قومی بجٹ، ملکی معیشت اور عوام

آج کل بجٹ کے حوالہ سے بہت کچھ پڑھنے اور بہت سی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ ایک عام شہری سے لے کر ماہر معا شیات تک بجٹ کے اعداد وشمار اور اس کی ترجیہات کے بارے اپنی اپنی تشریح کر رہا ہے۔ حکومتی ترجمان تعریفیں کر رہے ہیں جبکہ مخالفین اسے ایک ناکام بجٹ قرار دینے میں پیش پیش ہیں۔ ایسے میں مجھے اپنے ایک مرحوم عزیز یاد آتے ہیں جو کہا کرتے کہ بجٹ اپنے اعداد و شمار کے رد وبدل سے ہر سال آتا ہے ،کسی سے واہ واہ اور کسی سے گالی کھا کر چلا جاتا ہے۔ لیکن اصل حقیقت ہمیں مارکیٹ جا کر معلوم ہوتی ہے کہ اس نے مہنگائی ، کساد بازاری اور بے روز گاری کا مقابلہ کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ اگر مرحوم کی اس بات کا جملہ مالیاتی امور کے حوالہ سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر کوشش اور ہر حکمران کے بلند بانگ دعوے کے برعکس مہنگائی میں اضافہ اور افراط زر میں بڑھاوا ہو رہا ہے۔
موجودہ اور ماضی کی ہر حکومت نے ترقی کے اعداد اور جی ڈی پی کی نموہمیشہ بڑھا چڑھا کر پیش کی ہے۔ اگرچہ ملک کی ترقیاتی نشوونما اور اس کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے سرمایہ کاری کی گئی ہے مگر تمام کوششوں کے باوجود معیشت کے خدو خال کسی درست سمت میں جاتے دکھائی نہیں دیتے۔ یوں لگتا ہے کہ ہماری معیشت کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اب پاور سیکٹر کو دیکھ لیں ،جس میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہوئی ۔مانگ سے زیادہ بجلی پید اکی گئی لیکن اس کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔اگرچہ کچھ دیگر وجوہات بھی ہیں ،پھر بھی حکومت راست اقدام کرنے کی بجائے ناکامی کا سبب سابقہ حکمرانوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔ ملکی اداروں کو نقصان سے بچانے اور بہتری پانے کے لئے مقامی ماہرین کے علاوہ بیرون ملک سے معیشت کے جادوگروں کو بلایا گیا، لاکھوں میں تنخواہیں دی جارہی ہیں مگر نجکاری کا عمل جوں کا توں ہے۔اس میںکوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے سفید ہاتھی اربوں روپے کی سبسڈی سے موج کر رہے ہیں۔ اس بار وزیر خزانہ نے معاشی ترقی کی یقین دہانی کرائی ہے جو خوش آئند ہے۔ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم اپنا نظام بہتر کریں۔ یہ تو خیر کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارا بجٹ آئی ایم ایف سے طے شدہ ہے۔اسی حوالہ سے مالیاتی اداروں میں بیٹھے ہوئے خاص لوگ' بار بار یہی کہتے چلے آرہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط مان لینی چاہئے کیونکہ آئی ایم ایف کا ایجنڈہ ملکی معیشت میں استحکام کا ذریعہ بنے گا۔ اس سال شرح نمو چار فیصد کو کامیابی کی علامت ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ یہ معاشی ترقی ہر گز نہیں۔ حکومت کی ابتدائی معاشی پالیسیوں اور کورونا کی وجہ سے ہماری معیشت کا بہت برا حال ہو چکا تھا ۔ ماہرین کے مطابق ہماری معاشی نبض ڈوبنے لگی تھی۔ یوں اس حالت سے باہر آنے اور نبض کی رفتار قدرے بہتر ہونے کو مکمل معاشی ترقی کہنا مناسب نہیں۔
ہمارے وزیر خزانہ ملکی معیشت کو سمجھنے کا خوب تجربہ رکھتے ہیںاور اب وہ اس لحاظ سے پر عزم بھی ہیں کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر اصلاح کی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے بجلی کے نرخ بڑھانے میں آئی ایم ایف کی تجویز رد کر دی اور اسی طرح تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے انکار کر دیا۔ ماہرین شاید عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مد نظر نہیں رکھ پاتے ،اس لئے آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی معیشت میں توازن نہیں رہتا۔ بس قسطیں لے کر مقروض ہوتے جا رہے ہیں اور پھر بجٹ کی ایک خطیر رقم انہی قسطوں اور قرضوں کو ادا کرنے میںصرف ہو جاتی ہے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک کسی حکومت کو ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو رہی۔ایسے بارسوخ سرمایہ دار جوحکومتی کارندوں کی معاونت سے ذاتی کمائی کی پالیسیاں تو بنا لیتے ہیں مگر حکومت ان سے ٹیکس وصولی میں ناکام رہتی ہے ۔ پھرٹیکسوں کا بوجھ بالواسطہ طور پر ٹیکس کی صورت میں عوام پر ہی ڈال دیا جاتا ہے یا محکمانہ اہداف پورا کرنے کو ٹیکس دہندگان سے زیادہ وصولی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ ہماری عوام کی خواہش ہے کہ حکومت اور مخالف جماعتیں سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے ان کے بنیادی حقوق کے لئے بجٹ میں ایسی سفارشات کو منظور کریں جس سے مشکلات میں آسانی پیدا ہو۔ احتجاجی مظاہروں اور الزام تراشیوں سے معاشی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا ۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ نئے پاکستان اور تبدیلی کے ویژن کے مطابق انقلابی اقدامات اٹھائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نظریاتی اور فکری مخالفین مافیا نے ہماری معیشت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور معاشی نظام کا کنٹرول ملک سے باہر جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔