اب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، مخدوم شاہ محمود قریشی

ویب ڈیسک (اسلام آباد) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ہندوستان سرکار کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ میرا بھارت سرکار کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات پر، دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کی رائے لینے کیلئے "آزادانہ ریفرنڈم" (Opinion Poll) منعقد کروائے،اس ریفرنڈم کے نتیجے میں اگر دنیا بھر کے کشمیری ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیں تو ہندوستان کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہو گی - ہندوستان کا خیال تھا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات سے انہیں پذیرائی ملے گی جبکہ نتائج اس کے برعکس برآمد ہوئے، تمام کشمیری ان اقدامات کے خلاف متحد ہو گئےوہ کشمیری جو گذشتہ ادوار میں بھارت سرکار کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے انہوں نے بھی ان اقدامات کو مسترد کردیا۔24 جون کو ہندوستان کی جانب سے کانفرنس بلانے کا اعلان، اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ "سب اچھا نہیں ہے" ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں داخلی صورتحال تشویشناک ہے، اس وقت وہاں مذاکرات پر کوئی اتفاق دکھائی نہیں دیتا، طالبان سے تعلقات تعطل کا شکار ہیں تو یہ صورتحال پریشان کن ہے، افغان رہنما عبداللہ عبداللہ سے ترکی میں بڑی مفید گفتگو ہوئی، ان کی باتوں سے ہماری تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان برملا کہہ چکا ہے کہ ہم امن کے شراکت دار ہیں، امن کے لئے دنیا کے ساتھ تعاون کریں گے، ہم کسی لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے، قوموں پر دباؤ آتے ہیں اور اس کو برداشت کرنا بھی چاہیے، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ہمیں پاکستان کے مفاد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے ہیں، ہم بارہا کہتے رہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔دنیا پاکستان سے توقعات رکھتی ہے تو ہماری بھی ضروریات ہیں۔ جن سے وہ صرف نظر نہیں کرسکتے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد کی بہت فکر رہتی ہے، دنیا کو اسے سمجھنا چاہیے۔

انہوں کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، پچھلے 10 برس برسر اقتدار رہنے والی پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ ہمیں آئی ایم ایف کی جانب دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں، ان کی ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن نے پاکستان کو کنگال کردیا۔ اب ہم نے اقدامات اٹھائے ہیں، یہ کہنا کہ آئی ایم ایف کی کہی ہر بات ٹھیک ہے یہ کہنا صحیح نہیں، آئی ایم ایف کی کہی پر بات من و عن قبول کرنا ممکن نہیں، ہم نے 3 برسوں کے دوران بہت سے ایسے اقدام اٹھائے جو آسان نہیں تھے، ان اقدامات کی وجہ سے عوام پر بوجھ پڑا ہے، پاکستان کو اپنی معاشی ترقی کو ترجیح دینی ہے، بجٹ سے تمام طبقے مطمن نظر آرہے ہیں۔ آئی ایم اے کے لئے ملک کے مستقبل کو گروی نہیں رکھ سکتے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا تحفہ بھی ہمیں (ن) لیگ دے کر گئی، پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پاکستان گرے لسٹ میں جا چکا تھا، ہم نے ایف اے ٹی ایف کی 27 شرائط پوری کردی ہیں،اب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا، قوموں پر دباؤ آتے ہیں اور ہمیں اس دباؤ کو برداشت کرنا چاہیے۔