مشرقیات

حضرت ابراہیم ادھم سے کسی نے کہا ۔ آپ کی باتیں بڑی اچھی ہیں آپ کے کام بڑے اچھے ہیں۔
حضرت ابراہیم ادھم نے کہا کسی کے بارے میں لوگ اچھا خیال رکھیں اور اس کی اچھائیوں کا ذکر کریں یہ اللہ کا بڑا کرم ہے دنیا ہمیشہ برا پہلو دیکھتی ہے اور بری بات پر نظر رکھتی ہے اس سے بچنا چاہئے۔کسی سے کہئے فلاں شخص بڑا ایماندار ہے ' لوگ اس کان سے سنیں گے اس کان سے اڑا دیں گے کسی سے کہئے فلاں شخص نے یہ لپا ڈگی کی وہ بے ایمانی کی تو کرید کرید کے پوچھیں گے پھر بغیر تحقیق کئے جس سے ملیں گے اس برائی کا ذکر کریں گے ذکر ہی نہیں کریں گے اس میں چار باتیں اپنی طرف سے بھی جڑیں گے۔
دوسروں کو برا کہنے میں جانے کیوں آدمی کو بڑا لطف آتا ہے یہ دراصل احساس کمتری کا نتیجہ ہے جسے اپنی ذات پر اعتماد ہو وہ ان باتوں میں نہیں پڑتا۔ دین کا حکم تو یہ ہے کہ کسی کا برا کام دیکھو تو اسے سمجھا دو اس کا ڈھنڈورا نہ پیٹو کسی کا عیب معلوم ہو تو اسے ڈھانکو ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے عیب ڈھانکے گا۔ ایسا کون ہے جو کہہ سکے مجھ میں کوئی عیب نہیں ۔ وہی عیب جو دوسروں میں ہو ہم میں بھی ہو تو ہم اسے چھپائیں گے اور کبھی نہ چاہیں گے کہ یہ چار آدمیوں کو معلوم ہو مگر دوسرے کا عیب ہو تو ہم اسے پر لگا کر اڑاتے ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔حضرت ابراہیم ادھم سے اس آدمی نے پوچھا ۔۔ یہ جو آپ میں اچھی باتیں ہیں اور یہ جو آپ بھلائی اور عقلمندی کے کام کرتے ہیں ان کے لئے آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ۔۔ میں نے تین عادتیں ڈال لی ہیں اس شخص نے پوچھا۔۔۔ بھلا وہ تین عادتیں کیا ہیں؟ مجھے بھی بتایئے تاکہ میں بھی ان پر عمل کروں۔فرمایا۔۔
پہلی عادت تو یہ ہے کہ میں کم کھاتا ہوں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ جب بھی کھانے پر بیٹھتے کچھ بھوک رکھ کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے ارشاد تھا اس طرح صحت بہتر رہتی ہے ۔ زیادہ کھانے سے آدمی موٹا ہو جاتا ہے صحت خراب ہوجاتی ہے اس میں سستی پیدا ہوتی ہے ۔ لالچ بڑھ جاتی ہے حرام کھانے کا میلان پیدا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔پھر حضرت ابراہیم ادھم نے فرمایا ۔ دوسری عادت یہ ہے کہ میں کم سوتا ہوں۔
یہ بھی اصل میں حضور اکرم ۖ کے اسوہ حسنہ کی پیروی ہے ۔ آپۖ کم سوتے تھے زیادہ سونا زیادہ کھانے کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ اس سے آدمی میں آرام کا رجحان پیدا ہوتا ہے سعی و محنت کم ہوجاتی ہے اور صحت بگڑنے لگتی ہے زیادہ سونا بھی ایک طرح کا نشہ ہے ۔ابراہیم نے اس کے بعد کہا۔ میری تیسری عادت یہ ہے کہ کم بولتا ہوں؟جو زیادہ بولتا ہے وہ غیبت ' گالی گلوچ ' لڑائی جھگڑے میں زیادہ ملوث ہوتا ہے دنیا کے زیادہ جھگڑے بڑھ بڑھ کے بولنے ہی کی وجہ سے ہوتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کوئی غیر ضروری بات نہ کرتے تھے ۔ اسی لئے دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ۔۔ کم بولو ۔ اس سے آدمی کا وقار بڑھتا ہے ۔