ریل کے بڑھتے حادثات

ڈہرکی کے قریب ٹرین کے خوفناک حادثہ میں55افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے ، ملت ایکسپریس کی 10 بوگیاں پٹڑی سے اترکرمخالف ٹریک پر آگئیں، دو منٹ بعد ہی سرسید ایکسپریس گرنے والی بوگیوں سے ٹکرا گئی، حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہوگئی،100سے زائد زخمی ہوئے پاکستان ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں (2018سے جون2021تک)ٹرینوں کے مجموعی طور پر434حادثات پیش آ چکے ہیں۔ان حادثات میں230افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے جبکہ285شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں100مسافر121راہ گیر اور نو ریلوے ملازمین شامل ہیں۔حکام کے مطابق یہ حادثات خستہ حال ریلوے ٹریک، ریلوے کے پرانے ڈھانچے، سگنلز میں خرابی، غلط کراسنگ، ریلوے لائن پر پھاٹک کی عدم موجودگی، ڈرائیورز کی غلطی، اور اسی طرح کی دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث پیش آتے ہیں۔ریلوے کے وزیر ہوں یا اعلی حکام، ان حادثات سے بچنے کا ایک ہی حل تجویز کرتے ہیں کہ اگر ایم ایل ون منصوبہ مکمل ہو جائے تو حادثات میں کمی واقع ہو جائے گی۔ویسے تو یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے بلکہ پاکستانی حکام کا دعوی ہے کہ یہ سی پیک منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے تاہم اس پر تاحال کام شروع نہیں ہو سکا۔ہر بار ریلوے حادثے کے بعد اس کی وجوہات کی تحقیقات کا حکم دیا جاتا ہے ذمہ داری کا تعین بھی ہوتا ہے لیکن کبھی ریلوے کے کسی وزیر نے ذمہ داری لی یا پھر سیکریٹری ریلوے اور اعلیٰ سطح کے افسران پر ذمہ داری عاید کی گئی ہو اس مرتبہ بھی ایسا ہی متوقع ہے جس سے قطع نظر یہ بات بہرحال اپنی جگہ مبنی برحقیقت اور قابل توجہ ہے کہ ہمارے ریلوے کا نظام گزشتہ صدی کا ہے دنیا بھر میں ٹرینیں متروک ہیں جس کے باعث ان کے پرزے بھی خاص طور پر آرڈر اور ڈائی بنوا کر بنانے کے باعث مہنگی ترین پڑتے ہیں۔ ریلوے ٹریک خستہ حال ہو سگنلز کا نظام جواہم ترین نظام مقصود ہوتا ہے فرسودہ دقیانوسی اور مشینی ہونے کی بجائے انسانی ہاتھوں اور غلطی کی اضافی گنجائش رکھتے ہوں حادثات کی تکنیکی وجوہات غالب ہوں تو پھر اس طرح کے حادثات معمول بن جاتے ہیں امر واقع یہ ہے کہ ریلوے کے نظام کی بہتری اور جدید ریلوے نظام متعارف کرانے کے لئے حکومت اور محکمے کے پاس نہ تو مہارت و تجربہ ہے اور نہ ہی وسائل اس کا حل سی پیک میں شامل کرکے نکالا گیا لیکن وزیر اعظم کے زیر صدارت اعلیٰ ترین اجلاسوں میں غور اور مساعی کے باجود ایم ایل ون پرعملی کام شروع نہ ہونا اور تاخیر اس منصوبے سے امیدوں کو مایوسی کی طرف موڑنے کا باعث بن رہا ہے ۔متروک اور بوسیدہ و خطرناک ریلوے نظام سے شرح سے حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے صرف موجودہ دور حکومت میں جتنے حادثات اور اموات ہوئی ہیں اسے دیکھ کر ریلوے کے محکمے اور سروس کو مکمل بند کرکے جدید ریلوے نظام رائج ہونے تک اسے متروک قرار دینے کی تجویز تو مناسب لگتی ہے مگر اس پر عملدرآمد ممکن نہیں۔دوسری طرف عالم یہ ہے کہ قیمتی انسانوں کے ضیاع کا سلسلہ ہے کہ رکتا نہیں۔ ریلوے پاک فوج کے بعد سرکاری ملازمت دینے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے اسی صورت میں حکومت کے پاس سوائے اس کے کوئی اور راستہ بچتا ہی نہیں اور سب کا اس پر اتفاق بھی ہے تو جتنا جلد ہو سکے ایم ایل ون پر کام شروع کیا جائے اور اس کی جلد سے جلد تکمیل یقینی بنا کر عوام کی جدید محفوظ اور تیز رفتار ریلوے کی خدمات مہیا کی جائیں۔