مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو بچھڑے 3 برس بیت گئے

ویب ڈیسک (کراچی)معروف ادیب اور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو ہم سے بچھڑے تین سال ہوگئے، ادب میں ان کے بعد پیدا ہونے والا خلا پر نہ ہوسکا۔

مشتاق احمد یوسفی بھارت کے شہر جے پور راجھستان میں 1923 میں پیدا ہوئے، ان کے والد عبدالکریم خان یوسف زئی جےپور اسمبلی کے اسپیکر رہے، مشتاق یوسفی نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آگرہ یونیورسٹی سے بی اے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے فلاسفی اور ایل ایل بی کیا۔

قیام پاکستان کے وقت مشتاق احمد یوسفی نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کی، وہ مختلف بینکوں میں اہم عہدوں پر رہنے کے بعد چیئرمین پاکستان بینکنگ کونسل بھی رہے۔

ادب سے مشتاق یوسفی کا گہرا لگاؤ ان کی پہچان بنا، ان کی پانچ مقبول کتابوں آب غم، چراغ تلے، خاکم بدہن، شعر یاراں اور ذرگرشت نے اردو ادب میں خاص مقام حاصل کیا۔

وہ مزاح نگاری میں اس طرح بات کہہ جاتے تھے کہ سننے والے کو بھی بعد میں اس کی سمجھ آتی، اردو ادب کے مشہور مصنف ابن انشا نے بھی مشتاق احمد یوسفی کے طنز و مزاح کی تعریف کی۔ادب میں نمایاں کارکردگی پر حکومت پاکستان کی جانب سے سنہ 1999 میں انہیں ستارۂ امتیاز اور سنہ 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

20 جون 2018 کو طویل علالت کے بعد مشتاق احمد یوسفی اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔