بی آئی آر پروجیکٹ بمقابلہ تھری بی ڈبلیو

دنیا میں جس نئی سرد جنگ اور تقسیم کی دھندلی سی تصویر عالمی کینوس پر بنی ہوئی تھی آخر کار اس کے خدوخال پوری طرح واضح ہوگئے ۔دنیا ایک بار پھر پنتیس برس پیچھے کھڑی ہے جب یہ دو بلاکس اور دوسوچوں اور مفادات کے دومتضاد دائروں میں منقسم تھی۔ایک طرف امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک تھا تو دوسری طرف سوویت یونین کی سربراہی میں کمونسٹ بلاک ۔دنیا کا ہر چھوٹا بڑا ملک اسی تقسیم کے زیر اثر تھا ۔عالمی نظام پر بھی یہی تقسیم حاوی تھی ۔مغربی بلاک چونکہ عالمی نظام پر بالادستی رکھتا تھا اس لئے دنیا میں ہونے والے فیصلوں میں بھی اسی بلاک کی سوچ اور خوش نودی کو اہمیت اور مرکزیت حاصل تھی۔اب ایک معمولی سے فرق کے ساتھ ایک نئی سردجنگ اور عالمی تقسیم اُبھر رہی ہے اس میں سوویت یونین کی جگہ عوامی جمہوریہ چین سب سے بڑا ہدف ہے یا مدمقابل قوتوں کی قیادت سوویت یونین کی بجائے عوامی جمہوریہ چین کے پاس ہے ۔اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نائن الیون کے بعد سے دنیا میں زیادہ تر فیصلے ،اقدامات اور حادثے اسی گریٹ گیم کا حصہ اور اسی عالمی دنگل کے دائو پیچ رہے ہیں۔افغانستان کی طویل خانہ جنگی،پاکستان میں دہشت گردی اور معاشی بدحالی ،ترکی میں اردگان مخالف ناکام بغاوت،ایران میں عوامی مزاحمت ،عرب سپرنگ ، ملائیشیا میںمہاتیر محمد کا عروج وزوال ،بھارت کا مصنوعی طور پر بلند ہوتا ہوااقتصادی اور سیاسی قدسب گریٹ گیم کا حصہ رہے ہیں۔اس گریٹ گیم کو جوازیت دینے کے لئے اقوام متحد ہ جیسے عالمی اداروں پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے دہشت گردی ،انسانی حقوق اور جمہوریت کی اصطلاحات کی من پسند اور ذومعنی تشریحات کی گئیں۔یہ کھیل دوہزار کی دودہائیوں میں پوری قوت سے جاری رہا اور اب یہ ایک واضح اور حتمی منزل اور انجام کی طرف بڑھتا ہو ا نظر آتا ہے۔اس کا فیصلہ کن راونڈ برطانیہ میں ہونے والا جی سیون ملکوں کا اجلاس ثابت ہو ا جس میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹیوکے مقابلے میں بلڈ بیک بیٹر ورلڈ''بی تھری ڈبلیو'' منصوبے کا اعلان کیا ۔جی سیون ملکوں میں مغرب کے بالادست ممالک امریکہ ،برطانیہ ،جرمنی ،کینیڈا،اٹلی ،فرانس اور جاپان شامل ہیں ۔ان ملکوں نے پہلی بار اپنے کسی مشترکہ منصوبے کا مقابلہ عوامی مفاد کے نام پر نہیں بلکہ محض چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے اعلانیہ مقابلے کے طور پر کیا۔اس اجلاس کا مرکزی نقطہ ہی اقتصادی اور سیاسی میدان میں چینی صدژ ی جن پنگ کی جارحانہ پالیسی کا توڑ کرنا اور اس کے مقابلے کے لئے ایک متبادل دنیا تشکیل دینا ہے۔گویاکہ ماضی کی سردجنگ کی طرح نئی سردجنگ کی بنیاد بھی مثبت نہیں بلکہ اندھی مخالفت کا جنون ہے۔ماضی میں مغربی بلاک پر کمیونزم کے مقابلے کا جنون سوار تھا اور اب چین کی اقتصادی اور سیاسی قوت کا مقابلہ واحد ہدف ہے اور اس کے لئے چالیس ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کار ی کی جارہی ہے۔کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے چین کے مقابلے کے لئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا اور بی تھری ڈبلیو اس کی عملی شکل ہے۔چین نے برطانیہ میں ہونے والے ان فیصلوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن گئے جب چند ملکوں کا چھوٹا ساگروپ دنیا کو ڈکٹیٹ کراتا تھا ۔ چین کے ا س سخت انتباہ نے نئی سرد جنگ کے خدوخال کچھ اور واضح کر دئیے۔بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ چین کا دنیا سے زمینی اور سمندری راستوں سے جڑنے کا منصوبہ ہے جس کا اعلا ن2013میں کیا گیا تھا۔139کے قریب ملکوں نے اس منصوبے میں شمولیت پر باقاعدہ رضامندی ظاہر کی تھی ۔پاک چین اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا محض ایک حصہ ہے ۔اس منصوبے کے پانچ حصے ہیں جن میں چین کو منگولیا کے راستے زمین کے راستے روس سے ملانا ،چین کو مشرقی یورپ سے ملانا،وسط ایشیا سے ملاناشامل ہے ۔چین پاکستان راہداری کا مقصد چین کو بحیرہ عرب سے ملانا ہے۔چین کی قدیم سمندری گزرگاہ کے راستے ایک منصوبہ بنگلہ دیش کے راستے بھارت کو ملانا بھی ہے۔آٹھ برس قبل چین کے موجودہ صدر ژی جن پنگ نے قازقستان میں اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا امریکہ روز اول سے اس منصوبے کا مخالف تھا ۔بھارت اگر مگر کا سہارا اور گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقہ ہونے کے نام پر اس منصوبے کی مخالفت کر رہا تھا عملی طور پر امریکہ ہی بھارت کی پیٹھ تھپتھپا رہا تھا ۔ اسی سے پراعتماد ہو کر بھارت نے سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے انواع واقسام کی عسکری تنظیمیں کھڑی کیں اور پاکستان میں سبوتاژ کی کاررائیوں کی سرپرستی کی۔ اب برطانیہ اجلاس میں انہوںنے کھل کر کھیلنے کا آغاز واعتراف کر دیا ہے ۔چین نے اس کو کولڈ وار کی ذہنیت قرار دے کر شدید ناپسندیدگی کا اظہا ر کیا ہے ۔ایک طرف کواڈ کے ذریعے چین کا گھیرائو کرنا مقصود ہے تو دوسری طرف جی سیون کے ذریعے اقتصادیات کی دنیا میں چین کا مقابلہ کرنے کے لئے تھری بی ڈبلیو کا ڈول ڈال دیا گیا ہے اور یوں دنیا چار دہائیاں پیچھے پہنچا دی گئی ہے۔