نشانے پہ چین یا مسلمان؟

جی سیون ممالک، نیٹو کے حالیہ اجلاس اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ امریکی صدر جو بائیڈین کی ملاقات کو یوں تو مغربی میڈیا نے امریکی شبہہ کو بحال کرنے کی نئی کوشش سے تعبیر کیا ہے لیکن اس امیج کے پیچھے کئی اور مقاصد بھی پنہاں نظر آتے ہیں۔ان کا براہ راست اثر ان ملکوں پر پڑنے والا ہے جو چین کے حلیف ہیں یا اس کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں شامل ہیں۔امریکی انتظامیہ اس لیے بھی اعصابی دبائو کا شکار ہے کہ مسلم ممالک اور چین کے بڑھتے معاہدوں کے پیش نظر کہیں امریکہ عالمی حیثیت سے محروم نہ ہو جائے جس کو چین کی سرمایہ کاری نے کافی کمزور کر دیا ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ روس کو سفارتی دائرے میں واپس لانے کے پیچھے ایک تو اسے چین سے دور رکھنے کی سعی ہے اور دوسرا ایران کو جوہری پروگرام کی توسیع سے روکنا ہے۔ اس میں بھی روس کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔لیکن روس اور چین کے بیچ میں2020 میں 107ارب ڈالر کی تجارت ہوئی جو روسی معیشت کو سنبھالنے میں سازگار ثابت ہوئی ہے۔جی سیون اجلاس میں یہ بات واضح ہوگئی کہ بائیڈین اگر امریکہ کو واحد سپر پاور کے کردار کو دوبارہ منوانے کی کوشش میں ہیں تو برطانیہ بھی بریگزٹ کے باوجود وہ پوزیشن واپس حاصل کرنے کا خواب سجانے لگا ہے جو اسے سات دہائی پہلے دنیا کے دو تہائی حصے پر حاصل تھی۔جرمنی اور فرانس کے سربراہان ایک دوسرے کا چہرہ تکتے رہے کیونکہ انگیلا میرکل ویسے ہی سیاست سے فارغ ہو رہی ہیں جبکہ ایمانوئل میکروں کو یورپی اتحاد پہلے سے ہی ٹوٹتا بکھرتا نظر آنے لگا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب اجلاس میں امریکی صدر نے یورپی یونین کے شمالی آئرلینڈ کی سرحدی تجارت کی حد بندیوں پر اعتراضات اٹھائے تو برطانیہ کے لیے یہ شدید حیرانی کا باعث بنا۔ پس پردہ بائیڈین بورس جانسن کو باور کرانا چاہتے تھے کہ امریکہ کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا امریکہ بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتا کیونکہ امریکہ کو ہر ملک کی دکھتی رگ کا ادراک ہے۔ پچاس کے اوائل میں دنیا دو بلاکوں میں تقسم ہوگئی تھی۔گو کہ یہ سابق سویت یونین اور امریکہ کے بیچ سرد جنگ تھی مگر اس کا سب سے زیادہ خمیازہ مسلمان ملکوں کو اٹھانا پڑا چاہیے یہ ممالک وسطی ایشیا میں روس کے زیر تسلط تھے یا مشرق وسطی کے ایسے بیشتر ممالک تھے جو کیمونزم اور کیپٹلزم کے جال میں پھنس کر کبھی امریکی تو کبھی روسی جارحیت کا نشانہ بنتے رہے۔جی سیون یا نیٹو اجلاس کا محور صرف چین تھا اور اس کے سو سے زائد ممالک پر اس کے ڈھائی ہزار سے زائد وہ تجارتی منصوبے تھے کہ جن کی بدولت چین مسلمان ممالک کے قریب آنے لگا ہے۔
وہ چاہیے 2019میں ترکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد دینی تھی، سعودی عرب کو چند برس پہلے کیے جانے والے70ارب ڈالر کے برابر تجارتی معاہدے سے ویژن 2030 کا حصہ بنانا تھا یا پھر پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لیے اربوں ڈالر امداد اور سی پیک کے منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری ہے یا مارچ میں ایران کے ساتھ تقریباً چار سو ارب ڈالر کا وہ معاہدہ ہے جس میں ایرانی پٹرولیم صنعت کو جدید تر بنانے کا منصوبہ قابل ذکر ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ چاروں مسلم ممالک پوری اسلامی دنیا پر نہ صرف اپنا خاصا اثر ورسوخ رکھتے ہیں بلکہ بیشتر چھوٹے مسلم ممالک ان کی مضبوط گرفت میں ہیں اور انہیں امہ کے امیر کارواں کے طور پر تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ سیاسیات کے استاد رف سہگل کہتے ہیں کہ مسلمان ملکوں میں چین کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے امریکہ نے پھر ایک بار مسلمانوں میں جذبات بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے سینکیانگ میں بعض رپورٹوں کے مطابق دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں کے بنیادی حقوق چھین کر انہیں حراستی کیمپوں میں بند رکھنے پر اس کی سرزنش کی ہے۔
لگتا ہے کہ افغانستان میں روسی کمیونزم کے خلاف اسلامی جہاد کے نعرے کی بازگشت اب شاید چین میں سنائی دینے لگے گی حالانکہ افغان جہاد کا محض یہ حاصل رہا ہے کہ یہ ملک مختلف دھڑوں میں بکھر چکا ہے، پاکستان کی سا لمیت خطرے سے دو چار ہے اور مسلم دنیا فرقوں میں کبھی اتنی منقسم نہ تھی جتنا افغانستان اور عراق میں مغربی طاقتوں کی چڑھائی کے بعد تقسیم ہوئی ہے۔
بظاہر اب تک چین نے کسی مسلم ملک پر چڑھائی نہیں کی اور نہ مغربی طاقتوں کے مسلم مخالف عزائم کا حصہ بنا ہے لیکن اگر امریکہ اور مغربی ملکوں کے نئے منصوبے Build Back Better World (B3W) Partnership کا مقصد یہ ہے کہ سینکیانگ کا مسئلہ اٹھا کر چین کے خلاف مسلم دنیا کو بھڑکائیں یا افغانستان کے بعد کسی اور ملک کو بنیاد بنا کر ایک اور اسلامی جہاد کا نعرہ بلند کرے تو مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیا انہیں مغربی ملکوں کی چین کے خلاف نئی سرد جنگ میں شامل ہونا چاہیے؟ (بشکریہ انڈیپنڈنٹ)