مجھے ہی سوچتا رہتا ہے میرا اک دشمن

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات کو روشن قرار دیا جارہا ہے ' تاہم وہ جو اردو کا محاورہ ایک انچ کی کسر رہ جانے والا ہے ' اس معاملے میں اس کا اطلاق ہونے کے خدشات موجود دکھائی دے رہے ہیں ' معاف کیجئے گا ہم قنوطیت کے قائل نہیں ہیں بلکہ اپنے ایک دوست عزیز کے بقول خوش گمانی سے کام لیتے ہیں۔ ہر چیز کے روشن پہلو پر زیادہ نظر رکھتے ہیں یعنی آدھے گلاس کو آدھا بھرا ہوا گلاس قرار دینے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ' اور اب جبکہ ایف اے ٹی ایف کے استفسارات کے مطابق 27 میں سے 26نکات پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے ' جس کے بعد گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ' تو کوئی وجہ نہیں کہ صورتحال کو حوصلہ افزا اور پاکستان کے حق میں قرار نہ دیا جائے ' واضح رہے کہ گزشتہ اجلاس تک پاکستان نے 24 نکات پر عمل درآمد کیا تھا ' اور اب ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ کے لئے رپورٹ تیار کی جائے گی ' گروپ میں چین' امریکہ ' برطانیہ ' فرانس اور انڈیا شامل ہیں اس لئے انتہائی خوش گمان ہونے کے باوجود ان ناموں میں ایک اور محاورے یعنی ہاتھی گزر گیا بس دم رہ گئی ہے کے حوالے سے بھارت کا نام دیکھ کر ہماری ساری خوش گمانی(خدانخواستہ) ہوا ہو گئی ہے جبکہ ہاتھی ہی کے بارے میں ایک اور محاورہ بھی اپنی اہمیت کا احساس دلا رہا ہے ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں ' چونکہ بھارت ان دنوں(ماسوائے چین کے) بڑی طاقتوں کا ڈیئر یعنی منظور نظر ہے اور اس کی وجہ اس کا ان بڑے ممالک کے لئے بہت بڑی منڈی ہونا ہے ' یعنی ان ممالک کے تجارتی ' صنعتی اور اقتصادی مفادات بھارت کے ساتھ منسلک ہیں اس لئے بھارت کے نخرے اٹھانا ان تمام ممالک کی مجبوری ہے ' ایسی صورت میں بھارت صرف اسی ایک نکتے کو لیکر بھی پاکستان پر اعتراضات کرکے اس کو گرے لسٹ سے نکلنے میں مزاحم ہو سکتا ہے ' یعنی وہ جو 27نکات میں سے 26نکات پورے ہونے کے باوجود ایک نکتے والی دم ابھی جھول رہی ہے ' اس کو ہلانے سے وہ کوئی نہ کوئی کھٹ راگ الاپ سکتا ہے ' سو بہتر ہے کہ ہم اتنے اتائولے نہ ہوں ' وقت کا انتظار کرتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھیں تاکہ ہم پر لٹکتی ہوئی تلوار ہٹ جائے اور ہم اطمینان کا سانس لے سکیں ' کیونکہ ہماری صورتحال اس وقت بھی خالد خواجہ کے اس شعر کی مانند ہے کہ
مجھے ہی سوچتا رہتا ہے میرا ایک دشمن
میں دور رہ کے بھی دشمن کے گھر میں رہتا ہوں
کسی زمانے میں ٹی وی پر ایک اشتہار چلا کرتا تھا جس میں ایک شوہر ' اس کی بیوی اور بچی کے درمیان ایک مکالمہ ہوتا تھا ' شوہر نامدار بالکل بچوں جیسی حرکتیں کرتا تھا تو اہلیہ محترمہ انہیں یہ کہہ کر ''سیدھی راہ'' پر آنے کی ترغیب دیتی تھی کہ ''اب تو بڑے بن جائیے'' یعنی یہ بچگانہ حرکتیں کب تک آپ کرتے رہیں گے ' ان دنوں ہمارے سیاستدان پارلیمنٹ کے اندر جس قسم کی حرکتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں ' کاش کوئی ان کو بھی وہ اشتہار یاد دلادے کہ اب تو بڑے بن جائیے' بالکل بچوں کی مانند گالم گلوچ اور ایک دوسرے پر بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھینک کر (جس میں دو خواتین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں)اپنے غصے کا اظہار کرنا بالکل اسی طرح ہی ہے جیسا کہ بچپن کے دنوں میں سکول سے چھٹی کے بعد پرانے دور میں معمولی بات پر تکرار کے بعد تختیوں اور سلیٹوں سے(جو اب خواب بن چکے ہیں) ایک دوسرے کی خاطر تواضع کرنا عام سی بات تھی ' ویسے تو ہماری پارلیمانی تاریخ اتنی روشن بھی نہیں ہے اور ایک زمانہ تھا جب پارلیمنٹ کے اندر ایک دوسرے کو کرسیاں مار کر ایک ممبر کی موت بھی واقع ہو چکی تھی ' تاہم یہ متحدہ پاکستان کے دور کا قصہ ہے یعنی نصف صدی کا قصہ ہے ' دو چار برس کی بات نہیں ' مگر موجودہ پارلیمنٹ پر گالم گلوچ کے لہراتے سائے اس قدر گہرے ہو چکے ہیں کہ اب اس صورتحال سے ہماری سیاست اپنی جان چھڑا سکے ' ممکنات میں سے نہیں ہے یعنی بقول احمد فراز
اب تو شاید ہی ترا ذکر غزل میں آئے
اور کے اور ہوئے درد کے عنوان جاناں
شرافت اور احترام آدمیت جو کبھی ہماری سیاست کا خاصا ہوا کرتے تھے 'غتربود ہو چکے ہیں ' سب سے زیادہ معتبر وہی ٹھہرتا ہے جس کی زنبیل میں نئی طرز کے دشنام اور مغلظات ہوں ' اور ہم بڑے فخر سے دنیا کو یہ تماشا دکھا کر فخر محسوس کرتے ہیں ' اس بات سے قطع نظر کہ دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی ' ہمیں تو اپنے ''بڑوں'' کی نظر میں معتبر ہونا ہے جس کا معیار صرف اور صرف گالیاں بکنا ہی رہ گیا ہے ' خواجہ حیدر علی آتش یاد نہ آئیں تو کیسے ممکن ہے کہ
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی سو بگڑ ی تھی خبر لیجے دہن بگڑا