کورونا کی تیسری لہر اور آئی ٹی سیکٹر

بھارت میں کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران مہاراشٹر کی ریاست سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی' جہاں اب تک 40 لاکھ کیسز آ چکے ہیں۔ بھارت کا معاشی حب ممبئی بھی اسی ریاست کا حصہ ہے، اس شہر میں کورونا کے سب سے زیادہ مریض سامنے آئے تھے اور صحت کا انفراسٹرکچر بری طرح ناکام ہوا تھا۔
مہاراشٹر میں کورونا کی پہلی لہر میں 19 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، دوسری لہر کے دوران ان کی مجموعی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اب اسی ریاست کی ٹاسک فورس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وبا کی تیسری لہر اگلے دو سے چار ہفتوں میں شروع ہو سکتی ہے جس میں کورونا کیسز کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تیسری لہر سے متاثر ہونے والوں میں 10 فیصد بچے اور نوجوان ہوں گے۔ جبکہ لوئر مڈل کلاس کے اس کی لپیٹ میں آنے کے امکانات بہت بڑھ چکے ہیں۔ یہ کلاس کورونا سے کافی حد تک محفوظ رہی تھی۔ لوئر مڈل کلاس میں چونکہ کورونا نہیں پھیلا تھا، اس لیے ان میں اینٹی باڈیز موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا کی تیسری لہر کے دوران یہ اس کا سب سے بڑا شکار بن سکتے ہیں۔
برطانیہ میں بھی کورونا کے کیسز ایک بار پھر سے بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں نے تیسری لہر کی آمد کے متعلق خبردار کر دیا ہے۔ بھارت میں دوسری لہر کا ذمہ دار ڈیلٹا وائرس تھا جو کورونا کا ایک تغیر پذیر وائرس تھا۔ یہی وائرس اب برطانیہ میں پھیل رہا ہے 'جہاں 90 فیصد مریض اس سے متاثر ہیں۔
خطرناک بات یہ ہے کہ اس وائرس نے اپنی ہیئت مزید تبدیل کر لی ہے۔ اس کی نئی شکل کو ڈیلٹا پلس کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا آغاز یورپ سے ہو چکا ہے۔ ابھی تک اس پر تحقیق جاری ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ یہ کس قدر مہلک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ تاہم مہاراشٹر ٹاسک فورس کے مطابق بھارت میں تیسری لہر اسی وائرس کی وجہ سے آ سکتی ہے۔
اس وقت دنیا بھر کے سائنسدان بار بار کہہ چکے ہیں کہ کورونا ویکسین لازمی لگوانی چاہیے کیونکہ اس کی بدولت انسانی جان محفوظ ہو جاتی ہے۔ البتہ جن لوگوں نے ویکسین لگوا لی ہے، انہیں بھی یہی ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہنیں، گھر کے اندر تقریبات سے احتراز کریں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ گویا ویکسین لگوا لینے سے کسی کو بھی لاپرواہ ہونے کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اپنی شکل تبدیل کرتا رہے گا اور ایک وقت آئے گا جب یہ فلو کی طرح کا کم خطرناک وائرس بن جائے گا۔ اس مرحلے تک پہنچنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں، اس دوران یہ مزید تباہی پھیلا چکا ہو گا۔ اس لیے جب تک یہ مرحلہ نہیں آتا، اس وقت تک ویکسین اور احتیاط بہت لازمی ہے۔
اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہماری سماجی عادات میں جو تبدیلیاں اس وبا کے باعث آئی ہیں، وہ مزید کئی برس تک جاری رہیں گی اور ان میں سے کئی ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن جائیں گی۔
کورونا کے باعث ٹیکنالوجی پر انسان کا انحصار بڑھ گیا ہے، ''ورک فرام ہوم'' کا کلچر عام ہو گیا، آن لائن تعلیم معمول بنتا جا رہا ہے، انٹرنیٹ پر خریداری کا رجحان غیرمعمولی طور پر بڑھ گیا ہے، لوگوں نے ہاتھ ملانا اور گلے ملنا کم کر دیا ہے۔ غرضیکہ دنیا میں ایک غیرمعمولی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے جسے ایک درجے کا انقلاب کہا جا سکتا ہے۔
اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو اس وبا کے دوران آئی ٹی کے شعبے میں بہت سے امکانات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جو رزق کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔ کورونا کے باعث آنے والی تبدیلیوں نے ان نوجوانوں کے لیے بھی نئے راستے کھول دیے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس پہلو کا ابھی تک مکمل ادراک نہیں کیا جا سکا۔
حکومت اگرچہ آئی ٹی کے شعبے میں کئی مفت کورسز کرا رہی ہے مگر اس سلسلے کو جنگی بنیادوں پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارا نوجوان اس شعبے میں اسی طرح شامل ہو گیا جس طرح کی صورتحال بھارت میں ہے تو ہماری برآمدات کو بہت بڑا مہمیز مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع میسر آ جائیں گے جس سے حکومت پر بوجھ کم ہو گا جبکہ کثیر زرمبادلہ ملکی خزانے کو ہر سال ملتا رہے گا۔
دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر سب سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں آج بھی سرکاری نوکری کی تلاش میں لوگ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے کیونکہ آئی ٹی کے سیکٹر سے بہت زیادہ پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔