ستم تو یہ ہے کہ احساس بے حسی بھی نہیں

یہاں ہم دو عجیب و غریب مگر دلچسپ نفسیاتی بیماریوں کو زیر بحث لائیں گے جو علم نفسیات اور علم سیاسیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یقینا کسی بڑی دلچسپی سے خالی نہیں ۔ان دو میں سے ایک نفسیاتی بیماری کا نام Hyperthymesia ہے ۔مگر سوال تو یہ ہے کہ Hyperthymesia کیا ہے ۔؟ اس لفظ کا معنی ہے ایک ایسا انسان جسے اپنی زندگی کا ہر واقعہ بمعہ تفصیل یاد ہو ۔میڈیکل سائنس ریسرچ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ بیماری اکثر لوگوں میں پائی گئی ہے اوراس بیماری کے شکار ہونے والے کو اپنی زندگی کاہر واقعہ ،ہر لمحہ اور ہر چیز یاد رہتا ہے۔یاد رہے چند واقعات یا اکثر واقعات تو ہم سب کو یاد رہتے ہیں لیکن ہر اواقعہ بمع تفصیل یاد ہو اس کی یادداشت میں محفوظ ہو۔اس وقت دنیا میں چند ہی گنے چنے لوگ ہی ایسے ہیں جنہیں ایسی یادداشت نصیب ہے ۔ انہیں اپنی زندگی کا ہر واقعہ بمع تفصیل یادرہتا ہے۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے انہیں اپنی پیدائش سے لے کر اب تک رونما ہونے والے واقعات یادرہتے ہیں اور وہ کبھی بھول بھی نہیں سکتے چاہے ان کی عمر کتنی بھی کیوں نہ ہوجائے،جیسے وہ انسان نہیں گوگل سرچ انجن ہو ۔مطلب اس شخص کو اپنی زندگی کے ہر دن کا پتہ ہوتا ہے کہ فلاں دن یہ ہوا تھافلاں دن وہ ہوا تھا۔اس کی ایک مثال دیکھ لیں۔اگر میں آپ کو کہوں آپ 5.7.2012کو کیا کر رہے تھے تو اپ کو یادنہیں آئے گا مگر جس کو یہ بیماری لاحق ہو تو وہ پوری تفصیل سے سب کچھ بتا دے گا کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔بلاشبہ یہ ایک عجیب و غریب مگر دلچسپ بیماری ہے۔کچھ دیر کے لئے تصور کیجئے ۔اگر عوام کو Hyperthymesia نامی یہ بیماری اچانک لگ جائے تواس کا نتیجہ کیا ہوگا۔؟ اچانک انہیں یاد آجائے گا کہ روز اول سے لے کرآج تک انہیں صرف جھوٹے وعدوں پر ٹرخا یا گیاہے۔ سچ ہمیشہ ان سے چھپایا گیا ہے۔ ان کا بدترین استحصال کیا گیا ہے 'انہیں لوٹا گیا ہے' ان کا مذاق اڑایاگیا ہے 'انہیں برباد کیا گیاہے 'جان بوجھ کرانہیں غریب رکھا گیا ہے' زندگی کی بنیادی سہولیات سے انہیں محروم رکھا گیا ہے۔ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت انہیں ذہنی،ثقافتی،تہذیبی اور علمی طور پر کمزور اور پست رہنے دیا گیا ہے۔ ان کو کسی عمل چاہے وہ سیاسی ہو ،معاشی ہو یا سماجی اس میں حصہ نہیں لینے دیا گیاہے ۔ قدم قدم پرانہیں ذلیل و خوار کیا گیا ہے۔انہیں بے وقوف بنایا گیاہے ۔وغیرہ وغیرہ ۔ اگر ایسا کرشمہ ہوجائے۔ یقین جانئے ' وہ دن اشرافیہ کی زندگی کا آخری دن ہوگا اور اس کاایسا بھیانک انجام ہوگا کہ جسے دیکھ کر دنیا کانپ اٹھے گی۔ مگرایسا ہوتا ہوا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ۔ کیوں ۔؟
کیونکہ عوام Hyperthymesia کی بجائے ہمیشہ سے الزائمر نامی بیماری کا شکاررہے ہیں۔ یقینا اس موقع پر آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا ہوگا کہ الزائمر کیا ہے ۔؟یہ دماغی امراض کے مجموعے کانام ہے جس کا اب تک علاج دریافت نہیں ہوسکاہے۔یہ ایک تکلیف دہ مرض ہے ۔ایسی بیماری جس میں مریض سب کچھ بھول جاتا ہے۔اس میں مریض کی یادداشت وقفے وقفے سے ختم ہوجاتی ہے۔اسے کچھ یاد نہیں رہتا ۔ اس کااس نوعیت کا کوئی علاج نہیں جو اس سے ہونے والے نقصان کو ریورس کرسکے لیکن اس کو روکنایا اس کی رفتارکم کرنا ممکن ہے جس کے بعد مریض کی حالت کچھ بہتر ہوجاتی ہے ۔اگر علاج نہیں کریں گے توحالت قابل رحم حالت تک خراب ہوسکتی ہے ۔۔۔اس وقت عوام پوری طرح الزائمر کی گرفت میں ہیں۔اسلئے روز اول سے لے کر جوکچھ ان کے ساتھ ہوچکا ، وہ سب کچھ بھول چکے ہیں ۔انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کون کیا ہے اور کیاکررہا ہے ۔ اتنی بے حسی اور بے گانگی کہ اپنے معمولی سے معمولی حق بات بھی پوری دل گیری کے ساتھ ان کے لبوں تک نہیں آتی اور سسکتے ہوئے خاموشی سے اپنی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔کوئی احتجاج نہیں کرتے۔کوئی اجتماعی مزاحمت نہیں کرتے ۔اسی طرح زندگی کی رگوںمیں لہو کے سوتے خشک ہورہے ہیں اورایک ناگزیر عمل کی طرح انہیں بھرتے ہوئے برداشت کر رہے ہیں ۔ اسلئے جہاں بھی نظر دوڑائیں ہر کہیں بے حسی کا ور دورہ ہے ۔جو کچھ ارد گرد ہو رہا ہے ، اسے سننے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یاد رکھیں۔بے حسی انسان کے لئے ایک زہر ہلاہل کی حیثیت رکھتی ہے ۔یہ انسانی روح کا زنگ ہے جسے صاف کرنے کے لئے کسی کا احساس درکار ہوتا ہے۔لیکن بے حس انسانوں میں وہ بیدار ہی نہیں ہوتا۔بے حس قومیں جب دوسروں کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی نیت کریں وہ نہ تو آگے بڑھ سکتی ہیںنہ آزاد رہ سکتی ہیں ۔تقدیر ان کے لئے دائمی غلامی اور بے چارگی لکھ دیتی ہے ۔'' دشمن کی جارح افواج کے مقابلے میں مفتوح قومیں جلد یا بدیر کسی نہ کسی طرح آزادی حاصل کر ہی لیتی ہیں،لیکن بے حس قومیںزندگی بھر آزادی کا سورج نہیں دیکھ پاتیں ۔ '' ۔بقول اشفاق احمد ۔''فاتحہ لوگوں کے مرنے پہ نہیں احساس کے مرنے پہ پڑھی جائے کیونکہ لوگ مرجائیں تو صبرآجاتا ہے مگر احساس مرجائیں تو معاشرہ مرجاتا ہے''۔