نفرت کی جڑیں

کینیڈا کے شہر لندن اونٹاریو میں 20 سالہ نیھنئل ویلٹ مین کے ہاتھوں پاکستانی نژاد کینیڈین فیملی کے بیہمانہ قتل سے پورے کینیڈا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کھلم کھلا اس کی دہشت گردی کی کارروائی کی مذمت کی اور ہزاروں افراد نے لواحقین سے تعزیت کرنے کے لئے سڑکوں پر مارچ کیا اور اس نفرت انگیز جرم سے بچ جانے والے 9 سالہ فیاض کی صحت کے لئے دعا کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جرم بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور اتنی بے دردی سے مارے جانے والوں کے لئے ہر جانب سے ہمدردی کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس اٹیک کے فوراً بعد ایک ٹک ٹاک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی تھی جس میں ایک شخص اور تین مسلم خواتین کوسڑک پر چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب وہ فٹ پاتھ پر ٹہل رہے تھے ، ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا''جب آپ کو اس کی ضرورت ہے تو نتھنئل ویلٹ مین کہاں ہے؟''تب ایک ٹرک وہاں سے گزرتا ہے اور اس فیملی کو کچلتا ہے، چیخ و پکار سنائی دیتی ہے اور قاتل کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ کیا تم نے انہیں یاد کیا؟ اس کے بعد قہقہوں کی آوازیں آتی ہیں، اسی قابل نفرت نظریے کے تحت برنٹنٹ ٹرنٹ نے2019میں نیوزی لینڈ کی مسجد میں عبادت میں مصروف51 نمازیوں کا قتل عام کیا تھا، ان قابل نفرت جرائم کی تفتیش جاری ہے ، ایک سوال جو پوچھا جاتا ہے وہ یہ کہ نتھنئل ویلٹ مین میں بنیاد پرستی کہاں سے آئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سفید رنگ کے انسانوں کی اجارہ داری کی سوچ رکھنے والے ارد گرد کے سرکل سے یا پھر اس طرح کی نفرت پسندانہ سوچ پروان چڑھانے والے سماجی حلقوں سے، اسی طرح کا ایک سنگین مجرم الیگزینڈر بسونٹی تھا جس نے سن 2017میں کیوبیک سٹی کی ایک مسجد میں چھ افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ، جو کہ ایک سخت گیر دائیں بازو کے ایک سوشل ونگ کا پیرو کارتھا،یہ آن لائن مواد کتنا خطرناک ہے؟ امر ناتھ اماراسنگھم اور جیکب ڈیوی نے گلوب اور میل کیلئے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ 2020میں انہوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 2500اکائونٹس ، چینلز اور گروپس کے بارے میں جانچ پڑتال کی جس میںدائیں بازو کے انتہا پسندوںکے پروپیگنڈے کو پھیلایا جا رہا تھا ،''انفرادی مواد کے تقریباً چار ملین نفرت آمیز پوسٹز آن لائن سوشل میڈیا پر وائرل کئے گئے، جو دور دور تک پھیلے ہوئے تھے،ان کا یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ یہ گروپس اقلیتی طبقات کے خلاف نفرت پھیلانے اور کینیڈا کے معاشرے کو پولرائز کرنے کی کوشش میں ناقابل یقین حد تک کوششوں پر عمل پیرا تھے،اس سے بھی بڑھ کر خطرناک بات یہ ہے کہ تارکین وطن اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے والے گروہوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کہ ایک تکلیف دہ معاملہ ہے۔ پوری مغربی دنیا میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان میں سے کئی انتہا پسند( مغربی ممالک کے) نظریات کے حامل وہاں کے قومی دھارے کا حصہ بن چکے ہیں اور انہیں مرکز کی قبولیت بھی مل جاتی ہے ،اس کے نتیجے میں نفرت انگیز خیالات کے حامل افراد کی تعداد میںاضافہ ہو رہا ہے، قومی دھارے کی سیاست کا حصہ بن کر اس طرح کے انتہا پسندوں پر دہشت گردی کا لیبل بھی نہیں لگایا جاتا اور یہ لوگ یہ سوچ پھیلاتے ہیں کہ جس میں سفید فام نظریات کے پرچار کے لئے کسی مخصوص تنظیم کا رکن بننے پر اکسایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی کینیڈا میں اسلامو فوبیا کے بارے میں 2020کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے 46فیصد لوگ اسلام کے بارے میں نامناسب نظریہ رکھتے ہیں جو کہ کسی بھی دوسرے گروپ کے لوگوں سے(نفرت کی مناسبت سے) زیادہ ہے، رپورٹ کے مطابق اونٹاریو میں آباد نصف سے زیادہ لوگ تشدد پسندی کو مسلم عقائد سے منسلک کرتے ہیں جبکہ کینیڈا کے42 فیصد لوگ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر ہی عائد کرتے ہیں ، اس رپورٹ میں اسلاموفوبیا خیالات کو پروان چڑھانے میں میڈیا کے کردار کابھی ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے میڈیا میں مسلمانوں کے حوالے سے نفرت آمیز رپورٹس کی تشہہر بھی کی گئی لیکن مسلمانوں پر حملوں کو نسبتاً کم کوریج ملتی ہے، سی بی سی میں 2019 میں مسجد میں انتہا پسند دہشت گرد کے حملے کی تو صرف 5منٹ کوریج کی گئی لیکن برطانیہ میں 2017کے لندن برج حملوں پر گھنٹوں کوریج اور تبصرے کئے گئے، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، کیونکہ اسلامو فوبیا واقعات کے باعث نیتھنل ویلٹ مین جیسے دہشت گرد کی مذمت کے بجائے اس کی تقلید کرنے والے مغربی معاشرے میں موجود ہیں۔(بشکریہ ڈان نیوز، ترجمہ: واجد اقبال)