37برس سے سلگتاہواخالصتان کا مسئلہ

بدنام زمانہ آپریشن بلو سٹار کی سنتیسویں برسی کے موقع پر بھارتی پنجاب سمیت دنیا بھر میں سکھوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں ۔ ان مظاہروں کے دوران دربار صاحب امرتسرسمیت کئی مقامات پر خالصتان کے پرچم لہرائے گئے ۔لندن میں بھارتی ترنگا نذر آتش کیا گیا ۔دربار صاحب میں ایک بڑے اجتماع میں سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی تصاویر اور خالصتان کے پرچم لہرائے گئے ۔گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے مظاہرین کے اس حق کا بھرپور دفاع کیا ہے ۔گزشتہ برس بھارت کے اخبار انڈیا ٹوڈے کی لندن کی نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ ہیلوک روڈ ساوتھ ہال برطانیہ میں سکھوں کے سب سے بڑے گوردوارے'' گورو سری نگھ سبھا ''کے باہرسکھ مذہب کے پانچویں گوروارجن دیو کے ساتھ خالصتان نواز مقتول لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی قدآدم تصویر نصب کر دی گئی ۔نامہ نگار نے اس صورت حال پر ایک جملے کی صورت اپنی ناگواری کا اظہار یوں کیا تھا کہ ارجن دیو نے سکھ مذہب کے لئے جان دی جبکہ بھنڈرانوالہ پر سکھوں کے نام پر لوگوں کی جانیں لینے کا الزام ہے ۔اخبار کے مطابق اسی گوردوارے میں خالصتان کے لوگو والی جیکٹس پہنے لوگ کورونا بحران کے دوران مستحق عوام میں امدادی پیکٹ تقسیم کرتے رہے ۔ برطانیہ میں ''ریفرنڈم خالصتان 2020''کی زوردار مہم بھی کورونا کی وجہ سے ملتوی ہوگئی تھی مگر اس کے باوجود خالصتان کا مسئلہ ختم نہیں ہوا ۔یہ جون کا پہلا ہفتہ ہے اور یہ مہینہ اور ہفتہ ہرسال دنیا بھر میں پھیلے سکھوں کے برسوں پرانے زخم تازہ کرجاتا ہے۔1984کا سال سکھوں کے قومی حافظے کے ساتھ مستقل طور پر چپک کر رہ گیا ہے جب بھارتی حکومت اور ریاست نے آزاد وطن کے لئے سکھوں کی مقبول تحریک کو دربار صاحب امرتسر میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعے کچل کر رکھ دیا تھا۔اس تحریک میں آئیکون کی حیثیت رکھنے والے نوجوان سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ بھی اس خونیں آپریشن میں کام آئے تھے ۔بھنڈرانوالہ کا ظہور سکھوں کے اس احساس زیاں کا نتیجہ تھا جس نے آزادی ہند کے وقت سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ کی طرف سے کانگریس کا ساتھ دینے سے جنم لیا تھا ۔ماسٹر تارا سنگھ نے قائد اعظم محمد جناح کے باربار سمجھانے کے باجود اپنا وزن کانگریس کے پلڑے میں ڈالا اور یوں پنجاب تقسیم بھی ہو گیا اور اس تقسیم نے بدترین فسادات کی بنیاد بھی رکھی ۔آزادی کے بعد نئی دہلی کے سلوک نے سکھوں کی نئی نسل کو یہ باورکرایاکہ ان کی قیادت کا فیصلہ قطعی غلط اور مصلحت پسندی پر مبنی تھا ۔اسی احساسِ زیاں نے سکھ نوجوانوں کا انقلابی راستوں کی جانب مائل کیا ۔شعلہ بیاں بھنڈرانوالہ نے اپنی تقریروں سے پنجاب کے کھیت وکھلیان میں آگ سی لگا دی۔پہلے پہل اندرگاندھی نے سکھ نوجوانوں کی اس تحریک کو پنجاب میں اپنی سیاسی حریف سیاسی جماعت اکالی دل کو سیاسی نقصان پہنچنے کی امید پر حالات سے نظریں چرائے رکھیں جب انہیں یہ اندازہ ہوا کہ سکھ نوجوان وقتی سیاسی مقاصد کی بجائے خالصتان کو ایک نظریے کے طور پر اپنا چکے ہیں تو بھارتی حکمرانوں کا ماتھا ٹھنکا اور انہوںنے اس تحریک کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ۔بھنڈرانوالہ نے سکھوں کے سب سے متبرک مقام دربار صاحب امرتسر میں مورچہ لگالیا اور وہیں سے خالصتان تحریک کا پرچار کر نے لگے ۔اندر اگاندھی نے دربار صاحب کو بھنڈرانوالہ سے چھڑانے کے لئے آپریشن بلو سٹارکے نام سے فوجی آپریشن کی منظوری دی اور جون کے پہلے ہفتے سے بھارتی فوج نے ٹینکوں اور بکتر گاڑیوں سے دربار صاحب کا محاصرہ کر لیا ۔یہاں تک کہ سات جون کی شب بھارتی فوج نے دربار صاحب کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔اس آپریشن میں بھنڈرانوالہ سمیت خالصتان تحریک کی اعلیٰ قیادت ماردی گئی جبکہ سینکڑوں عام لوگ بھی مارے گئے ۔اس آپریشن کے خلاف احتجاج کے طور سکھوں نے فوج اور پولیس اور بیوروکریسی سے استعفے دئیے ۔سابق سکھ فوجیوں نے اپنے تمغے اور خطاب واپس کئے اور یوں سکھوں نے ریاست کے اس اقدام کو اجتماعی طور پر مسترد کر دیا ۔چار ماہ بعد دو سکھ محافظوں نے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا اور یوں سکھوں پر چار ماہ بعد ایک اور قیامت برپا ہوئی ۔اس واقعے کے ردعمل میںہندوئوں نے ہزاروں سکھوں کو بے دردی سے قتل کر دیا اور دہلی کی گلیاں خالصہ لہو سے رنگین ہو گئیں۔اس کے بعد سے خالصتان تحریک پنجاب کے میدانوں سے یورپ اور امریکہ تک پھیل گئی ۔سکھوں کی تحریک کی طرز پر ہی چند سال بعد کشمیری نوجوانوں نے مزاحمت کا آغاز کیا اور بھارت نے اس تحریک کو بھی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی مگر تیس برس ہوگئے بھارت کو ہر محاذ پر ناکامی ہورہی ہے ۔ایک کے بعد دوسرا کشمیری ہیرو بندوق لہراتا ہوا میدان میں نکلتا ہے اور بھارت کو عاجز اور بے بس کر دیتا ہے۔لندن کے گوردوارے میں بھنڈرانوالہ کی تصویر کا سجنا اور شدید سیکورٹی میں گولڈن ٹیمپل پر خالصتان کا پرچم لہرا نااس بات کاثبوت ہے کہ بھارت کشمیریوں کی طرح سکھوں کے دل سے بھی آزادی کی خواہش ختم نہیں کر سکا۔خود سکھ بھی آپریشن بلوسٹار میں لگنے والے اپنے زخموں کو تازہ رکھنا چاہتے ہیں وہ اس درد وکرب کو اگلی نسلوں تک منتقل کر ررہے ہیں۔اس بار کسان تحریک کے احتجاج نے اس درد کو بڑھا دیا ہے ۔پنجاب کے سکھ کسان سمجھتے ہیں کہ زرعی قوانین ان کی طاقت کو ختم کرنے کے لئے نافذ کئے گئے ہیں ۔