لوڈشیڈنگ کم تنخواہ اور طلبہ فیسیں

گرمی شدت اختیار کرے اور صوبہ کے طویل و عرض میں موجود ہمارے قارئین لوڈ شیڈنگ کے علاوہ اور روزانہ کی طویل لوڈ شیڈنگ سے ہٹ کر بھی بجلی کی بندش کی شکایات کے ڈھیر نہ لگا دیں یہ ممکن ہی نہیں، ہر سال کالم کے شکایتی نمبر پر جگہ جگہ کے قارئین اس امید پر شکایات بھیجتے ہیں کہ اس طرح سے شاید ان کی سنی جائے او رکوئی ان کی شنوائی کرے ۔ لوڈ شیڈنگ واقعی اس موسم کا سنگین ترین مسئلہ ہے جس کی وجہ اگر جان لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ عام طور پرہم سمجھتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار صارفین کی ضروریات سے کم ہو گی لیکن حقیقت یہ نہیں حکام کے مطابق ملکی ضروریات سے زائد بجلی پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اضافی بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود حکومت کو اس کی قیمت ادا بھی کرنا پڑتی ہے ۔ لوڈ شیڈنگ کی بنیادی اور اصل وجہ بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ ترسیلی نظام ہے ۔ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 35سے 37 ہزارمیگا واٹ تک کا ہے ۔ یوں پیداوار ضرورت سے زائد مگر ترسیلی نظام کی کمزوری کے باعث عوام لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش کا عذاب سہتے ہیں ترسیلی نظام کو بہتر بنایا جائے تو عوام کی اس عذاب سے جان چھوٹے مگر وسائل اور دیگر مسائل مرکز و صوبوں کے معاملات اور ذمہ داریوں کی بھول بھلیوں میں ملک اور عوام دونوں بھٹک رہے ہیں۔ بجلی کی بندش ہی لوگوں کا مسئلہ نہیں بجلی آئے بھی تو لوگوں سے ناانصافی ہوتی ہے عوام کو سلیب کے چکر میں لوٹا جاتا ہے ۔
چارسدہ پڑانگ سے اشتیاق حسین نے نجی تعلیمی اداروں کے ملازمین کو کم سے کم تنخواہ کا بھی نصف ادا کرنے پر صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی کی توجہ دلائی ہے ان کا کہنا ہے کہ وزیر صاحب اس حوالے سے خوش آئند بیانات ضرور دیتے ہیں اب تو کم سے کم تنخواہ بھی اکیس ہزار کر دی گئی ہے لیکن نجی اداروں میں کسے کتنی تنخواہ ملتی ہے اس کو کبھی چیک کروائیں ریکارڈ میں ممکن ہے ملازمین کی تنخواہ مقررہ کم سے کم تنخواہ سے بھی زیادہ ہو لیکن درحقیقت اس کا نصف ہی بمشکل ملتا ہے اس لئے محکمہ محنت کے انسپکٹرز اگر ملازمین سے پوچھ لیں تو حقیقی صورتحال کا علم ہوگا جن اداروں کے ملازمین کی تنخواہ بینک سے ملتی ہے ان کی معلومات بینک سے لی جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا۔ حکومت کرناچاہے تو کئی طریقے ہیں لیکن کوئی کرے تو۔میڈیکل کے ایک طالب علم نے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد طویل مراحل اور اخراجات کا رونا روتے ہوئے اسے ناانصافی سے تعبیر کیا ہے میرے خیال میں یہ ان کا نقطہ نظر ہے میں اس امر سے اتفاق کرتی ہوں کہ انسانی زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جس پیشے کے افراد انسانی صحت اور زندگیوں سے متعلق ہوں ان سے کڑے سے کڑا امتحان لیا جائے البتہ بھاری فیسوں کی وکالت نہیں ہو سکتی ۔ میڈیکل کے طلبہ جو محنت کے بل بوتے پر سرکاری میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہوں ان سے کم اور رعایتی فیس اور جو بھاری فیس دے کرنجی میڈیکل کالجوں سے پڑھ کر آئے ہیں ان سے زیادہ فیس کی وصولی پر غور ہونا چاہئے لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یکساں فیس وصول ہو ۔ بہر حال میں طالب علم کے برقی پیغام کے برعکس رائے اس لئے رکھتی ہوں کہ دیگر شعبوں کی طرح اب میڈیکل کی فیلڈ میں بھی مختلف وجوہات کی بناء پر قابلیت کو جانچنے اور بار بار جانچنے کی ضرورت مجبوری بن گئی ہے ناانصافی نہیں۔
ایک برقی پیغام میں طالب علم قاری نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ انہوں نے ذیل شکایت تین مہینے قبل پاکستان سیٹیزن پورٹل پر کی تھی اور اس کے جواب میں ان کو ''یہ کمپلینٹ پہلے سے ہی موجود ہے'' بتایا گیا۔ لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔
شکایت کا متن یہ تھا ۔
وزیراعظم صاحب! میں جامعہ زرعیہ پشاور کا طالبعلم ہوں۔ پچھلے سال جب کورونا کے باعث مارچ میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان ہوا تو ان دنوں ہم نے سالانہ ہاسٹل فیس جمع کرائی تھی۔ ہمارے ہاسٹلز بند کر کے ہمیں گھر بھیجا گیا اور یوں ہم ستمبر تک گھر میں رہے۔ اس کے بعد دوبارہ فزیکل کلاسز شروع ہوئیں تو ہم دوبارہ ہاسٹل آئے لیکن بمشکل دو ماہ گزارے تھے کہ دوبارہ لاک ڈان کا اعلان کیا گیا اور ہمیں چھٹی پر گھر بھیج دیا گیا۔ ہم سے ایک سال کیلئے مکمل ہاسٹل فیس لی گئی تھی جبکہ ہمیں بمشکل دو مہینے ہی ہاسٹل میں رہنے دیا گیا۔ دوسری کئی یونیورسٹیوں کی بھی یہی صورتحال تھی، ان کو ہاسٹل فیس میں بڑا حصہ ری فنڈ کیا گیا لیکن جامعہ زرعیہ میں اس حوالے سے ہمارے مطالبات پر کان نہیں دھرا گیا اور ہمیں کوئی فیس ری فنڈ نہیں کی گئی۔ گزارش ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو حکم دیں کہ ہم طلبا و طالبات جن میں سے اکثریت مڈل یا لوئر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور جو ہاسٹلز میں رہتے ہیں، ان کو پچھلے سال کی فیس میں کم از کم 50 فیصد ری فنڈ کیا جائے۔ ۔صرف یہی نہیں اس سال بھی ہم سے ہاسٹل فیس لی گئی اور اب پھر سے ہم اتنے عرصے سے گھر پہ ہیں اور یقیناً ہمیں اس کا بھی کوئی حصہ ری فنڈ نہیں کیا جائے گا۔ جو صورت طالب علم نے بیان کی ہے وہ ازخود واضح ہے سیٹزن پورٹل کے حوالے سے بھی ایک عملی تجربہ سے آگاہی ہوئی مزید سوائے اس کے کیا کہا جائے کہ کوئی تو ان کی سنے۔
(قارئین اپنے مسائل اور شکایات 03379750639 پر وائس میسج، وائٹس ایپ اور ٹیکسٹ کر سکتے ہیں)