الحذر، الاحتیاط

ہوگا وہی جو منظورخدا ہوگا، تقدیر پر ایمان مسلمان کیلئے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جانے اور اختیار کرنے کی کوششیں بھی تقدیر کیساتھ ساتھ تدبیر کا حصہ ہے۔ اسلام میں دونوں یعنی تقدیر اور تدبیرکے درمیان اعتدال کا درس موجود ہے۔ اس لئے توکل علی اللہ کا مفہوم علماء نے احادیث کی روشنی میں یہی بتایا ہے کہ انسان اپنے حصے کی سعی مکمل کر کے نتائج کیلئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا مانگے تو مایوسی نہیں بلکہ ہمیشہ اُمید کا دامن ہی بھرتا ہے۔ صرف طبی اور سائنسی اصولوں دواؤں اور علاج پر انحصار کے بھی نتائج اچھے نکلتے آئے ہیں لیکن اب تو مغرب بھی مان گیا ہے کہ جن مریضوں کا علاج دواؤں کیساتھ دعاؤں سے کیا گیا وہ جلد صحت یاب ہوگئے۔ نبی اکرمۖ نے صحابہ حضرات میں سے کئی مواقع پر کئی ایک کا علاج صرف دعاؤں سے بھی فرمایا ہے اور کئی ایک کو دعا کیساتھ دوا اور حکیم کی طرف بھی مائل فرمایا ہے۔ اسی بناء پر مسلمان امت کیلئے سنت یہی ہے کہ موجودہ وباء ہو یا زندگی کے دیگر معاملات وواقعات، اعتدال کا دامن تھام کر اس وقت دعاؤں اور دواؤں کا معجون خالص تیارکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رجوع اور خشیت اختیار کرنے کا وقت ہے۔غیرمسلم دنیا کے دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی قدرتی آفات کے موقع پر ایک جملہ بولا جاتا ہے کہ ''ہم اس کا مقابلہ کریں گے'' اوہ بھائی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ آفات وبلاؤں کا انسان مقابلہ کسی صورت نہیں کر سکتا، یہ اُس کے بس کی بات ہی نہیں، قوم عاد وثمود جو شاید انسانی تاریخ کے سب سے مضبوط ترین لوگ تھے طوفانی ہواؤں کے سامنے ڈھیر ہوگئے، اسی طرح قوم نوح کی قوم غرق سیلاب، لیکن حضر نوح اور آپ کے پیروکار سفینہ نوح میں کوہ جودی پر نجات یافتہ رہ گئے۔ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ سے ''نہیں ہے کوئی معبود، مگر تو، تو پاک ہے بے شک میں ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوں، کے طفیل کنارہ سمندر پر آئے تھے۔حضرت ایوب پر جو آزمائشیں آئیں اور پھر آپ نے جس صبر کیساتھ برداشت کیا، بس یہ ایک پیغمبر ہی کا خاصا ہو سکتا ہے۔ صبر ایوب یونہی تو تاریخ میں محاورہ نہیں بنا۔ انسانی تاریخ میں انفرادی اور اجتماعی آزمائشیں آتی رہی ہیں اور جب تک دنیا قائم ہے آتی رہیں گی لیکن بشارت صبر کرنے والوں کیلئے ہے۔خاتم النبیین جناب محمد رسولۖ اللہ پر 63سالہ نبوی حیات میں جو آزمائشیں گزیں، ہر موقع پر آپۖ نے دعا ودوا ہی سے کام لیا ہے۔ غزوہ بدر، غزوہ فرقان اور وہ غزوہ جس کے موقع پر313 کے مقابلے میں 1000 کیل کانٹے سے مسلح لشکر کے پیش نظر آپۖ نے ایک طرف فرمایا کہ اے پروردگار! ان مٹھی بھر لوگوں کی نصرت اگر آج نہ ہوئی تو قیامت تک تیرا نام لیوا کون ہوگا؟ اور اس کیساتھ ہی ایک دست مبارک تلوار اور دوسرا دعا کیلئے اُٹھا، حالانکہ اگر آپۖ اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے کہ اے پروردگار! ان سب کو کسی بھی ذریعے ہلاک کر دے تو کوئی بعید نہ تھا۔ المختصر اونٹوں کے گھٹنے باندھ کر ہی اللہ کے سپرد کرنا ہوگا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں قومی سطح پر ایک عجیب صورتحال ہے۔ حکومت کی سطح پر یقیناً کو تاہیاں ہوئی ہیں کیونکہ جب ہمارے پڑوس چین پر وبا اسی پوری شدت سے چھایا ہوا تھا اور ہم دوست وپڑوسی کی حیثیت سے ماسک وغیرہ اور دیگر مدد دے رہے تھے تو چاہئے تھا کہ حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ انتظامات اپنے ملک میں کرواتے، اس وقت حال یہ ہے کہ عام سینٹائزر دستیاب نہیں، ماسک بالکل غیرمعیاری اور وہ بھی مہنگے دستیاب ہیں، اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر یہ کہ قوم کے عام لوگوں اور بالخصوص ہسپتالوں اور اس کے عملہ کی ذہنی تربیت کیساتھ چین سے سیکھنے کے انتظامات کئے جاتے تو آج اتنا خوف اور افراتفری نہ ہوتی۔ تفتان کے بارڈر پر یقیناً کوتاہی ہوئی ہے کہ وہاں کورونا ٹیسٹ اور قرنطینہ کے فول پروف انتظامات نہ کئے گئے۔ لیکن ہماری اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی طرح سب کچھ حکومت پر ڈالنا بھی انصاف نہیں، کیا ایران سے آنے والے ''شہریوں'' کا یہ اخلاقی فرض نہیں تھا کہ وہ خود کو رضاکارانہ طور پر ٹیسٹ اور قرنطینہ کیلئے پیش کرتے۔ ایران کا بھی یہ اخلاقی فرض تھا کہ وہ ان ہزاروں لوگوں کو اس طرح بغیر کسی ٹیسٹ اور تربیت ونظم کے سرحد کے پار نہ دھکیل دیتا اور ویسے یہ سوال اپنی جگہ کہ اتنے ہزاروں لوگ (چودہ ہزار) آخر ایران میں صرف زیارتوں کیلئے گئے تھے۔پاکستان کی بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ ہم زلزلوں، وباؤں اور بیماریوں پر سیاست کرتے ہیں۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اکابرین اس وقت عمران خان اور حکوت پر تابڑتوڑ حملے کر رہے ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ جہاں کہیں اب تک کوئی کمی کوتاہی رہی ہے یا موجود ہے تو سب مل کر اس کا سدباب کریں، نا کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہوئے جو کوشش ممکن ہو سکتی ہے اُس کو بھی اپنی ناروا تنقید کے ذریعے سبوتاژ کرنے کے اقدامات کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پاکستان پر گزشتہ ستر برسوں میں بڑی بڑی آفات آئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی غفور ورحیم ذات نے ہماری مدد کی ہے، اب کی بار بھی انشاء اللہ تکلیف وآزمائش کے دن جلد بخیر وعافیت گزر ہی جائیں گے۔ اس عالمی آفت میں پاکستان کے امراء اور عالمی بلینئرز کیلئے موقع ہے کہ انسانیت کی خدمت کے کام آئیں اور اس دنیا کو عدل وانصاف کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سپر پاورز، زر وجواہر کی کھینچا تانی میں انسانیت کا خیال رکھیں تو اللہ ضرور مہربانی فرمائے گا۔