پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یومِ پیدائش پر پیغام

پی پی پی چیئرمین نےاسلامی دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کی 68 ویں سالگرہ پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ
سال گذریں یا صدیاں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی طویل جدوجہد، عظیم قربانی اور انسان دوست فلسفہ لازوال ہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد، قربانی اور فلسفہ کی بدولت پاکستانی عوام کی حتمی فتح اب قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں گورننس ڈی ریل، ادارے یرغمال اور عوام سفاک کارٹیلز کے رحم و کرم پر ہیں،ایسے بدترین حالات میں ہر محبِ وطن پاکستانی کا دخترِ مشرق کے عوام دوست ویژن کی کمی کو محسوس کرنا فطری ردعمل ہے۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک تحریک کا نام ہے اور عوامی تحریکیں تاریخ کی مائیں ہوتی ہیں اور نئے ادوار کو جنم دیتی ہیں۔بطور سیاسی رہنما شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ملک میں عوامی سطح پر جمہوری سوچ کو پروان چڑھایاااور یک منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے آئین و پارلیمان کی بالادستی کے لیئے ہم آہنگی پیدا کیعوام دوست طرز حکمرانی کے لیئے ادارے قائم کیئے اور تعیلم، صحت و روزگار کے مواقعے جیسی بنیادی حقوق تک پسماندہ طبقات کی رسائی کو یقینی بنایا۔خواتین، بچوں، اقلیتوں، اور مزدوروں کی فلاح و بھبود کے لیئے قانونسازی کی اور گیم چینجر پروگرامز متعارف کرائےحکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے سب سے بڑھ کر ہمیشہ عوام کو امید دی۔عوام دشمن قوتوں کی جانب سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر کیئے جانے والے مظالم پر انسانیت ہمیشہ شرمندہ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ مظالم جو ان کے والد، دو بھائیوں اور بے شمار ساتھیوں کو قتل کرنے اور خود انہیں پابند سلاسل بنانے سے شروع ہو کر جھوٹے مقدمات اور پروپیگنڈہ سے بھی آگے جاتے ہیں،شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر ظلم کے پہاڑ اس لیئے توڑے گئے، کیونکہ ظالموں کو معلوم تھا کہ 'دخترِ مشرق' صرف قائدِ عوام کی فکر و جدوجہد کی وارث نہیں، وہ قائدِ اعظم کے نظریئے اور ویژن کی بھی علمبردار ہیں۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو آمریت، دہشتگردی، اور انتھاپسندی کے خلاف آنے والے نسلوں کے لئے ایک امید اور ولولے کی علامت ہیں۔

بلاول نےکہا کہ عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے ایک لمحے کے لیئے بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو فراموش نہیں کیا۔تاریخی طور، پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو فراموش کرتی ہے نہ دشمنوں کو پہچاننے میں غلطی، بلاول بھٹو زرداری نے عزم کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی شہید ماں کے نامکمل مشن کو پورا کرنے کے لیئے جدوجہد جاری رکھوں گا وہ مشن جو پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانے اور عوام کو خوشحال بنانے کا مشن تھا۔

خیال رہے سابق وزیر اعظم پاکستان اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹوشہید کی 68ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے ۔بے نظیر بھٹو پہلی مرتبہ 1988 میں اور دوسری مرتبہ 1993 میں پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں۔

سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔

4اپریل 1979 کواپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی وفات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے 29 برس کی عمر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی۔

16نومبر 1988 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے تو قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر1988 میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ جلد الٹ دیا گیا لیکن محترمہ کو پاکستان اور عالم اسلام کی دو دفعہ خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہے۔

خود ساختہ جلا وطنی کے بعد جب محترمہ بے نظیر بھٹو 18 اکتوبر2007 میں وطن واپس آئیں تو ان پر کراچی میں حملے کی کوشش کی گئی تھی۔بینظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007 کو وطن واپس پہنچیں تو کراچی میں ان کے قافلے پر خودکش حملہ ہوگیا جس میں وہ بال بال بچیں تاہم 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔

پہلے حملے کے ٹھیک 2 ماہ 9 دن بعد سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا۔