افغان افواج کی تربیت کے لیے نیٹو کی نظریں قطر پر

ویب ڈیسک: افغان افواج کی تربیت کے لیے نیٹو کی نظریں قطر پر، نیٹو کے تین سینیئر مغربی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد محفوظ اڈے فراہم کرنے کے لیے نیٹو نے قطر سے رابطہ کیا ہے اور ان اڈوں کو افغان سپیشل فورسز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نیٹو کمان کے تحت کام کرنے والے سیکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان سے انخلا کے بعد محفوظ اڈے فراہم کرنے کے لیے نیٹو نے قطر سے رابطہ کیا ہے، خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیٹو کے تین سینیئر مغربی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان اڈوں کو افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان سپیشل فورسز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، دو عشروں پر محیط اس جنگ کے بعد افغانستان میں نیٹو کے ریزولیوٹ سپورٹ مشن میں شامل 36 ممالک کی افواج 11 ستمبر تک امریکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ افغانستان سے واپسی کے لیے تیار ہیں، کابل میں موجود مغربی افواج کے ایک سینئیر اہلکار کے مطابق ’ہم فوج کے سینیئر ارکان کے لیے خصوصی تربیت گاہ بنانے قائم کرنے کے لیے قطر میں ایک اڈے کی نشاندہی کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔‘ مذکورہ عہدیدار جو افغانستان میں موجود امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد کا حصہ ہیں، نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ انہیں صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

نیٹو کے ریزولوٹ سپورٹ مشن کا ایک لازمی حصہ افغان سیکیورٹی فورسز کو طالبان کے خلاف لڑائی کی تربیت دینا تھا، جو 2001 میں اقتدار سے بے دخل ہوئے اور اس کے بعد موجودہ شورش کا آغاز ہوا، واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک اور سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’ہم نے پیشکش کی ہے لیکن قطر کے حکام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنے علاقے کو تربیتی میدان کے طور پر نیٹو کو دینے کے لیے راضی ہیں یا نہیں۔‘