وفاقی بجٹ کو عوام دوست قرار دینے والے جھوٹ بول رہے ہیں۔ ثمرہارون بلور

ویب ڈیسک (پشاور): وفاقی بجٹ کو عوام دوست قرار دینے والے جھوٹ بول رہے ہیں، ثمرہارون بلور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک غیرمنتخب شخص کے ذریعے آئی ایم ایف کے ایماء پر بجٹ تیار کیا گیا جسے مسترد کرتے ہیں، وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے، وفاقی بجٹ میں ہر صوبے کا حصہ بڑھایا گیا لیکن پختونخوا کا حصہ کم کردیا گیا، 2020ء میں سندھ کو 194ارب، 2021ء میں 321 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، پنجاب کیلئے 2020ء میں 310ارب، 2021ء میں 500ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، بلوچستان کا حصہ 89 ارب سے بڑھا کر 133 ارب روپے کردیا گیا ہے، پختونخوا کا حصہ 274ارب روپے سے کم کرکے 248ارب روپے کردیا گیا ہے.

انہوں نے مزہد کہا کہ اسلام آباد کا حصہ بھی 600 ارب سے بڑھا کر 900 ارب روپے کردیا گیا ہے، 6000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنیوالے صوبے کو نٹ ہائیڈل پرافٹ کی رقم بھی نہیں دی جارہی ہے، تقریباً 650 ارب روپے صرف نٹ ہائیڈل پرافٹ کے مد میں مرکز کے ذمے واجب الادا ہیں، مرکز اگر زیادہ رقم نہیں دے سکتی تو کم از کم اس صوبے کا آئینی حق تو دیں، دیگر صوبوں کیلئے مختص رقم سے ہم خوش ہیں لیکن پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ ضم اضلاع کے ساتھ کیا گیا ایک وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا، 100 ارب روپے سالانہ کیوں نہیں دیے جارہے؟ ضم اضلاع کے ساتھ اس بار بھی زیادتی کی گئی اور دس سالہ ترقیاتی پلان کیلئے صرف 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں، این ایف سی ایوارڈ کا کوئی نام ہی نہیں لے رہا، وزیراعلیٰ اور تمام وزراء نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، آخری مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صوبائی حقوق کیلئے ایک لفظ تک نہیں بولا، اگر صوبائی حکومت اپنے حقوق کیلئے مرکز کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہے تو ہم انکے ساتھ ہیں۔

ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ کیا وزیراعلیٰ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کیلئے درخواست نہیں دے سکتا؟ اگر یہ لوگ عوام کے حق کیلئے مرکزی حکومت سے بات نہیں کرسکتے تو ہم کرتے رہیں گے، یہ صرف پی ٹی آئی یا اے این پی کا مسئلہ نہیں، اس صوبے کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت مسلسل پسماندہ علاقوں کو نظرانداز کرکے صرف پنجاب پر نظریں مرکوز کرچکی ہے، حکومت نے ابھی تک کوئی میگا منصوبہ شروع نہیں کیا ، قرضہ پچھلی حکومتوں سے زیادہ لیا ہے، ستمبر2020ء تک پی ٹی آئی حکومت نے 12کھرب کا قرضہ لیا جو ن لیگ کے پانچ سالہ دور کا 48 فیصد ہے، بیرونی قرضہ جون 2018ء میں 12کھرب تھا، جو ستمبر 2020ء تک 54 فیصد بڑھا، بڑے بڑے دعوے کرنیوالے وزراء بتائے 45فیصد بجٹ کیوں اس بار بھی ضائع ہوا ہے؟ پچھلی بار 47 فیصد جبکہ اس بار بھی 45فیصد بجٹ حکومت خرچ نہ کرسکی؟ عوامی پیسہ ضائع کیا جارہا ہے۔

ترجمان اے این پی خیبرپختونخوا نے کہا کہ صحت کیلئے 31ارب میں صرف 15ارب جاری ہوئے، 16ارب ضائع ہوگئے، محکمہ محنت کیلئے 2اعشاریہ 35ارب روپے میں صرف 35کروڑ 90 لاکھ جاری ہوئے، لوکل اور ضلعی اے ڈی پی میں انفارمیشن کا بجٹ صرف 7 فیصد استعمال ہوا، ٹیکسز کا ہدف بڑھا کر بالواسطہ اور بلاواسطہ عوام پر مزید ٹیکسز لگانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، خدشہ ہے کہ 300 ارب سے زائد نئے ٹیکسز لگائے جائیں گے، پٹرولیم لیوی مزید بڑھائی جارہی ہے جس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، پہلے سے 100روپے فی لٹر پٹرول مزید بڑھانا عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کے مترادف ہے، اے این پی عوامی مقدمہ عوام کے سامنے رکھ کر لڑے گی۔