بلاول بھٹو کا فہمیدہ موقف

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا یہ کہنا بجاطور پر درست ہے کہ ہمارے وزیراعظم اور وزیرصحت عمران خان ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں ہم ان پر تنقید کرکے سیاسی واہ واہ سمیٹنے کی بجائے ان کی قیادت میں مشکل حالات سے نکلنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سیاست اور مخالفانہ بیان بازی کیلئے بہت وقت پڑا ہے، یقینا سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور کے مطابق جدوجہد کا راستہ اپناتی ہیں یہی ان کی سیاسی بقا کیلئے اہمیت رکھتا ہے البتہ آج کے مشکل حالات میں ہمیں دنیا سے راہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں حکومتیں' اپوزیشن اور ریاستی ادارے جس اتحاد واتفاق کیساتھ قومی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے سرگرم عمل ہیں ان سے راہنمائی لینے میں کوئی قباحت نہیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاسی عمل ذاتی دشمنیوں پر نہیں فہم ومنشور کے تشخص کا عملی مظاہرہ ہیں۔ آج پاکستان کو جن حالات اور مشکلات کا سامنا ہے اس میں حکومت اور ادارے تو ایک پیج پر ہیں ہی اس طرح اگر حکومت اور حزب اختلاف کے مختلف الخیال دھڑے بھی قومی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کریں تو کم وقت میں اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے تعاون کی پیشکش اور تجاویز پر غور کرنا چاہئے اس سے کسی فرد یاجماعت کی فتح وشکست نہیں بلکہ عوام کو پرعزم جدوجہد کی اُمید ملے گی۔
مہنگائی کا ''کورونا''
اسے بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ پاکستان میں کاروباری شعبہ سے ایسے لوگ بھی منسلک ہیں جو رنج وخوشی ہر دو مواقع پر اپنے فرائض کو نبھانے کی بجائے منافع خوری کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان عناصر کیخلاف اقدامات کا تو ہمیشہ اعلان ہوتا ہے مگر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ پچلے مہینہ بھر سے ملک بھر میں منافع خوروں کی چاندی ہوئی ہے، 10روپے والا ماسک 100روپے میں اور اسی طرح دوسری اشیاء اصل قیمت سے تین چار سو فیصد زائد قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ صوبوں میں قائم ڈرگ اتھارٹیاں خواب خرگوش سے بیدار ہوں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اسی طرح محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ اشیائے ضرورت مہنگی ہونے دیں گے نا ذخیرہ، عمومی صورتحال ان اعلانات کے برعکس ہے۔ پچھلے ایک ہفتہ میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں 10سے 20فیصد اضافہ ہوا، مہنگائی کے اس ''کورونا'' کا بھی کورونا وائرس کی طرح سخت فیصلوں سے علاج ممکن ہے۔ چاروں صوبائی حکومتیں ادویات' اشیائے خورد ونوش اور دیگر چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے فوری اقدامات کریں اس حوالے سے عوام کا یہ مطالبہ درست ہے کہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف ہنگامی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
میڈیا ہاؤسز کے واجبات اور وزیراعظم کی یقین دہانی
وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو ایک میڈیا ہاؤس کے سربراہ سے گفتگو کے دوران میڈیا ہاؤسز کے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت' قوم اور ذرائع ابلاغ کے ادارے اس مشکل وقت میں متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعظم کی بات اس ملک کے ہر شہری کی دلی آرزو ہے۔ میڈیا ہاؤسز کے واجبات کے حوالے سے ہم ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پچھلی حکومت کے دور کے جو بلز نئی حکومت کے آنے پر روکے گئے ان کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے وزیراعظم ذاتی طور پر دلچسپی لیں۔ ذرائع ابلاغ کے اد ارے ہوں یا ان میں خدمات سرانجام دینے والے کارکن یہ سیاسی محبتوں سے زیادہ اپنے فرائض کی ادائیگی اور مسلمہ ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہیں، میڈیا کا کام عوام کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا ہے، مشکل تب پیش آتی ہے جب سرکاری اشتہارات کے ضمن میں ادائیگیوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ وزیراعظم اس امر کو یقینی بنوائیں کہ معمول کی ادائیگیوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہو تاکہ میڈیا ہاؤسز اور کارکنان اپنے فرائض ادا کرنے میں دشواری محسوس نہ کریں۔