ایک واقعہ ایک سوال

مجھے پشاور یونیورسٹی کے ایک سیمنار میں پیپر پڑھنا تھا ۔ گورنمنٹ کالج سے ایک دوست حیات آباد جارہاتھا ۔اس نے مجھے اسلامیہ کالج پشاور کے پہلے گیٹ پر اتار دیا ۔شاید اس وقت عمر پچاس برس تک نہیں پہنچی تھی مگر پچاس سے اتنی دوری بھی نہ تھی ۔ عمر کا تقاضا تھا کہ احتیاط سے سڑک پار کرو ں اور تحمل سے دوسری سڑک پر پہنچ کرپانچ چھ منٹ کی واک کرکے شعبہ اردو پہنچ جاؤں۔یونیورسٹی روڈ کی ڈبل سڑک کی پہلی سڑک کو عبور کرکے میں سڑک کی پارٹیشن پر تھوڑی دیر کے لیے رک گیا تھا ۔ کیونکہ مخالف سمت سے ایک مزدا بس آرہی تھی ۔ عمر ، خودساختہ سنجیدگی ،اور احتیاط کا شعوری تقاضا تھا کہ میں بس کو گزر جانے دیتا۔لیکن میں اب بھی نہیں جانتا کہ میں نے ایسا کیوں کیا کہ اچانک ،بغیر کچھ سوچے سمجھے میں نے سڑک پارکرنے کے لیے دوڑ لگا دی ۔ اس لمحہ موجود میں سڑک کے اس پار بسوں کے انتظار میں کھڑے لوگ زندگی اور موت کی میری اس کشمش کو دیکھ رہے۔یقینا ان کی آنکھوںمیں میرے لیے تشویش اور میرے ذہنی توازن کے حوالے سے شکوک و شبہات دکھائی دے رہے تھے ۔مجھے وہ تین سیکنڈ پانچ دہائیوں کی زندگی پر بھاری لگ رہے تھے ۔ وہ بالکل ویسی ہی کیفیت تھی جب ہم بیس دوست پیرسباق نوشہرہ کے مقام پر اوور لوڈ کشتی میں دریا پار کررہے تھے اور دریا کے پانی اور کشتی کے تختے کے درمیان ایک سوتر سے بھی کم فرق رہ گیا تھا ۔کشتی کا ملاح ہمیں ساکت بیٹھے رہنے کا حکم دے رہا تھا اور ہم نے جیسے سانسیں ہی روک رکھی تھی جبکہ کشتی کے سواروں میں سوائے ملاح کے کسی کو تیرنا نہیں آتا تھا ۔ مزدا بس نے بال برابر فرق سے مجھ سے ٹکرانے سے گریز کیا تھا ۔ ڈرائیور نے ہارن ، کنڈیکٹر نے پشتو میں گل پاشی کرکے اور مزدا کی سواریوں نے بڑی بڑی آنکھیں نکال کر مجھ پر اپنی بھڑاس نکال لی تھی ۔ سا لمیت کے قدم جب سڑک کے اس پار فٹ پاتھ پر پڑے تو میں نے پہلے اپنے جسم کو آنکھوں آنکھوں میں ٹٹولا تو سکون ہوا کہ میں ثابت تھا ۔ مگر میری نظریں سڑک پر دوڑتی گدھا گاڑی نے اپنی گرفت میں لے لی تھیں ۔ اسی سڑک ،اسی مقام پر ایک نیا منظر شروع ہونے والا تھا۔ گدھا گاڑی کے پیچھے ایک تیز رفتارفورڈ ویگن دندناتی ہوئی آرہی تھی ۔ ڈرائیور سے ویگن قابو نہ ہوئی اور اس نے گدھا گاڑی کو عقب سے ایک زبردست ٹکر لگائی ۔ کوچوان ہوا میں اڑتا ہوا زمین پر گرا اورسڑک پرقلابازیاں کھانے لگا ۔گدھا گاڑی گدھے سمیت زمین سے اڑ کر سڑک کی اس پارٹیشن سے ہوتی ہوئی گھسٹتی ہوئی دوسری سڑک پر جاگری ۔اگر میں وہ غیر ارادی حرکت نہ کرتا تو اس گدھا گاڑی کے ساتھ ہی ہوا میں اڑتا۔ فٹ پاتھ پر کھڑے لوگ اس منظر کے اختتام پر اضطراری طور پر مجھے گھورنے لگے تھے ۔میں جو چند لمحے قبل انھیں ایک بے وقوف شخص دکھائی دے رہا تھا اب ان کی آنکھوں میں کچھ سوال تھے ۔ میں بھی وہی سوال مختلف کلیوں سے حل کرتے ہوئے چپکے سے اسلامیہ کالج کے گیٹ کی جانب بڑھ گیا ۔ مگرآج بھی وہ سوال میں حل نہ کرپایا کہ کیا قدرت میرے شعور پر،میرے ارادے پر بھی حاوی ہے ؟ اور اگر ارادہ بھی میرا نہیں تو میں کیا ہوں؟ یہ سوال آج تک میرے لیے لاینحل ہے ۔ ہم جو خود کو مختار کل سمجھتے ہیں۔ اپنے سٹیٹس اور اپنی سماجی حیثیت کو ، اپنی کامیابیو ں اور کامرانیوں کو اپنے محنت ، مشقت اور تدبر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس ذات کو بھول جاتے ہیں کہ جو خالق ہے اور مالک بھی ہے ، جو اوپر بیٹھا ہمارے ایک ایک لمحے کو مانیٹر کررہا ہے ۔ ہمیں موت سے بچا رہا ہے ۔ ہمیں زیست سے نواز رہاہے ۔ ہمیں نعمتوں سے مالامال کررہا ہے ۔ مگر یہ طے ہے اللہ کسی طور بھی ایک عام انسان تک سے غافل نہیں ۔اللہ کہ جسے نیند اور اونگھ نہیں آتی ۔نیند تو انسان کا عجز ہے اسی لیے تو غافل ہے ۔ گھمنڈکربیٹھتا ہے۔ تکبر سے نہ جانے کیا کیا کچھ کربیٹھتا ہے ۔ ایک عام سا ڈرامہ نگار ، ایک عام سا کہانی کار اپنے تخلیق کردہ کرداروں کو کنٹرول کرلیتا ہے ۔ کسے کس وقت کیا کرنا ہے اور کسے کیانہیں ،کب تک کس کو زندہ رکھنا ہے کب کس کو منظر سے ہٹانا ہے ۔ تو وہ لایزال ذات کہ جس کی ذات اتنی لامحدود ہے کہ جو کسی مخلوق کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آسکتی ۔کن فیکون کا جو منصوبہ اس ذات نے بنارکھا ہے اس منصوبے کواسی نے پایہ تکمیل پہنچانا ہے تو پھر انسان کی بھلا کیا مجال۔ یہاں ہم جبر وقدر کی بحث میں بھی نہیں جاتے کہ اس موضوع پر دفتر کے دفتر قلمبند کیے جاچکے ہیں ہم نہ اس موضوع کے ماہر اور نہ ہی یہ ہمارا میدان ۔ لیکن اس واقعے سے اٹھنے والے سوال کو اگنور نہیں کیا جاسکتا ۔ کل ہی پنجاب کے ایک ڈی ایس پی کی ویڈیو وائرل ہوئی جو دوران ڈیوٹی کھڑے کھڑے زمین پر گرے اور انتقال کر گئے ،کیونکہ اس کا اتنا ہی کردار تھا کن فیکون کے فیصلے میں ۔ میرے کردار سے ابھی اس بہت عظیم کہانی کار نے ابھی کچھ کام لینے تھے شاید اسی لیے میرے ارادے میرے شعور کو بدل دیا ۔