مشرقیات

وہ تجھ کو بھول گئے تو تجھ پہ بھی لازم ہے ا میر
خاک ڈال ' آگ لگا ' نام نہ لے ' یاد نہ کر(امیر مینائی)
بزم مشرقیات سے جو راندہ درگاہ ٹھہرے کہیں جا کے اب حاضری دے رہے ہیں۔ا میرمینائی کا شعر ایسے ہی اپنے تئیں فرض کرکے لکھا وگرنہ صاحب مشرقیات کا تعارف ہی مشرقیات بنا اور ہم ہیںکہ ہم کو ستم عزیز ستمگر کو ہم عزیز نامہربان نہیں ہے اگر مہربان نہیں چلیں آگے بڑھتے ہیں۔مشرقیات اس دوراں کئی ہاتھوں میں رہا۔ لیکن کوئی بھی کوئی کام شروع کرے اور وہ اس کا برینڈ بن جائے تو وہی اصل باقی نقل تصور ہوتا ہے مگر یہاں نقال چھا جاتے ہیں اور اصل گم۔ چلیںہم بھی کہاں الجھ گئے زلف یار کی طرح زلفیں الجھیں اور زلفیں سنوریں دونوں کی کیا بات ہوتی ہے رخ یار اور دیدنصیب کی بات اور ہم ٹھہرے معتوب اجنبی
نہ خد ا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہوئے
شناوری ازبرنہ ہوتی توادھر ادھر تو ہو سکے پر کب کے ڈوب چکے ہوتے مگر کیا کیجئے میں ڈوب جاتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے ۔ اچھل کود کی تو عادت نہیں البتہ کبھی کبھی شعل کر لیتے ہیں مشغلہ جو ٹھہرا دل بہلانے کا دل بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ویسے خیالات کی بھی اپنی دنیا ہوتی ہے نماز میں کھڑے لامکاں تک گئے سلام پھیرے اپنے مکان لوٹ آئے تصور میں حور کی صورت بسائے ۔ مگر دل بیقرار کو حور کی صحبت ملے یا ہجر کی راتیں جھوم اے دل وہ میرا جان بہاراں آئے گا۔ اسی جان بہار کی طلب میں شب و روزکٹتے کٹے گور بہ لب ہو گئے مگر انتظار کی ان کسک آمیز گھڑیوں کی کسک کم نہیں ہوتی کم بھی کیسے ہو ہم جو بیقرار رہنے کو جیون خیال کرتے ہیں جیوں کو جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ توکوئی مد مقابل نہ ہو تو مر جائوں میں خود ہی دشمن بناتا رہتا ہوں سچ ہے خو تبدیل نہیں ہوتی پشتو کی کہاوت ہے کہ بوڑھے ہو گئے مگر بڑے نہیں ہوئے ہم نے بڑا ہو کر کرنا کیا ہے یہ جو بڑے بڑے ہوئے ہیں انہوں نے کیا تیر مارا ہے جو ہم نشانہ باندھیں زندگی کی کشا کشی نہ رہے تو جیون کیا اور نشانہ لگ جائے تو بازی تمام اسی لئے تو دم سادھے تیر کمان سنبھالے بیٹھے ہوتے ہیں بالکل محبوب کے انتظار کی طرح دم بھی کشید نہیں کرتے کہ نشانہ چوک جائے ۔ اپنی کتھا سناتے سناتے کتنوں کے دل کی بات کہہ دی کل مشرقیات پھر بزم یار کی طرح سجائیں گے وعدہ رہا اگر جی گئے۔