پاکستان پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کومسترد اور اسے غریبوں پر خودکش حملہ قراردیتی ہے، سینیٹرروبینہ خالد

ویب ڈیسک (پشاور): پاکستان پیپلزپارٹی خیبرپختونخوانے وفاقی بجٹ کومستردکرتے ہوئے اسے عوام کا دشمن اور غریب طبقہ پرخودکش حملہ قراردیا ہے، ایک بیان میں پی پی کی سینئر رہنما سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ سلکٹڈ حکومت کی طرف سے حالیہ وفاقی بجٹ میں غریب عوام کیلئے ریلیف کے دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے ہیں یہ بجٹ ہرلحاظ سے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کی عکاس ہے جس میں متوسط طبقہ کیلئے کچھ نہیں انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپنشنرزمیں 10 فیصد اضافے کو آٹے میں نمک کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دی ہے جسکا خمیازہ آج ملازمین اورقوم مہنگائی کی شکل میں بھگت رہی ہے یہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہی تھی کہ جس نے درپیش چیلنجزکے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد تک اضافہ کیا تھا موجودہ حکومت روٹی، کپڑا اور مکان کیساتھ لوگوں سے انکا جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔ سینیٹرروبینہ خالد نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ایما پر بننے والا بجٹ عوام کا خون چوسنے والے حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ پاکستانی عوام کا نہیں بلکہ عالمی ساہوکاروں کا بجٹ ہے جس کا ایک تہائی سے زائد بیرونی مالیاتی اداروں کے قرض کے سود میں چلا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت عام آدمی کی بنیادی ضروریات ہیں ان کے لیے بھی معمولی رقم رکھی گئی ہے جس سے حکمرانوں کی غریب پروری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل کالز اور انٹرنیٹ سمیت دیگرچیزوں پر ٹیکسزلگا کر نااہل حکومت نے عوام کو تاریکیوں کی طرف دھکیلنے کا پورا منصوبہ تیارکیا ہوا ہے موجودہ وفاقی بجٹ الفاظ کا ہیرپھیراورگورگھ دھندے کے سوا کچھ نہیں پیپلزپارٹی اس بجٹ کویکسرمسترد کرتی ہے اوراس کے خلاف پارلیمنٹ میں بھرپور آوازا ٹھائے گی۔