خبردارآپ میں سےکسی نے اس ناجائز،نالائق حکومت کیلئےریاست مدینہ کالفظ استعمال کیا،بلاول بھٹو زرداری

ویب ڈیسک (اسلام آباد)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا بجٹ اور بجٹ سیشن دونوں غیر قانونی ہے۔

حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ خبردار کسی نے ناجائز حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ استعمال کیا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پر بجٹ کتاب پھینکی گئی، اسپیکر صاحب آپ کو نیا پاکستان مبارک ہو۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے بجٹ سیشن سے اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپوزیشن کو کرنی ہے، حکومت اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی تو حکومت کون چلائے گا، یہ چاہتے تھے اپوزیشن کو موقع نہ ملے اور بجٹ عوام کے سامنے نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے تھے کہ معاشی ترقی کی جھوٹی کہانی گالم گلوچ سے سچ ثابت کریں، ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عوام کو ہماری تقریروں کی ضرورت نہیں، عوام تو آپ کی منہگائی کی سونامی میں ڈوب رہی ہے، نوکری پیشہ شہری اپنے والدین کے لیے دوائی نہیں خرید سکتا، مزدور عمران کی مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے، جو ماں گھر میں کھانا پکاتی ہے عمران خان کی مہنگائی سے واقف ہے۔

پاکستان میں عمران کی مہنگائی افغانستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے زیادہ ہے، پیپلزپارٹی کے دور میں بھی مہنگائی تھی ہر دوسرا دن دہشتگردی کے واقعہ ہو رہے تھے بہت مہنگائی تھی ،مگر ہم نے آپکی طرح عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا۔ہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے تھےاگر مہنگائی ہے تو لوگوں کو مالی امداد پہنچنی چاہیے۔مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت میں تاریخی اضافہ مگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں معمولی اضافہ ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2009 میں 20 ،2010 میں 15 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا 2011 میں 50 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا، ہمارے دور میں مجموعی طور پر تنخواہوں میں 120 فیصد اضافہ ہوا، آپ نے صرف دس فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا اور عوام کو لاوارث چھوڑا،پیپلز پارٹی نے تو پنشن میں بھی سو فیصد اضافہ کیا، ہم نے تو سرحدوں کے تحفظ کرنیوالے سپاہیوں کی تنخواہوں میں 175 فیصد اضافہ کیاکم سے کم تنخواہ سندھ حکومت نے اب بھی 25 ہزار رکھی ہے۔ آپ نے سرکاری ملازمین سے احتجاج کے بعد معاہدہ کیا تھا،آپ نے سرکاری ملازمین کو دھوکہ دیاجس طرح سے آپ نے لوگوں کو لاوارث چھوڑا وہ کبھی آپکو معاف نہیں کریں گے۔آپکے بجٹ کیوجہ سے پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمت میں جب اضافہ ہوتا ہے تو ہر پاکستانی آپکی نالائقی کا بوجھ اٹھاتا ہے، اگر معاشی ترقی ہو رہی ہے تو بے روزگاری کیوں ہے، آپ نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھی الٹا جن کے پاس روزگار تھا انکو بھی بے روزگار کر دیا ہے، نہ صرف بے روزگاری بلکہ غربت میں تاریخی اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ خورشید شاہ، خواجہ آصف اور علی وزیر کو نہیں لایا جا رہا، ان کے علاقے کے عوام بجٹ میں حصہ نہیں لے رہے ،ان کی نمائندگی نہیں،جبکہ ہر رکن اسمبلی کا حق ہے کہ وہ بجٹ سیشن کو اٹینڈ کرے،مگر آپ پروڈکشن آرڈرایشو نہیں کر رہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو ہمارا مواصلات کا وزیر ہے اسے سی پیک کی وجہ سے چین کے ساتھ میٹنگز کرنی چاہیئے، وزیر مواصلات اس دن اجلاس میں بندرکی طرح اچھل رہا تھا۔بلاول بھٹوکی مرادسعید کیخلاف بات پرحکومتی اراکین اپنی سیٹوں پرکھڑے ہوگئےسپیکرنےحکومتی اراکین کو بیٹھنےکی ہدایت کردی۔اسپیکر نے بلاول بھٹو کے الفاظ خذف کرا دیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگرآپ کہیں گےآپکےوزیراعظم کی پسند کی تقریر ہوایسے نہیں ہو سکتا، اس دن آپ نے نہیں دیکھا ہمارے وزیرامور کشمیرکا کردار کیا تھا،وہ جو کشمیر کا سوداکرسکتا ہے کلبھوشن کو این آر او دینے کی کوشش کر رہا ہے۔آزاد کشمیر کو بھی آپ نے نہیں چھوڑا،آزاد کشمیر رو رہا ہے کہ آپ ان پر ٹیکس لگانے جا رہے ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر صاحب آپکا ایک خاندان ہے کیا آپکےبچوں نےنہیں پوچھا کہ وہاں کیسےایوان چلایاجا رہا ہے،دنیا سلیکٹرز کے بارے کیا سوچے گی کہ انہوں نے ناکام ترین حکومت دی ہے۔جب بھی ہم 18 ویں ترمیم اور این ایف سی کی بات کریں تو سندھ کارڈ کا طعنہ سننا پڑتا ہےاگر این ایف سی ایوارڈ نہیں ہو گا تو ہر صوبے کا نقصان ہو گا۔ یہ آپکا آئینی فرض ہے،آپ نہ صرف اپنے آئینی فرض پر پورا نہیں اتر رہے بلکہ ہر سال کا صوبوں سے وعدہ نہیں پورا کرتے۔

بلاول بھٹو نے کہا پختونخوا کا قصور کیا ہے کہ جب آپ اپوزیشن میں ہوتے تھے تو نیٹ ہائڈل پرافٹ کا مطالبہ کرتے تھے،
صوبہ خیبر پختونخوا کو صرف 23 ارب ملا، پختونخوا کا قصور کیا ہے،پختونخوا 60 فیصد مقامی آئل پروڈکشن کرتا ہے انکو انکاحق دیا جا ئے اور قبائلی علاقوں کو ٹیکس ریلیف کا ذوالفقار بھٹو نے ریلیف دیا تھا آپ ان پر جی ایس ٹی ٹیکس لگانے جا رہےہو۔

پنجاب میں سب سے زیادہ زراعت ہے، ہماری زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جسکے لیے آپ نے 12 ارب رکھا ہے۔ آپ نے کسان کو لاوارث چھوڑا ہے، آپ نے کسانوں کو فرٹیلائزر سبسڈی تک نہیں دی، آپ چاہتے ہو کہ پاکستان کا کسان بھارت کے کسان کا مقابلہ کرے جو یوریا یہاں 800 کا بیگ ہے بھارت میں 500 کا ہے،آپ نے کسان پر بوجھ ڈالا ہے۔