مشرقیات

مان لیا کہ غیر ت ہے بڑی چیز بس عہد حاضر کے درویشوں کے سر پر کوئی تاج سردارا دکھا دے ،بجائے اس کے غیرت کے نام پر بے غیرتی کے مظاہرے جاری ہیں اور حال یہ ہے کہ'' حمیت نام تھا جس کا وہ گئی تیمورکے گھر سے''
ملالہ ہم میں سے بہت سوں کو اچھی نہیں لگتی کہ اب وہ ہمارے دست تصرف میں نہیں 'کوئی پارٹنر شپ کا چانس ہے نہ ہی اسے منکوحہ بنانے کی کوئی صورت نظر آتی ہے ' اوپر سے کل کی بچی کو دنیا نے سر پر چڑھا لیا ہے اور بڑے بڑے صاحب جبہ و دستار جن کی تقدیس مشرق کی ثناء خوانی میں عمرگزرگئی، کسی قطار شمار میں نہیں، اب ملالہ کی ہربات پر ملال بلکہ سانحہ پر ملال لازم ٹھہرا ہے ،رنج وغم اور غصے کے اس عالم میں تقدیس مشرق کا جبہ اتار پھنکنا بھی جائز ہے 'اس لئے ردعمل میں تقدیس مشرق کے ترانے ملالہ سے ہوتے ہوئے میا خلیفہ تک جا پہنچے، سینکڑوں نہیں ہزاروں پرستاروں کے اس جھرمٹ میں ملالہ کم اور میا خلیفہ کچھ زیادہ ہی نمایاں نظر آئی اور ہم صاف سمجھ گئے کہ احساس محرومی کس قدر شدید ہے اور پیاسوں کا کنویں کے کنارے بیٹھے کیا حال ہوتا ہے۔ میا خلیفہ سے یہ شناسائی کا عالم دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی ' گوگل کی وہ گگلی یاد آگئی جس نے ہمیں'' بولڈ'' ثابت کرکے رکھ دیا تھا کہ دنیا بھر میں ہم سے زیادہ میا خلیفہ کے قبیلے کا شناسا کوئی اور نہیں ہے ،اسی وجہ سے کنواروں کو تو چھوڑیں شادی شدہ حضرات بھی متبادل انتظام کے چکر میں پڑے رہتے ہیں ،راہ چلتے دیکھیں ،گلی محلے ، دفتروں میں کونے کھدروں میں دھیمی آواز سے راز و نیاز کا سلسلہ گھر بیٹھی منکوحہ سے تھوڑی ہوتا ہے 'وہ تو گھرکی مرغی دال برابر والی بات ہے ۔ پورا معاشرہ ہی پارٹنر شپ کی تلاش میں ہے ۔لاہور میں گزشتہ ماہ قتل ہونے والی لڑکی پارنٹرشپ کی بھینٹ ہی چڑھی ہے ۔
توجناب !اپنا گریبان چاک ہے 'سوچیں ہم میں کتنے ہیں جو موقع ملے تو کوئے جاناں کی طرف قدم نہیں اٹھاتے وہ بھی تقدیس مشرق کے تراتے گاتے ہوئے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے دل کی بات ملالہ کے منہ پر آگئی 'باالفاظ دیگر اس نے ہمارا پول ہی کھول کے رکھ دیا 'ایسے میں آتش غضب سے ہم پھنکار رہے ہیں 'ورنہ اتنی سی بات ہے کہ ہرکام میں ہم جائز کو چھوڑ کر ناجائز کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں ۔اس پارٹنر شپ سے دستبردار ہوں تو دنیا دوغلا قرار نہ دے ۔