مار گئی مہنگائی

لیجئے وہی ہوا جس کا خدشہ تھا تواتر کے ساتھ ان سطور میں عرض کرتا چلا آرہا ہوں کہ مہنگائی پر قابو پانے کا کوئی نظام موجود ہی نہیں۔ یہ آج کی بات نہیں حکومت کسی کی بھی ہو مہنگائی بڑھتی ہے بدقسمتی سے اس حکومت کے پاس ایسا کوئی رابطہ کار نہیں جو زمینی حقائق کو سمجھتا ہو اسے معلوم ہو کہ مہنگائی روکنے کے لئے اقدامات کیا کرنے ہیں کن طبقوں سے براہ راست رابطہ رکھنا ہے ' وزراء اور مشیروں کی حالت اور قابلیت کا اندازہ ان کی تقاریر سے لگا لیجئے ۔ مثال کے طور پر قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی تقاریر کے بعد موجودہ حکومت کے دو''دانشور'' وزیروں اسد عمر اور حماد اظہر کی تقاریر پڑھ لیجئے یہ وزراء تقریروں کی بجائے شاہدرہ لاہور کی گلی ککھزئیاں میں ہوتی لڑائی کے دوران معاونین کے جملوں جیسی ہیں۔ خیر یہ ہمارا موضوع نہیں۔ موضوع یہ ہے کہ وفاقی بجٹ کے بعد آٹا ' گھی ' دودھ ' مرغی ' لہسن ' ٹماٹر ' آلو ' چائے اور صابن سمیت 21اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک سرکاری ادارے کی سروے رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ ایل پی جی سستی ہوئی ہے مگر ہفتہ 19جون کے اخبارات بتا رہے ہیں کہ ایل پی جی پانچ روپے کلو مہنگی ہوئی ہے اور ایل پی جی فروخت کرنے والوں کی ایسوسی ایشن نے یکم جولائی سے دس روپے کلو قیمت بڑھانے کا اعلان کیا ہے یعنی ا صل میں فی کلو قیمت پندرہ روپے بڑھے پانچ روپے اب بڑھا دیئے گئے دس روپے یکم جولائی کو ۔ 20 کلو فائن آٹے کا تھیلہ 1300 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ عام آٹے کا بیس کلو کا تھیلہ 1135 روپے میں ۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ ملز پر لگائے گئے نئے ٹیکسوں اور بعض ٹیکسوں میں اضافے کی بدولت بیس کلو آٹے کے تھیلہ کی قیمت میں 90 روپے اضافہ ناگزیر ہے ۔ ایسوسی ایشن کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ارکان کی اکثریت پانچ روپے کلو قیمت بڑھانے کا مطالبہ کر رہی ہے یعنی 20 کلو آٹے کے تھیلے کی کل قیمت میں 100 روپے کا اضافہ ۔ چلیں 90 روپے پر اتفاق رائے ہو گیا۔ ادارہ شماریات کا دعویٰ ہے چینی سستی ہوئی ہے بجٹ سے قبل 100 روپے سے 105 روپے کلو تھا اب 110 روپے ہے بجٹ میں چینی پر لگائے گئے ٹیکس کی وجہ سے بجٹ منظوری کے بعد اس کی قیمت میں سات روپے اضافہ ہو گا۔ یوں حساب یہ بنا کہ حکومت کی مقررہ 80 روپے ( یہ پرانی قیمت ہے) سے اب بھی 30 روپے زائد وصول کئے جارہے ہیں جو مزید7 روپے اضافے کے ساتھ یہ قیمت 117 روپے تک جا پہنچے گی۔80 روپے کے اعلان کردہ نرخوں پر چینی فروخت نہ کروا سکنے والے 87 روپے کلو کیسے فروخت کروائیں گے؟۔
پہلے تین سالوں کے دوران اگر صرف چینی کی قیمت کو ہی دیکھ لیں تو اس میں اب تک 55 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے اللہ خوش رکھے(جہاں بھی ہیں) نواز شریف دور کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ان کے دور میں دالوں اور سبزیاں مہنگی ہوئیں تو انہوں نے قومی اسمبلی کے ایوان میں خطاب فرماتے ہوئے کہا تھا''سبزیاں اور دالیں مہنگی ہیں تو لوگ برائلر چکن کا گوشت کھائیں۔ تب ہم سب نے ان کا مذاق اڑایا تھا لیکن مشورہ درست تھا کیوں کہ دال مسور 110 روپے تھی اور چکن گوشت 75 روپے کلو۔ شوکت ترین(حالیہ وزیر خزانہ) یقیناً ایسا مشورہ ہر گز نہیں دیں گے کیونکہ اب چکن کی قیمت بھی آسمان کوچھو رہی ہیں۔ وفاق ' پنجاب ' بلوچستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا ہے اضافہ ایک سال کے وقفہ سے ہوا ہے غور کیجئے کہ دو برسوں کے دوران مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچی آمدنی اور اخراجات کے عدم توازن سے پیدا شدہ حالات کو ہمارے دفتری بابو(پالیسی ساز) نہیں سمجھ سکتے ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا یہاں سب جانتے ہیں کہ بجلی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مہنگائی کا نیا سیلاب آتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بجٹ کے ا علان سے پہلے چور بازاری عروج پر ہوتی ہے بجٹ کا اعلان ہوتے ہی قیمتیں بڑھتی ہیں پھر بجٹ کے منظور ہونے پر مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان میں مجموعی طور پر سال میں چھ بار تو مستقل طور پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ درمیان میں دائو لگ جائے تو ہاتھ کوئی نہیں روکتا۔ وجہ یہی ہے کہ نظام نہیں ہے اب حالیہ مہنگائی کو کم کرنے کا نسخہ کیمیا کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں اس کی صاف سیدھی وجہ ہے کہ ہمارے ارباب حکومت کا صرف ایک فرض ہے سابق حکمرانوں کو کوستے رہو ہر برائی کا ذمہ دار قرار دو اور دامن جھاڑ کر آگے بڑھ جائو ۔اپوزیشن میں سے کوئی بات کرے تو اس کی جان کو آجائو اصولی طور پر یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کے لئے اقدامات کرے بدقسمتی سے تحریک ا نصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات یکسر مختلف ہیں اور آج کل تو ویسے بھی ساری وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں لوٹے گھیرنے میں مصروف ہے تاکہ ا لیکشن جیتا جا سکے ۔ چلیں صبر و شکر سے وقت گزاریں ہمارا(یعنی ہم سب کا) بھی اللہ مالک ہے۔