5 415

خاتون اول پاکستان بیگم رعنا علی

پاکستان کی خاتون اول بیگم رعنا لیاقت علی خان کی 13جون کو برسی ہے، وہ 13 فروری 1905 کو برطانوی ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیںاور13 جون 1990 کو انہوں نے اس دار فانی سے داعی اجل کو لبیک کہا ۔ وہ 1947ء سے 1951ء تک پاکستان کی خاتون اول رہیں۔ وہ تحریک پاکستان کی رکن اور سندھ کی پہلی خاتون گورنر بھی تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تحریک پاکستان کی صف اول کی خواتین میں شامل تھیں۔ بیگم رعنا ان پیشہ ور خواتین سیاست دانوں اور ملک گیر معزز خواتین شخصیات میں شامل تھیں ، جنہوں نے 1940ء میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پاکستان میں اہم واقعات کا مشاہدہ کیا۔ وہ تحریک پاکستان کی ایک اہم اور سرکردہ خاتون شخصیت میں سے ایک تھیں۔ پاکستان موومنٹ کمیٹی کی ذِمّہ دار رکن کی حیثیت سے بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے محمد علی جناح کی پاکستان موومنٹ کمیٹی میں معاشی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ خاتون اول پاکستان کی حیثیت سے انہوں نے نئے قائم ملک (پاکستان) میں خواتین کی ترقی کے لئے متعدد پروگرام شروع کیے تھے۔بیگم رعنا لیاقت علی آپ کا پیدایشی نام شیلا آئرین پنت تھا۔ آپ کو الموڑا کی بیٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کے والد، ڈینیل پنت، متحدہ صوبوں کے سیکرٹریٹ میں خدمات انجام دیتے تھے۔ کمونی برہمن (ہندوؤں کی ایک اعلی ذات)، پنت خاندان نے تقریباً 1871ء میں عیسائیت مذہب قبول کیا تھا۔بیگم رعنا نے ابتدائی تعلیم نینی تال کے ایک زنانہ ہائی اسکول میں حاصل کی۔ 1933ء میں خان لیاقت علی خان سے شادی ہوئی۔ پاکستان بننے سے قبل آپ نے عورتوں کی ایک تنظیم”آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا)”قائم کی۔ قیام پاکستان کے بعد ایمپلائمنٹ ایکسچینج اوراغوا شدہ لڑکیوں کی تلاش اور شادی بیاہ کے محکمے ان کے حوالے کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1952ء میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئیں۔ 1954ء میں ہالینڈ اور بعد ازاں اٹلی میں سفیراور سندھ کی گورنر بھی رہیں۔
ایک سفارت کار کی حیثیت سے بیگم رعنا لیاقت علی خان نے انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ سابق سفیر برجیس خان کی زبانی محترمہ کا ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ برجیس حسن خاں بیگم صاحبہ کے ساتھ پاکستان کی فارن سروس میں تھے۔ اس دوران بیگم رعنا لیاقت علی خان 1956ء میں ہالینڈ میں بطور سفیر خدمات انجام دے رہی تھیں اسی دوران ہی نہر سوئز کا بحران سامنے آیا ۔اس تنازع میں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر حملہ کر دیا تھا اور پاکستان کی حکومت نے برطانوی موقف کی تائیدکردی تھی ۔مگر بیگم صاحبہ نے ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ سے ایک مراسلہ پاکستان کی وزارت خارجہ کو ارسال کیا،جس میں حکومت پاکستان کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ پاکستان کو برملا نہر سوئز کے معاملے میں عرب جمہوریہ مصر کی حمایت کرنی چاہئے۔
بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ کی ملکہ جولیانہ نے جو ایک محل نما عمارت ان کو ذاتی طور پر تحفہ میں دی تھی بیگم صاحبہ نے اس کو پاکستان کو دے دیا تھا۔یہاں ایک اور واقعہ کا ذکر کرنا مناسب ہو گا،جو کہ ان کے دورگورنری میں پیش آیا تھااور جس کا تذکرہ ان کے ملٹری سیکرٹری نے چند سال قبل ایک تقریب میں کیا تھا۔بیگم صاحبہ بربنائے عہدہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات کی چانسلر بھی تھیں۔ ایک موقع پر جب ان کو سندھ یونیورسٹی میں تقسیم ِ اسناد کے لئے بطور مہمان بلایا گیا تو یونیورسٹی کے ایک طلبہ کے گروہ کی جانب سے ان کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا۔خفیہ اداروں نے ان کو یونیورسٹی نہ جانے کا مشورہ دیا تھا،لیکن انہوں نے کہا کہ میں جمہوریت پر یقین رکھتی ہوں اور احتجاج اس نظام کا حصہ ہے۔ بیگم صاحبہ پروگرام کے مطابق سندھ یونیورسٹی تشریف لے گئیں۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات کے دوران صدر ایوب خان نے بھاری پیشکشوں کے ساتھ محترمہ رعنا لیاقت علی خان کو محترمہ فاطمہ جناح کی مخالفت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انہوں نے یہ کہہ کرانکار کر دیا تھا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کا بہت احترام کرتی ہیں۔
بیگم صاحبہ44 سال کی عمر میں اپنے شوہر سے محروم ہو گئی تھیں، جبکہ ان کے دونوں بیٹے ابھی کمسن تھے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ان کے بینک بیلنس میں محض ایک ہزار روپے کے لگ بھگ موجود تھے۔ اس کے علاوہ ان کے شوہر یا خود ان کی کوئی جائیداد پاکستان میں موجود نہیں تھی، کیونکہ انہوں نے ہندوستان میں اپنی متروکہ املاک کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ملک میں کوئی جائیداد بنائی تھی۔ ایک موقع پر اس وقت کے پاکستان میں متعین بھارتی سفیر نے بیگم صاحبہ کو املاک کے تبادلے کی پیش کش کی تھی، لیکن لیاقت علی خان نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔وہ ایک سچی اور با عمل مسلمان تھیں۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان ان اولین شخصیات میں شامل تھیں، جن کو1978ء میں اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا تھا۔ بیگم رعنا علی کی زندگی خواتین کیلئے مشعل راہ ہے۔