دھول چہرے پہ تھی آئینہ صاف کرتارہا

یہ آئینہ بھی ایک عجیب وغریب چیز ہے۔۔ عجیب و غریب اسلئے کہ یہ ہماری عیب صرف اس وقت بیان کرتا ہے جب وہ خود گرد و غبار سے پاک و صاف ہو۔۔یہ جو کچھ بیان کرتا ہے وہ سچ اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔۔ اسے کسی سے کوئی غرض نہیں۔۔یہ کسی اونچ نیچ کا قائل نہیں۔۔یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا بشرطیکہ یہ صحیح سلامت ہو۔اگر آئینہ سلامت ہو تو ایک ہی تصویر نظراتی ہے ،مگر جب ٹوٹ جائے تو ہر کرچی میں یہ تصویر تقسیم ہوجاتی ہے۔۔۔اس کا بڑا کمال یہ ہے کہ یہ عیب بیان کرنے میں مقام و منزلت کا ہر گز خیال نہیں کرتابلکہ اس کی نظر میں سب برابر ہیں۔۔ یہ عیب کو خود ہمارے سامنے بیان کرتا ہے نہ کہ دوسروں سے۔۔۔یہ ہمیشہ سچا رہتا ہے۔ یہ کسی سے متاثر نہیں ہوتا صورت کوئی بھی ہو وہ اسے ہی دکھائے گا۔جیسا جو ہے اسے ویسا ہی منعکس کرے گا۔ ۔۔''یہ جھوٹ نہیں بولتا ۔۔منافقت نہیں کرتا ۔۔خوشامد نہیں کرتا۔۔۔جانب داری سے کام نہیں لیتا۔۔۔یہ ہمیں ہماراہی چہرہ دکھاتا ہے ۔۔۔اصلی چہرہ۔۔۔لبادے اورنقاب سے آزاد ۔عکس آئینہ بڑے رازاور بڑے کام کی چیز ہے ۔یہ ضمیر کی آواز کی پیکر ہے۔جس طرح ہم اپنے چہرے کی صفائی کا بہت خیال رکھتے ہیں ،بار بارآئینہ دیکھتے ہیں اسی طرح روزانہ کردار کے ائینے میں بھی اپنے اپ کو دیکھ لے تو ہمای زندگی بھی صاف ستھری اور خوبصورت ہوجائے۔۔ ' '
موقع محل کے اعتبار سے ایک فرضی مگر دلچسپ کہانی پیش خدمت ہے ۔
وہ ایک آئینہ بنانے والی فیکٹری کا مالک تھا۔۔ اپنے ہم عصروں سے آگے نکلنے کی دھن ہروقت اس کے ذہن پر سوار ہررہتی تھی۔ ایک دن ایک زبردست پلان اس کے ذہن میں آیا اور متعلقہ ماہرین سے جب اس سلسلے میں بات کی توانہوں نے بھی اس پلان کو خوب سراہا۔۔پلان ہی اتنا شاندار تھا کہ وہ سب مل کر دن رات اسی کام جت گئے۔انہیں سو فیصدیقین تھا کہ اس آئینہ کی ایجاد سے ہر طرف کمپنی کی شہرت کا ڈنکا بجے گا۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں اور بالآخر آئینہ جب تیار ہوکر سامنے آیاتو اسے دیکھ کر وہ خود دنگ رہ گئے۔یہ ایک عجیب وغریب آئینہ تھا۔۔۔یہ آئینہ ایک وسیع پیمانے پر فروخت ہوتاگیا کہ وہ خود حیران رہ گئے۔۔اس آئینے کی نمایاں اور خاص بات یہ تھی کہ اس میں انسان کا ذہن اس طرح آجاتا تھا کہ جس طرح بدن کا عکس آئینے میں دکھائی دیتا ہے۔یعنی جو کچھ وہ سوچتا تھااس کا عکس آئینے پر آجاتا تھا۔بے شک یہ ایک کمال کا آئینہ تھا مگر ایک عجیب بات ہوگئی بہت جلد اس کی مارکیٹ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی پھر اور چند دن کے اندر ہی لوگوں نے یہ آئینے پھینک اور توڑ دئیے اور ان کی فروخت صفر تک پہنچ گئی۔یہ صورت حال موجد کے لئے انتہائی پریشانی کا باعث ہوئی۔ ۔سب پریشان تھے کہ آخر یہ کیا ہوا۔
آخر اس آئینے میں ایسی کیا بات تھی کہ لوگ اسے پھینکنے پر مجبور ہوگئے ؟
بات دراصل یہ ہے کہ لوگ حقیقت سے چڑتے ہیں ۔۔ اپنے ذہن کا عکس دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔ آئینہ ان کے سامنے تھالیکن کوئی بھی اس سے رو بہ رو ہونے کے تیار نہیں تھا۔ کوئی بھی اس کے سامنے اپنی حقیقی صورت دیکھنا نہیں چاہتاتھا۔۔۔،اسلئے لوگوں نے آئینے پھینک دئیے ،اس طرح یہ آئینے کچرے کے گودام کا حصہ بن گئے۔
کمپنی کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے وہ ایک دفعہ پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کیا جائے ۔۔؟بڑی سوچ و بچار کے بعدکمپنی والوں نے ایک اور طرز کا آئینہ ایجاد کیا ۔
یہ ایک ایسا آئینہ تھا جس میں لوگ وہی کچھ دیکھ سکتے تھے جو وہ چاہتے تھے۔۔یہ آئینہ دراصل ان کو وہ عکس دکھاتا تھا جو ان کا پسندیدہ تھا اور جو وہ دیکھنا چاہتے تھے۔ ۔یہ آئینہ فروخت ہوتا گیا ۔اب ہر ایک شخص کے پاس فالتو آئینے بھی تھے کہ اگر پہلا ٹوٹ جائے تو دوسرا کام آسکے۔
کاش ۔۔کسی کو آئینہ دکھانے سے پہلے ہم خود کو دیکھ لیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوجائیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی اپنی اصلی چہرہ دیکھنا گوارا نہیں کرے گا ۔۔۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
عمر بھر یہی بھول کرتا رہا دھول چہرے پہ تھی آئینہ صاف کرتارہا
بد قسمتی سے ہم پیمانے بناتے رہتے ہیں مگر دوسروں کے لئے۔۔ لیکن خودکو ماپنے کا وقت نہیں رکھتے ۔شایدحوصلہ ہی نہیں رکھتے ۔۔ہم آئینے بناتے ہیں ۔ ۔۔مگرااس میں خود نہیں جھانکتے۔۔ ہم اس سے روبہ رو نہیں ہوتے،کبھی ہم اس کے سامنے تو ہو،اس میں اپنی صورت دیکھیں۔ہم دوسروں سے توقعات رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے معیار پرپورااتریں ' ہمارے تقاضوں کو پوراکریں لیکن ہم خودکسی کی خواہش پر پورا نہیں اترتے۔۔۔ہر معاملے میں دوسروں کے لئے خاصاکڑا معیار مقررکر رکھا ہے۔شرافت اورنجابت کا جو معیار ہم نے دوسروں کے لئے بنارکھاہے ،بذات خود ہم اس کے دسویں حصے پر بھی پورے نہیں اترتے۔بقول شاعر:
اپنے آئینوں سے ڈرجائیں گے کچھ لوگ
ہاں کبھی کردارنظرآیا جو چہرے کی جگہ