بجٹ 22-2021: تنخواہ اور پینشن میں 10 فیصد اضافہ، 850 سی سی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی ختم

ویب ڈیسک (اسلام آباد): وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر دیا، بجٹ 8 ہزار 487 ارب روپے کا ہو گا، خسارے کا تخمینہ تین ہزار نو سو نوے ارب رکھا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ کی تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم آج تحریک انصاف کا تیسرا بجٹ پیش کررہے ہیں، مشکل ترین حالات کے باوجود آج ہم کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ہمیں مشکل ترین حالات میں حکومت ملی مگر ہم نے عمران خان کی قیادت میں اس بحران پر قابو پایا ہے، بھاری بھرکم گردشی قرضے ہمارے لیے چھوڑا گیا مگر اس کے باوجود 5.5 شرح ترقی کا ڈھول سابق حکومت نے پیٹا۔ اگر ہم آتے ہی ادائیگیاں نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کرچکا ہوتا، ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ڈیفالٹ سے بچنا تھا، ہمیں کورونا کے باعث معیشت کے استحکام کے لیے وقت لگا مگر ہم نے مشکل فیصلے عمران خان کی قیادت میں کئے، 20 ارب ڈالر کے کرنٹ خسارے کو 800 ملین ڈالر کے سر پلس میں تبدیل کیا۔ اخراجات میں کفایت شعاری اور آمدن میں اضافے کے لئے اقدام اٹھائے، ہم نے احساس پروگرام شروع کیا، ہم ملک کو معاشی استحکام دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے مزید کہا کہ یکم جولائی سے وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، یکم جولائی سے تمام پینشنرز کی پینشن میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے کی جا رہی ہے، یکم جولائی سے وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا۔ یکم جولائی سے تمام پینشنرز کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے کی جا رہی ہے۔

ویکسین کی درآمد پر 1.1 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جون 2022 تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی، پی آئی اے کے لیے بیس ارب روپے اور اسٹیل ملز کے لیے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں، وفاقی ٹیکسوں میں سے صوبوں کو 707 ارب روپے اضافی دیے جائیں گے، بجٹ تقریر میں کہا کہ وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 3411 ارب روپے ہوگا، اپوزیشن کے کلبھوشن کا جو یار ہے غدار ہے غدار کے نعرے لگائے، جون 2022 تک 10 کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

پی آئی اے کے لیے 20 ارب روپے اور اسٹیل ملز کے لیے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں، وفاقی ٹیکسوں میں سے صوبوں کو 707 ارب روپے اضافی دیے جائیں گے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 3411 ارب روپے ہوگا، خیبرپختونخواہ میں ضم ہونے والے فاٹا کے اضلاع کی ترقی کے لیے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، چھوٹے کاروبار کو سہولت دینے کے لیے سالانہ ٹرن اسور کی حد ایک کروڑ کی جارہی ہے، مقامی طور پر بنائی جانے والی 850سی سی تک کی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی چھوٹ اور سیلز ٹیکس میں کمی کی جا رہی ہے، چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 کی جارہی ہے، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جارہی ہے۔

مقامی سطح پر تیار ہونے والے ہیوی موٹرسائیکل، ٹرک اور ٹریکٹر کی مخصوص اقسام پر ٹیکسوں کی کمی کی جائے گی، بینکنگ ٹرانزیکشنز، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، ایئر ٹریول سروسز ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانزیکشینز پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کال، انٹرنیٹ کے استعمال اور ایس ایم ایس پر ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کا فیصلہ، ای کامرس لین دین کو سیلز ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔