باد کہہ دیا کہ
طرز بیدل نہیں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
اور اس کے بعد جوشاعری انہوں نے کی اس نے بڑے بڑے استادوں کے چھکے چھڑا دیئے اسی پر تو مرزا نے استاد شاہ یعنی استاد ذوق پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی تو کہا تھا کہ بنا ہے شہ کا مصاحب پھر ے ہے اتراتا ان کے اس مصرعے نے تو جیسے لال قلعہ سے لیکر دلی کے بازاروں گلیوں تک میں ایک دھوم مچا دی تھی جبکہ استاد ذوق تلملاتے رہے تاوقت یہ کہ غالب نے دربار میں اس شعر کا دوسرا مصرعہ پڑھ کر بظاہر تو اس آگ کو ٹھنڈا کیا مگر تاڑ نے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں کے حوالے سے استاد ذوق اچھی طرح جانتے تھے کہ مرزا غالب نے انہی کی بھد اڑائی ہے ادھر نواب مرزا داغ دہلوی نے بھی اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ کہہ کراردو کے پھرپریرے لہرانے کا جو بیانیہ اختیار کیا اسے اصغر علی نسیم نے یوں کہہ کر مکمل کرنے کی کوشش کی کہ
نسیم دہلوی ہم موجد باب فصاحت ہیں
کوئی اردو کوکیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں
قطع نظر اس ساری بحث کے ہمیں وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے بالآخر بابائے قوم کی خواہش کی تکمیل کی ابتداء کر دی ہے اور اگرچہ ابتداء میں وزیر اعظم کے لئے منعقدہ تقاریب کی کارروائی کے لئے اردو زبان استعمال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ ایک ٹویٹ کے ذریعے وزیراعظم کے مشیر نے تمام وزراء اور عہدیداران کو بھی عوام سے مخاطب ہونے کے لئے اردو ہی کا سہارا لینے کی ہدایت دی ہے تاہم دیگرسرکاری معاملات میں اردو کا استعمال کب کیا جاتا ہے یعنی اردو کو اس کا جائز حق کب ملتا ہے اس کے لئے کچھ نہ کچھ انتظار تو کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے احمد فراز کے کہے پر عمل کیا ہے
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے