جی ڈی پی: مغالطے اور سیاست

معاشی معاملات پر جب سیاست اور پراپیگنڈہ کی دھند پھیلا دی جاتی ہے تو حقیقت کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ معاشی شرح نمو یا جی ڈی پی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جسے سیاست کی دھول نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
بنیادی طور پر جی ڈی پی کسی بھی ملک کی پورے سال کی معاشی سرگرمی کی عکاس ہوتی ہے۔ اگر گزشتہ برس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے دوران اس کی شرح بڑھ جائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے۔ مگر یہ ایک سطحی سی تعریف ہے۔ اس معاشی سرگرمی کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد فیصلہ ہو سکتا ہے کہ جی ڈی پی میں اضافے سے ملک کو یا عام آدمی کو کتنا فائدہ یا نقصان پہنچا ہے۔
جی ڈی پی کے چار حصے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ عوام نے ایک سال میں مجموعی طور پر کتنے اخراجات کیے ہیں۔ دوسرا یہ کہ حکومت نے ایک برس میں کتنا پیسہ خرچ کیا۔ جی ڈی پی کا تیسرا حصہ کاروباری طبقے سے متعلق ہے کہ انہوں نے کاروبار میں کتنی سرمایہ کاری کی۔ چوتھا حصہ نیٹ ایکسپورٹس کا ہے جس میں درآمدات سے میں برآمدات کو منہا کیا جاتا ہے تو نیٹ ایکسپورٹس سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں نیٹ ایکسپورٹس کئی دہائیوں سے منفی میں ہی جا رہی ہیں کیونکہ امپورٹس زیادہ ہیں اور ایکسپورٹس کم ہیں۔
اگر اس کے باوجود بھی جی ڈی پی میں بڑا اضافہ ہو رہا ہے تو باقی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ جی ڈی پی کو مصنوعی طور پر بھی بڑھایا جا سکتا ہے' جس سے عوام کا تو بھلا نہ ہو لیکن حکمرانوں کو اس سے سیاسی فائدہ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا اہم ہے کہ حکومت نے جو کچھ خرچ کیا اس سے عوام کو طویل المدتی فائدہ کتنا ہوا۔
فرض کریں اگر حکومت کی توجہ سڑکیں بنانے پر ہو تو ایک سڑک جب تک زیرتعمیر رہتی ہے، اس وقت تک عوام کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے ملازمتیں ملتی ہیں، سڑکوں کا میٹریل تیار کرنے والی صنعتوں کا کام بڑھ جاتا ہے جس سے ان کے ہاں ملازمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ لیکن جب سڑک مکمل ہو جاتی ہے تو اس کا عوام کو مالی فائدہ ملنا رک جاتا ہے۔
اس کے برعکس اگر حکومت اپنے اخراجات کا بڑا حصہ عوام کو اس صورت میں پہنچاتی ہے' جس سے وہ اپنا روزگار کرنے کے قابل ہو جائیں تو یہ طویل المدت فائدہ ہے۔ جب عوام کو بنکوں سے آسان قرض ملتا ہے تو وہ اس سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں اور نفع میں سے اخراجات کرتے ہیں جس سے جی ڈی پی کو طویل المدت فائدہ ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر حکومت ایک غیرمعیاری پل بناتی ہے جو ہر سال گر جاتا ہے اور اسے بار بار تعمیر کیا جاتا ہے تو اس سے جی ڈی پی میں تو فائدہ ہو جائے گا کیونکہ وہ حکومتی اخراجات میں شامل ہو جائے گا مگر عملاً نقصان ہے کیونکہ قیمتی سرمایہ ضائع کیا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس اگر وہی پل ایک برس میں اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ بیس برس تک کام کرتا رہے تو جی ڈی پی کی بڑھوتری میں پہلے سال کے بعد اس کا حصہ نہیں ہو گا لیکن حکومت اور ملک کا فائدہ ہو گا۔
سی پیک کے منصوبوں پر جب تک پیسہ خرچ ہوتا رہا اس وقت تک جی ڈی پی بھی بڑھتا رہا لیکن اس میں اگر مہنگے بجلی گھر لگائے جائیں یا بڑے منصوبوں پر کک بیکس لے کر انہیں حقیقی لاگت سے کہیں مہنگا بنا دیا جائے تو جی ڈی پی تو بڑھ جائے گا لیکن ملک کا نقصان ہو گا۔
ہمارے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ سطحی پن کا ہے۔ گلے پھاڑ کر نعرے لگانا، تکبر سے غلط دعوے کرنا اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ کسی بھی معاملے کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی روایت دم توڑ چکی ہے جس کی وجہ سے مسائل کی درست تفہیم نہیں ہو پاتی اور ملک بہتری کی جانب قدم نہیں بڑھا سکتا۔
معیشت کا شعبہ اس رجحان کا سب سے زیادہ شکار رہتا ہے کیونکہ عام آدمی اس کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہوتا، یوں اسے پراپیگنڈے کا شکار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
موجودہ بجٹ میں لاکھوں خاندانوں کو پانچ لاکھ روپیہ بلاسود قرض دینے کی بات کی گئی ہے، کسانوں کو ٹریکٹر کی خریداری پر قرض دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اس کے علاوہ احساس پروگرام کا بجٹ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
ان جیسے اقدامات کے باعث اگلے مالی سال کے دوران نہ صرف جی ڈی پی کی شرح بڑھنے کا امکان ہے بلکہ اس سے عوام کو بھی حقیقی فائدہ ہو گا۔ صرف سڑکوں، پلوں اور اورنج ٹرین جیسے مہنگے منصوبوں کے ذریعے جی ڈی پی میں اضافہ کرنے کے بجائے عوام تک پیسہ پہنچا کر مجموعی معاشی سرگرمی میں اضافہ کیا جائے گا۔ موجودہ بجٹ کا یہ انتہائی اہم اور خوش آئند پہلو ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جس طرح موجودہ مالی سال کے دوران ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے، اگر یہ اگلے سالوں کے دوران بھی جاری رہا تو جی ڈی پی پر اس کے انتہائی مثبت اثرات ہوں گے اور یہ دیرپا ترقی ہو گی۔