افغان مہاجرین کیلئے پاکستان کی قربانیاں

دنیا کی مختلف ریاستوں میں بسنے والے مہاجرین وہ کمزور طبقہ ہوتا ہے جو اس ریاست کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں جہاں وہ گھر بار چھوڑ کر آتے ہیں، تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ کب پناہ گزین بن جائے، مہاجرین یا پناہ گزین جس کسی ملک میں بھی بستے ہیں ،نئے آئیڈیاز اورہنر لاتے ہیں، معیشت میں شراکت کرتے ہیں ، اور ایک میزبان ملک کی معیشت کے فروغ کا بھی باعث بنتے ہیں ، اسلئے کوئی بھی اپنی مرضی سے کسی ملک میں پناہ گزین نہیں بنتا یہ ایک تکلیف دہ اور اندوہناک معاملہ ہوتا ہے اور میزبان ریاستوں کو مکمل طور پر انسانیت کی بنیادوں پر مہاجرین کے ساتھ حسن سلو روا رکھنا چائیے ،اس کے علاوہ انہیں خود کو منوانے کیلئے جہاں وہ آباد ہوتے ہیں اس ملک کے شہریوں کی نسبت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، یہ بات انتہائی توجہ طلب ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک میںجا کر بسنے والے پناہ گزین اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کے جبر کے باعث کسی دوسرے ملک میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نے اپنے گھروں کو بہر حال واپس جانا ہوتا ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 2018سے 2020کے دوران جنگی حالات اور تشدد کے باعث گھروں سے فرار ہوکر دیگر ممالک میں پناہ گزین ہونے والے افراد کی کل تعداد جو2011میں40ملین تھی اب صرف آٹھ سال میں بڑھ کر82.4ملین ہو چکی ہے ، یہ اعدادو شمار دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جنگی ماحول کے باعث بے گھر ہونے والے المیے کا اشارہ ہے،دنیا بھر میں جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے معاملے میں سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بے گھر افراد کی کل تعداد کا42 فیصد خواتین پر مشتمل ہے، جبکہ ان میں لاکھوں مہاجرین کی عمر 18سال سے کم ہے ،مختلف ممالک میں رہائش پذیر مہاجرین کے نومولود بچوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جو کہ صرف تین سالوں میں 10لاکھ تک پہنچ چکی ہے، پاکستان میں چار دہائیوں سے رہائش پذیر افغان مہاجرین کی دوسری نسل بھی جوان ہو چکی ہے لیکن دنیا یہ تو مانتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کو اقوام عالم سے ان لاکھوں افغان مہاجرین کی ضروریات پوری کرنے کیلئے وہ خاطر خواہ امد اد نہیں دی جا رہی نتیجتاً پاکستان اپنے کم وسائل کے باوجود بھی اپنے وسائل کا بڑا حصہ ان مہاجرین کی دیکھ بھال پر صرف کرتا ہے، صوبہ خیبرپختونخوامیں 5لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین آباد ہیں اور ان کی علاج معالجے اور دوسری سہولیات بہم پہنچانے کیلئے یو این ایچ سی آر اور ریاست پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے کئی منصوبے وقتاً فوقتاً تشکیل جاتے رہتے ہیں جن میں ان پناہ گزینوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے سکولز کا قیام ، مفت کتابوں کی فراہمی، شلٹرز کی تعمیر سمیت متعدد منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے جا چکے ہیں،پاکستا ن کی اپنے افغان بھائیوں کے لئے قربانیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب دنیا کے امیر ترین ممالک نے کورونا کی عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے ویکسین تیار کی تو ان ممالک نے سب سے پہلے صرف اپنے ملک کے شہریوں کو فوقیت دینے اعلان کیا ، حتیٰ کہ امریکہ اور یورپی ممالک نے ترقی پزیر ممالک کو کورونا ویکسین کی فراہمی اس وقت تک نہ کرنے کا اعلان کیا جب تک ان کے ہر شہری کو ویکسین نہ لگ جائے لیکن پاکستان نے جونہی اپنے عظیم دوست چین سے کورونا ویکسین کی کھیپ وصول کی تو اپنے افغان بھائیوں کیلئے بھی خصوصی ویکسینیشن سنٹر قائم کئے، یو این ایچ سی آر کی مدد سے خیبر پختونخوا کے مہاجر کیمپوں میں کورونا ویکسینیشن کیلئے سمارٹ کارڈ رجسٹریشن کا پراسس مکمل کر کے مئی کی ابتدا ء میں ہی ویکسینیشن شروع کر دی ، امریکہ اور یورپ کو بتانا ہو گا کہ پاکستان ،حدود ترین وسائل کے باوجود1.4ملین(رجسٹرڈ) افغان مہاجرین کی ضروریات اپنے وسائل کا پیٹ کاٹ کر ادا کر رہا ہے لیکن وہ ممالک جنہوں نے سوویت جنگ کے دوران پاکستان کو تنہا نہ چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا اپنے وعدوں سے پھر چکے ہیں ، اگر اب بھی وزارت خارجہ نے پاکستان کو افغان مہاجرین کے باعث درپیش مسائل کے حوالے سے دنیا میں آگاہی مہم نہ چلائی تو امریکہ اور اتحادیوں کے افغانستان سے انحلاء کے بعد پاکستان کو پھر سے مہاجرین کے گرداب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ کسی صورت بھی پاکستان کیلئے خوش کن اثرات کا حامل نہیں ہو سکتا لہٰذا ضروری ہے کہ ریاست مشکل وقت کو ٹالنے کیلئے دور رس فیصلے کرے ۔