وزیراعلی خیبرپختونخوا سے وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائےنیشنل فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کی ملاقات

ویب ڈیسک (پشاور)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کی ملاقات۔صوبے میں زراعت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

صوبائی وزیر زراعت محب اللہ خان کے علاوہ محکمہ زراعت کے اعلی حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔

ملاقات میں صوبے میں ڈیری پیداوار اور ٹراوٹ مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے اقدامات اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پھلوں، سبزیوں اور زرعی اجناس کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا ۔

ملاقات میں آبی وسائل کے تحفظ اور زراعت کے شعبے کو فروغ دے کر غربت کے خاتمے سے متعلق امور پر گفتگو کی
گئی اورصوبے میں زیتون کی کاشت کے منصوبے پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

ملاقات میں صوبے میں زراعت کے شعبے کو مستحکم کرکے فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے مربوط کوششوں پر اتفاق ہوا۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبے کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنانا موجود صوبائی حکومت کی اہم ترجیح ہے، صوبے میں زراعت اور ڈیری فارمنگ کے شعبوں کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔زرعی پیداوار میں خود کفالت کے لئے خیبر پختونخوا حکومت نے پہلی فوڈ سکیورٹی پالیسی تیار کر لی ہے،زرعی پیداوار اور ڈیری مصنوعات میں اضافے کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوڈ سکیورٹی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ایکشن پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے۔یہ ایکشن پلان قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی اقدامات پر مشتمل ہے،فوڈ سکیورٹی پالیسی پر عملدرآمد سے صوبہ زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو جائے گا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے وزیر اعلی کو صوبے میں زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ صوبے میں پہلی فوڈ سکیورٹی پالیسی کی تیاری قابل تحسین ہے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید چیمہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شوگر مافیا کو حکومت نے نکیل ڈال دی ہے،کسان اور صارف دونوں کے مشترکہ مفاد کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم زرعی ترقی میں خاطر خواہ دلچسپی لے رہے ہیں،6 فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی ہے۔ زیتون کے 41 لاکھ لاکھ درخت لگاچکے ہیں مزیدایک کروڑ درخت ایک سال میں لگائے جائینگے۔آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے اورخوراک کی پیداواری کم ہے زرعی ترقی کے لیے مختلف اہداف کا تعین کیا ہے ۔مکئی گندم ،چاول ،سبزی اور پھلوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔150 بلین روپے قبائلی علاقوں میں زرعی ترقی کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا کو زرعی ترقی کے میدان میں پیچھے نہیں رہنے دینگے، زرعی ترقی کے سلسلے میں تحقیق کے لیے 5 مرکز قائم کئے ہیں۔اگلے سالوں میں 20لاکھ ایکڑ اراضی آباد کرینگے،چھوٹے مال مویشی کے پیداوار کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

اس ضمن میں وزیر زراعت خیبرپختونخوا محب اللہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوڈ سیکورٹی ایک اہم ہے اورزراعت اس ملک کی معیشت کی ہڈی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے زرعی ترقی کےلیے نمایاں اقدامات اٹھائے ہیں اورزرعی ترقی کےلیےمختلف منصوبےدئیےگئے ہیں۔ زرعی ترقی کے لیے نمایاں اقدامات اٹھائے ہیں اور ریکارڈ فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔زرعی زمین کم پڑ رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیاں بن رہی ہیں جس کے لئے قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔