ذمہ داری

''دنیا کے مشہور ترین مصنفین میں سے ایک جیک کین فیلڈ ہے ۔ان کی پچیس کروڑ سے زائد کتابیں فروخت ہوچکی ہیں اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ ملازمت میں جیک کا پہلا ہفتہ تھا جب اس کے مالک نے اسے بلایا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا :کیا تم اپنی زندگی میں ہونے والے واقعات کی سو فیصد ذمہ داری لیتے ہو ؟جیک نے سر ہلایا ۔'' میرے خیال میں ، جی ہاں ، ایساہی ہے !''
'' شہزادے ، مجھے ہاں ، یا ناں میں جواب دو۔باس کی گرجدار آواز گونجی ۔'' اوہ ، سچ پوچھو تو مجھے اندازہ نہیں ہے کہ آپ کیا جاننا چاہتے ہیں ۔'' جیک نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔
چلو میں کچھ اسان کردیتا ہوں ، کیا تم نے آ ج تک اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھرایا ہے ؟''
'' کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے تم اپنی زندگی میں گڑبڑ ہونے کا الزام دے سکو۔''
'' آں ،ہاں ۔۔میرے خیال میں ایک دوایسے لوگ ضرور موجودہیں ۔'' جیک کے منہ سے بے اختیار نکلا ۔ آگے سے روکھا جواب ملا '' ہوں ۔ پھر تم میرے زیادہ کام کے نہیں ہو ۔ مجھے ان لوگوں کی تلاش ہے جو دوسروں پر الزام دھرنے کی بجائے اپنے کئے دھرے کا بوجھ خود اٹھاسکیں ۔دنیا بدلنے والے لوگوں نے کبھی کسی کو الزام نہیں دیا ۔کامیاب ہوں ، یا ناکام ۔سو فیصد اس امر کی ذمہ داری لیتے ہیں ۔مجھے وہ لوگ نہیں چاہئیں جو پانی ،ہوا،ماحول ، بارش ،بجلی ، گرمی ،سردی وغیرہ پر اپنا الزام دھر دیں اورکسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں پناہ لینے کی کوشش کریں۔''جیک کین فیلڈ کا کہناتھا کہ اسی دن اس نے تہیہ کرلیا کہ آج کے بعد وہ کسی پر بھی الزام تراشی نہیں کرے گا ۔کیونکہ اس کے بقول اس نے کامیابی کے پہلے گر کو پالیاتھااور پھر اس کے بعدوہ آگے بڑھتا گیا اور کبھی مڑکر پیچھے نہیں دیکھا۔'' (عارف انیس )
کیا انسان اپنی زندگی کے تمام ترمسائل ،مصائب اور ناکامیوں کا خود ہی ذمہ دار ہے ۔مگر کیسے؟ اس سوال کی تہہ تک پہنچنے کی ہم نے بہت کوشش کوشش کی مگر بے سود !
بالاخر ایک فلسفی سے ہمیں اس سوال کا جواب ملا۔۔کیا خوب کہا۔' 'ایک سمندر کچھ نہیں ہے ماسوائے شبنم کے لاکھوں ۔۔۔کروڑوں ۔۔۔اور اربوں قطروں کے۔۔شبنم کا ایک قطرہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس سمندر کی تخلیق میں وہ بھی حصے د ار ہے ۔شراکت دار ہے لیکن اس کے باوجود بھی شبنم کا قطرہ برابر کا حصے دار ہے ،کیونکہ شبنم کے قطرے کی عدم موجودگی میں کوئی سمندر وجود میں نہ اتا۔سمندر محض ایک نام ہے جبکہ حقیقت شبنم کے قطرے میں پنہاں ہے ۔ہر انسان اپنی دنیاوی و اخروی زندگی کے تمام ترمسائل ،مصائب اور ناکامیوں کے لئے اگر چہ خود ہی ذمہ دار ہوتاہے ،مگر کسی بھی حالت میں اپنی یہ ذمہ داری پوری جرات کے ساتھ قبول نہیں کرتا۔الایہ کہ وہ انسان کامل ہو۔ ''
اگر ہم انسان کو درپیش مسائل اور مصائب کی گہرائی میںجاکر پتہ لگانے کی کوشش کریں تو وہ اس کی اپنی کسی کئے کا دھرا ہو گا لیکن وہ اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے کر دوسروں کو ان کا ذمہ دار ٹھراتا ہے ۔اس ضمن میں اپنی ناکامیوں کا الزام کسی اور پر دھرنا قرین انصاف نہیں ہے ! اگر زندگی اپنے اعمال کا نام ہے تو اس کے اندر پیداہونے والے بگاڑ اور فساد کے بھی آپ خود ہی ذمہ د ار ہیں۔ اگر آپ ذمہ داری اٹھانا نہیں چاہتے تو آپ اپنی آزادی کھو دیتے ہیں ۔ آزادی اور ذمہ داری ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔یہ ایک سکے کے دورخ ہیں۔اگراپ حقیقی معنوں میں ازادی چاہتے ہیں تو اپ کو اپنے ہر عمل کا ذمہ ار ہونا پڑے گا ۔اپنی ذمہ داری دوسرے کے حوالے کردینے کا مطلب ،اپنی زندگی کی باگ ڈور دوسروں کے حوالے کردینے کامترادف ہے اور جب آپ اپنی زندگی کی باگ ڈور وسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں تو اپ اپنی ازادی اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے حق سے محروم ہوجاتے ہیں۔جب ذمہ داری دوسروں کی ہوگی تو پھر اختیار بھی دوسروں کا ہی ہوگا۔ایک بنیادی نکتہ ہمیشہ یاد رکھیں۔ اگر آپ مکمل طور پر آزاد ہونا چاہتے ہیں اور آج کی اس تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں محو پرواز ہونا چاہتے ہیں تو سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کی ذمہ داری کو مکمل طور پر قبول کریں ۔جس دن اپ ذمہ اری کو مکمل طور پر قبول کرکے بہانے بنانا چھوڑ دیتے ہیں' وہی دن اپ کے لئے ترقی کے منازل طے کا پہلا زینہ بن جاتا ہے ۔' 'میں ذمہ دار ہوں ۔اپنے سارے دکھوں کا،اپنے درد کا،اس کا جو میرے ساتھ ہوچکا ہے ،اور ہورہا ہے ۔ان کا انتخاب میں نے ہی تو کیا تھا۔یہ بیچ میں نے ہی بوئے تھے اور اب اس کا فصل کاٹ رہا ہوں ۔میں خود ہی اپنی پریشانیوں کے مصنف ہوں ۔ ان کی وجہ بھی میں خود ہی ہوں اور اس کا انحصار بھی مجھ پر ہی پر ہے۔میرے سوا اور کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں۔یہ سب میرا ہی انتخاب کردہ ہے۔ دوسروں کا تھوپاہوا نہیں ہے ۔ ان سب کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ان کا ذمہ دار میرے سوا کوئی اور نہیں اور ان پر میں نے خو دسرمایہ کاری کی ہے۔یہ سب کسی اور نے مسلط نہیں کئے بلکہ یہ میرا اپنا انتخاب اور میرے اپنے ہی کئے کا دھرا ہے۔''