مشرقیات

علم بڑی دولت کا مقولہ آپ نے سکول کی دیوار پر لکھا دیکھا ہو گا ' یہ پرانے زمانے کے دولت کمانے سے لاعلم سیانوں کی بات ہے' جو آنے والی نسل کیلئے پتے کی ایسی بات چھوڑ گئے جس پر عمل کی بدولت آپ مابدولت آپ مابدولت بن سکتے ہیں۔چار پیسے تو چند منٹ مسجد کے دروازے پر بھی بیٹھ کر کمائے جا سکتے ہیں' البتہ لاکھوں کروڑوں روپے کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کیلئے حلال و حرام کو مکس کرنے کے طور طریقے ضروری ہیں اور اسے ہی علم کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر کو ہی دیکھ لیں ' وہ کتنا تعلیم یافتہ ہوتا ہے'تاہم فیس پر تکیہ کرنے کی بجائے دوا فروشی اور لیبارٹریوں سے کمیشن کھرا کرنے کے درجنوں طریقے اسی علم کی بدولت سیکھ رکھے ہیں۔ تاجر کو دیکھیں ہرجنس میں ملاوٹ ہو یاقلت پیدا کرنے کے طور طریقے 'سب سے وہ اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔گوالے کی تو بات ہی نہ کریں' عمربھر اسکول کا منہ نہیں دیکھا تاہم پانی کو دودھ بنانے کے تمام گراسے ازبر ہوتے ہیں اور اسی علم کی دولت سے وہ چند سالوں میں مالامال ہوجاتاہے۔ایسے ہی کوئی بھی پیشہ ہو اس کے بنیادی اصولوںسے ناواقفیت ہمیشہ خسارے کا باعث بنتی ہے۔ ٹھیکیدار کو عمارت بنانے پر لگادیں تو وہ چند مہینوں میں آپ کا ہی نہیں اپنا بھی گھر کھڑا کرنے کا سامان ٹھیکیداری کے علمی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پورا کرلیتا ہے۔غرض یہ کہ درجنوں مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ علم کتنی بڑی دولت ہے۔ ساتھ ہی ان سے یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ علمی دولت کمانے کے لئے کسی تعلیمی ادارے میں برسوں تک وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ اپنے آس پاس پھلتے پھولتے پراپرٹی ڈیلرز کو ہی دیکھ لیں 'ان کی اکثریت نے پرائمری کے بعد مجال ہے کسی اسکول کا منہ دیکھا ہو تاہم محکمہ مال کے سب سے بڑے افسر سے لے کر پٹواری تک سے کام نکالنے کا ہنر انہیں آتا ہے۔ اسی ہنر کی بدولت ان کا کھانا پینا ،اوڑھنا ،بچھونا دیکھ لیں تو اپنے ملک صاحب کی حیرت انگیز ترقی پر حیرت قطعی نہیں ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ علم بڑی دولت ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ کوئی بھی کام ہو اس سے فائدہ اٹھانے کے تمام بنیادی طریقے آپ کو ازبرہوں' ایسا علم کسی کام کا نہیں ہوتا جو جائز و ناجائز کے چکروں میں آپ کو ڈال کر صرف وقت ضائع کرنے کا باعث بنے۔ویسے مقام شکر ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت ''فضول ''میں وقت ضائع نہیں کرتی سب کسی نہ کسی طرح علم سے بڑی دولت کمانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ایک معمولی رہزن بھی جانتا ہے کہ کسی سے مال چھین کر اپنی جان بچانے کے لئے اس کا ایک حصہ متعلقہ تھانے کی نذر کرنا ہے۔