حکومت اور اپوزیشن کا بجٹ ڈرامہ

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہوچکا ہے اور لیڈروں سے زیادہ آپ باخبر ہیں کہ اس بجٹ میں غریب عوام کے لئے کیا کچھ رکھا گیاہے جی ہاں اس پر بحث کی بجائے گولہ باری ہوئی۔ گالم گلوچ ہوا بجٹ کی بھاری بھرکم کتابوں کو ایک دوسرے کی طرف اچھالاگیا ۔ یہ اچھالنے والے نہیں سمجھ سکتے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے یہ سارے کتابچے چھاپے گئے ہیں ، اس اسمبلی کی ایک ایک اینٹ ، کرسی، میز اور قیمتی ترین کمپیوٹر عوام کے ٹیکس کے ہیں ۔مگر مجال ہے کہ ان کا ذرہ برابر بھی دل دکھتاہو اور اگر پوچھوتو دونوں طرف کے لوگ یہ ہی کہیں گے کہ یہ سب کچھ عوام کے بھلے کیلئے ہی ہورہاہے ۔ میری کم علمی دیکھیں کہ گزشتہ دودنوں سے مسلسل سوچ رہاہوںکہ اس میں عوام کی بھلائی کہاں ہے تاکہ میں اسے عوام تک پہنچاسکوں ۔ لاکھوں روپوں کی لاگت سے چھپنے والے یہ بجٹ کتابچے ایک دوسرے پر پھینکنے میں عوام کو کیا فائدہ ہورہاہے یا قومی اسمبلی کی عمارت میں موجود کھربوں روپوں کے قیمتی سامان کی تباہی میں عوام کا کیا مفاد چھپاہے۔ میرا ارادہ تھا کہ بجٹ کے ثمرات پر اپنے قارئین کے لئے کچھ لکھوں لیکن اس بجٹ اجلاس کی دھینگا مشتی، کھینچا تانی اور اسمبلی کے قیمتی سامان کی تباہی کا حال دیکھتا ہوں تو کلیجہ صرف دو روپے سے پانچ روپے تک کی ریلیف دی اور وہ بھی یوٹیلیٹی سٹور ز پر عام آدمی کی تذلیل کرکے کہ سارا سارا دن قطاروں میں کھڑا رہے کچھ یہی حال پٹرول اور ڈیزل کا ہے ہر ماہ یا ہر چند ماہ بعد نرخ بڑھ جاتے ہیں، یہ ایک قسم کی مصنوعی مہنگائی ہے کہ عوام کو اشتعال بھی نہ آنے دو اور اپنی مرضی کی مہنگائی بھی ہوجائے اب پٹرول اور ڈیزل کے نرخ بڑھنے سے ہر چیز کے نرخ میں فرق آجاتا ہے یہ کیوں آتا ہے اس کا پوچھنے والا کوئی نہیںہر ایک اپنی من مانی کر رہا ہے ، اب دوسری طرف آتے ہیں گھی اور خوردنی تیل کی قیمیں بھی بغیر کسی روک ٹوک کے بڑھی جارہی ہیں ہر محکمہ نے بجٹ سے پہلے اور بعد میں اپنے بجٹ پیش کرنے ہیں تنخواہ دار طبقہ کی تنخواہ تو دو فی صد سے دس فیصد تک بڑھتی ہے اور مہنگائی اسکے مقابلے میں گیارہ فیصد سے شروع ہو کر پچاس فیصد تک جاتی ہے اور عوام بے چارے ان بجٹوں کے بوجھ تلے دبے کچھ کہنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ غریب عوام تو اپنی تنخواہ یا زرائع آمدن کو دیکھ اور اخراجات کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا رہتا ہے ۔اس کے پیٹ میں تو اتنی خوراک بھی نہیں جاتی کہ جس کے زور پر وہ سڑکوں پر آئے اور اپنی جمہوری حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ سرکاری محکموں کے ساتھ ساتھ ہمارے نجی محکمے بھی اپنے بجٹ گاہے بگاہے پیش کرتے رہتے ہیں ۔قومی اسمبلی میںتو صرف بجٹ کا ڈرامہ ہورہاہے یوں حکومتی اور اپوزیشن ارکان اس ڈرامہ میں اپنا اپنارول اداکررہے ہیں۔