عالمی یوم مسرت پر طاری سوگ

آج پاکستان سمیت ساری دنیا کے لوگوں نے خوشی کا عالمی دن منانا تھا ، کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2012ء کے دوران خوشی کا یہ دن، ہر سال مارچ کی 20تاریخ کو منانے کا عندیہ دیا تھا ، لیکن اس سال خوشی کے اس دن کو عالمی سطح پر کرونا وائرس کا غم ہڑپ کرگیا ، اور یوں غارت ہوکر رہ گئی وہ خوشی جس کا احساس جگایا جاتا تھا آج کے دن ، اور دنیا والوں کو بتایا جاتا تھا کہ خوش رہنا معاشرے کے ہر فرد کا پیدائشی حق ہے ، لیکن حق راستی تو یہ بات بھی ہے کہ یہ دنیا نام ہی غم وآلام کی آماجگاہ کا ہے ، اس دنیا میں آنکھ کھولنے والا ہر بچہ روتا دھوتا وارد ہوتا ہے ، اس کے بڑے بزرگ اور ورثاء اس کی آمد کی خوشیاں مناتے ہیں ، لیکن اس وقت ان کی یہ خوشیاں عارضی ثابت ہوتی ہیں جب وہ بیمار پڑتا ہے یا وہ کسی تکلیف کے سبب چیخنے چلانے یا رونے دھونے لگتا ہے۔ انسان اس وقت قدرتی طور پر روتا دھوتا اور فریاد کرتا ہے جب اسے اپنے جینے کا حق حاصل کرنے کے لئے کسی تکلیف یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بچے کے والدین اسے خوش رکھنے کے لئے اس کو پنگوڑے میں ڈال کر جھولے جھلاتے ہیں ، گود میں لیکر عجیب عجیب آوازیں نکال کر یا عجیب عجیب شکلیں بنا کراور عجیب و غریب حرکات کرکے اسے ہنسانے یا اس کا دل لبھانے کی کوشش کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ بچے کو ماں اس وقت تک دودھ نہیں دیتی ، جب تک وہ روتا نہیں ، گویا جب وہ رونا دھونا شروع کرتا ہے تو اس کو دودھ پینے کی طلب ہوتی ہے ، اسے اس کی بھوک ستاتی ہے ، تب ہی وہ اپنی منی سی آواز میں اوں غیں اوں غیں کرنے لگتا ہے ، جب اس کے حلقوم سے ماں کی مامتا بھرے دودھ کی دھاریں اتر کر اس کے وجود کا حصہ بننے لگتی ہیں تو اسے یگونا سکون حاصل ہوتا ہے ، وہ تشکر بھر ی نظروں سے ماں جیسی عظیم ہستی کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے ۔
ایسے میں اسے ماں کا پیا ر اسے میٹھی اورمدبھری لوریوں کی صورت میسر ہوتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے نیند کی آغوش میں جاکر خوابوں کی وادی کھو جاتا ہے ، گویا نیند نام ہے اک سکوں کا غم سے نجات کا ، اور موت بھی تو ایک نیند ہی ہے ، درد وآلام اور غم سے نجات کا
قید حیات اور بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
مو ت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں ، غم کیا ہے اور خوشی کسے کہتے ہیں اس دنیا میں آنے والی ننھی سی معصوم جان کو اس بات کا نہ شعور ہوتا ہے نہ علم ، جتنی ننھی منی جان کا مالک ہوتا ہے ، اتنے ہی غم ہوتے ہیں جس کا بوچھ اس کے چاہنے والے اٹھا لیتے ہیں، لیکن جیسے جیسے نونہال اپنے زندگی کے ماہ وسال گزارنے کے بعد سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچنے لگتا ہے ، دکھ اور غم بھی اس کی عمر کے ساتھ بڑھتے رہتے ہیں ، پہلے بھوک ستاتی تھی وہ رودھو کر اپنی ماں یا وارثوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتا تھا ، اس کے چاہنے والے اس بات کے لئے فکر مند رہتے تھے کہ کہیں شدائد موسم یا کسی بیماری کا حملہ بچے کو ہم سے جدا کرنے کا باعث نہ بن جائیں ، سارے غم اس کے چاہنے والے اٹھاتے تھے ، وہ ہر غم یا فکر سے آزاد یا بچا ہواتھا ، شائد اس ہی لئے اسے بچہ کہا جاتا تھا،
میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے
لیکن جب وہ بچے سے لڑکا بنا اور اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لئے کھیلنے کودنے یا لڑنے جھگڑنے لگا تو اس کی زندگی کے اس عہد کو لڑکپن کا زمانہ کہا گیا ، بچپن کے بعد اس کے لڑکپن کا یہ زمانہ اس کو اس ڈگر پر رواں دواں کرنے کا دور ہے جس پر چل کر وہ مستقبل کا معمار بن سکتا ہے، معاشرے کا مفید شہری بن سکتا ہے ، اس منزل کو حاصل کرنے کے لئے اس کی بہتری چاہنے والے اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنے کے لئے اسے اسکول یا مدرسے بھیجتے ہیں ، جہاں پہنچ کر اسے نت نئے تفکرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر محنت شاقہ ، جہد مسلسل لگن اور شوق اس کی گھٹی میں شامل ہے تو وہ کامیابیوں کی منازل طے کرتا خوشیوں کے حصول میں کامران و کامگار رہتا ہے ، اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو آئے روز کی ناکامی اورر نامرادی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور یوں زندگی کی دوڑ میں پیچھے بہت پیچھے رہ کر اپنی ناکامی کے غم سے نجات حاصل کرنے کی راہیں تلاش کرنے لگتا ہے ،آہ ہماری آنکھوں کے ڈوبے ہوئے ستارے ، ہمارے مستقبل کے وہ بے سدھ سہارے ہماری قسمت کے بجھے ہوئے ستارے جہاں بھر کے دکھوں اور غموں سے نجات کی خاطر عارضی خوشیوںکے سراب میں ڈوب کر منشیات زدہ لاشے بن جاتے ہیں
لاشے جوان بچوں کے زندہ پڑے ہیں گلیوں میں
جو پوچھتے ہیں ہم سے کہ ہے ان کا کس کے سر لہو
انسان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کسی حال میں خوش نہیں رہتا، ایسی حالت کا وہ جب شکار ہوتا ہے جب ناشکری عنصر اس کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے ، خوشیاں ہمیشہ ہر حال میں شکر کرنے والوں کی قدم بوسی کرتی رہتی ہیں ، وہ لوگ کس قدر پر سکون ہیں ، جو کرونا وائرس کے طوفان بلا خیز میں بھی کہتے رہتے ہیں کہ
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا