کچھ تو لفڑا ہے بھائی لوگو

گو ایف بی آر کے حکام تنخواہوں اور پنشن پر ٹیکس نافذ کرنے کی تردید کررہے ہیں مگر وہ اس سوال کا جواب نہیں دے رہے کہ انکم ٹیکس شیڈول 2021 دوئم کی جن شقوں میں ترمیم کی گئی اس کا مقصد کیا ہے ؟ ہم آئندہ سطور میں اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے دوباتیں اولا یہ کہ بجٹ کے حوالے سے بعض تجاویز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ورلڈ بنک اور اے ڈی بی نے ایک ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کو ملتوی کردیا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات میں بھی ڈیڈ لاک در آیا ہے ، ثانیا یہ کہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں نالوں کی صفائی اور چند ٹھیکے ایف ڈبلیو او کو بذریعہ حکم دلوانے اور کچھ امور میں منتخب حکومت کے اختیارات غیر متعلقہ اداروں کو دلوانے والے جب سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو اسے کیا سمجھا جائے ؟ ایسا لگتا ہے کہ ایف بی آر نے فنانس بل میں قانونی تبدیلیاں کرتے وقت وزیر خزانہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔ وفاقی بجٹ میں وزیر خزانہ کے اعلانات اور وعدوں کے باوجود سرکاری ملازمین پر ٹیکسوں کی صورت میں 10ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے کے میڈیکل اخراجات سمیت مختلف الاونسز اور پراویڈنٹ فنڈو پنشن پر ٹیکس کے نفاذ کی تجویز دی اور اس کے لئے 2021 کے انکم ٹیکس شیڈول دوئم سے کم از کم 6شقوں کو ختم کردیا۔ اس اقدام کے بعد ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ پر 10فیصد ٹیکس کا اطلاق ہوگا۔ اسی طرح تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے ملازمین بھی مفت یا رعایتی طبی و تعلیمی سہولتوں پر ٹیکس دیں گے جبکہ دوسری طرف حصص کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو ریلیف دینے کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ دی گئی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اکنامک سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملازم پیشہ افراد پر نئے ٹیکس نافذ نہیں کئے جائیں گے۔ وفاقی بجٹ کو پارلیمان میں پیش کئے جانے سے قبل اور اب بھی وزیر خزانہ متواتر اس موقف کا اعادہ کررہے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کا دباو خاطر میں نہیں لائی جبکہ آئی ایم ایف کی ہی تجویز پر 5لاکھ سے زائد کے پراویڈنٹ فنڈ پر 10فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا اسی طرح اخباری ملازمین کو تیسرے ویج بورڈ ایوارڈ سے ملنے والے لوکل کنوینس الائونس پر بھی ٹیکس نافذ کردیا گیا ہے۔ تنخواہوں میں سے ٹیکس کی کٹوتی کے باوجود پراویڈنٹ یا پنشن پر ٹیکس کے نفاذ سے حکومت نے مجموعی طور پر 28ارب روپے سالانہ کا مزید بوجھ ملازمین پر ڈال دیا جوکہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ معاشی بڑھوتری کی نوید سناتے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والے حکومتی زعما کیا اس امر سے بھی لاعلم ہیں کہ ایف بی آر نے پنشن فنڈ پر لئے گئے قرضے پر بھی 10فیصد ٹیکس نافذ کردیا ہے تو دوسری طرف ریسٹورنٹس کی طرف سے اپنے ملازمین کو مفت یا رعایتی قیمت پر کھانا فراہم کرنے پر بھی ٹیکس دینا ہوگا۔ ادھر فلور ملوں پر عائد ٹیکسوں میں 3فیصد اضافے کی وجہ سے 20 کلو آٹے کا تھیلا 97روپے تک مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ فلور ملوں کو دی گئی ٹیکس میں سالانہ چھوٹ کے خاتمے، چوکر کی فروخت پر 10فیصد ٹیکس کی تجویز اور مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس میں7فیصد اضافے سے بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ بجٹ سے قبل دوٹوک انداز میں پنشن پر 10فیصد ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا جبکہ ایف بی آر کے قوانین میں تبدیلی اس کے برعکس ہے۔ یہ عرض غلط نہ ہوگا کہ ایک بار پھر ٹیکسوں کا بوجھ ملازمین پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔ گو وزیر خزانہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایف بی آر کو تجاویز پر نظرثانی کے لئے کہا ہے مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وزیر خزانہ ایف بی آر کو انکم ٹیکس شیڈول دوم میں کی گئی ترامیم واپس لینے کا کہیں گے یا حکم دیں گے؟ یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ جس بجٹ کو عوام دوست قرار دینے میں وزرا اور مشیر صاحبان ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے دکھائی دیتے ہیں اس بجٹ سے عام شہری کو ملے گا کیا؟ معاشی ابتری اور دوسرے مسائل کی سنگینی سے کسی کو بھی انکار نہیں لیکن کیا حکومت کے بڑے یہ نہیں سمجھتے کہ بجٹ تجاویز، ایف بی آر کے اقدامات اور وزیر خزانہ کی باتوں میں تضادات کا نقصان حکومت کو پہنچے گا۔ یہاں اس امر کی طرف متوجہ کرنا بھی ضروری ہے کہ وزیر خزانہ سمیت حکومتی زعما گروتھ کی شرح دو فیصد سے زائد بتاتے ہوئے اس کا ہدف 4.8فیصد قرار دے رہے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے انڈکس کے مطابق گروتھ کی شرح 1.5 فیصد ہے۔ وزیر خزانہ نے گزشتہ روز اپوزیشن اور ناقدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پہلے بجٹ دستاویزات کا مطالعہ کرلیں اس بنا پر کیا اب ان سے سوال ہوسکتا ہے کہ یہ سارے معاملات جو اب سامنے آرہے ہیں خود ان کی نظروں سے پوشیدہ کیسے رہے؟ امید کی جانی چاہئے کہ وزیر خزانہ ان امور کے حوالے سے عوام کو حقائق سے آگاہ کریں گے۔