مسیحا کی منتظر قوم

انسان کی صلاحیتوں کا درست اندازہ مشکل وقت اور بحران میں ہوتا ہے، اور جو شخص مشکلات کے باوجود بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے اس پر اعتماد کا اظہار کر کے اس کی تقلید کی جاتی ہے، دنیا بھر میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ جن شخصیات نے اپنی قوم کو بحرانوں سے نکالا قوم نے انہیں اپنا مسیحا تسلیم کرکے اس کی اطاعت کو اپنے لئے قابل فخر جانا۔ جس طرح کسی شخص کی صلاحیتوں کے جانچنے کا پیمانہ مشکلات اور بحران ہیں اسی طرح اقوام بھی مصائب، مشکلات، آفات اور پریشانیوں میں ترقی کرتی ہیں ، بلکہ بعض حکما تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بحران قوموں کو کندن بنا دیتے ہیں، کیونکہ قوموں کو عام حالات میں اپنی صلاحیتوں کا ادراک نہیں ہو پاتا، تاہم جو قومیں مشکلات اور بحرانوں میں بھی حالات سے سبق حاصل نہیں کرتی ہیں، تنزلی ان کا مقدر بن جاتی ہے اور وہ حالات کا مقابلہ کر کے نئی راہ تلاش کرنے کی بجائے کسی مسیحا کا انتظار کرنے لگتی ہیں۔ پاکستان کے معروضی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے کہ عام آدمی سے لیکر سیاسی قائدین تک سبھی کو کسی مسیحا کا انتظار ہے، بعض لوگ حالات کی سنگینی کے پیش نظر انقلاب کی بات کرتے ہیں تو اس کے پس پردہ بھی یہی سوچ کار فرما ہوتی ہے ۔ اسی طرح عوام کی اکثریت حکمرانوں سے توقعات وابستہ کر کے انہیں کوستے رہتے ہیں مگر خود کو مثالی قوم بننے کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔
دوسری طرف موجودہ دور میں جن اقوام نے ترقی کی ہے وہاں پر انقلاب آیا ہے اور نہ ہی کوئی غیر معمولی شخصیت کا ظہور ہوا ہے لیکن اس کے باوجود مغربی ممالک نے ترقی کی ہے، مغرب کی اس ترقی کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ انہوں نے مادی ترقی سے پہلے سماجی ترقی پر زور دیا ہے، عدل و انصاف کا قیام، ریاست کی رٹ کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عام شہری کو تحفظ فراہم کیا ہے، پائیدار سماج تشکیل دینے کے بعد انہوں نے مادی ترقی کی ہے اور اس مقصد کیلئے باہر لوگ نہیں آئے بلکہ انہوں نے ایسا سسٹم بنا دیا ہے کہ باہر سے آنے والے لوگ مجبور ہیں کہ ان کے سسٹم کو فالو کریں، بلکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ جو لوگ یہاں پاکستان میں قواعد و ضوابط اورڈسپلن کا خیال نہیں رکھتے وہ بیرون ملک ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ارباب اختیار کے پروٹوکول کے باعث ہزاروں شہریوں کو اذیت سے گزرنا پڑتا ہے مگر بیرون ممالک یہی وی آئی پی شخصیات بغیر پروٹوکول کے عوامی جگہوں پر دکھائی دیتی ہیں، سو یہ کہنا کہ باہر سے کوئی آ کر ہمارے سسٹم کو ٹھیک کر دے گا یا ہمیں مشکل حالات سے نکال دے گا یہ سوچ ہی مسائل میں دکھیلنے کیلئے کافی ہے۔
پاکستانی قوم نے جن مشکلات اور بحرانوں کا سامنا کیا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ قوم اب تک کندن ہو چکی ہوتی، ہم ترقی کی معراج پر ہوتے جس طرح ہمارے پڑوس میں چین نے مشکلات کے بعد مثالی ترقی کی ہے، مگر ہم مزید تنزلی کی طرف گامزن ہیں، گزرتے لمحات میں ہمارے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ہم حالات کا رونا رو رہے ہیں کہ حالات نے ہمیں پیچھے کر دیا ہے، یہ حقیقت ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک امیر ہوئے ہیں تاہم ہمارے مسائل میں دو چند اضافہ ہو گیا اور اس کا اظہار ارباب اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی قوم جس صورتحال سے دو چار ہے اسے فکری انحطاط سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جب کوئی قوم فکری انحطاط کا شکار ہوتی ہے تو اس کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں، بلکہ احساس کمتری کے باعث دوسری اقوام کی نقالی پر مجبور ہوتی ہے، فکری جمود کو جنم دینے میں آباء پرستی کا بڑا کردار ہے ، کیونکہ انسان اس پر کار بند رہتے ہوئے سوچنے کا عادی ہوچکا ہوتا ہے وہ اپنی عقلی قوت کا استعمال یا تو کرنا ہی نہیں چاہتا یا کرنے کو برا سمجھتا ہے ، وہ یہ سوچتا ہے کہ ہم سے بڑے اور ہمارے سابقین اور ہمارے آباء و اجداد جس فکر پر گامزن رہے اور جس راہ پر چلتے رہے بس اسی پر چلنا چاہئے، وہ ان رجحانات اور طریقوں کے بارے میں غور نہیں کرتا جس پر غور کرنا ضروری اور وقت کا تقاضا ہوتا ہے ، آباء پرستی ایسی بیماری ہے جو انسانی عقل کو دھیرے دھیرے بے انتہا کمزور اور نحیف بنا دیتی ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے اگر کسی شیرخوار بچے کو صرف دودھ ہی پلایا جائے اورکوئی اور چیز کھانے اور پینے کے لئے نہ دی جائے جو اس کی نشو ونما کے لئے ضروری ہے، یہ عادت جب قوموں کو لگ جاتی ہے تو وہ ان کو ترقی کی شاہراہ پر نہیں آنے دیتی اور برابر یہ بیماری ان کو پیچھے دھکیلتی رہتی ہے۔ تحقیق وریسرچ کی جانب سے غفلت ولاپرواہی نے جمود کی تاریکی میں مزید اضافہ کیا ، کیونکہ جب تحقیق وبحث کا سلسلہ کمزور یا بند ہوگیا یا ا س کے معیار میں پستی وگراوٹ آئی تو پھر وہ کھڑکیاں نہیں کھل سکیں جن سے نئی ہوا آتی اور عقل کی روشنی میں اضافہ کرتی، فکر کو تازگی بخشتی، علوم وفنون کے تمام اصناف میں تحقیق کے فقدان نے ترقی حاصل کرنے سے ہمیں روکا یہاں تک کہ ہم فکری انحطاط کی وجہ سے مغلوبیت کا شکار ہوتے چلے گئے اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہمیں کسی مسیحا کا انتظار ہے، یاد رکھیئے
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا