جمہوری فکر اور پارلیمانی آداب کا زوال

میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا تو پہلی بار سال ١٩٧٣ میں قومی اسمبلی اور سینٹ کا اجلاس دیکھا ۔اس کے بعد اب تک جب بھی موقع مِلا تو پارلیمنٹ کی کارروائی بڑی دلچسپی سے دیکھی۔ قومی معاملات ، جمہوریت کے فروغ اور حقوق کی پاسداری سے متعلق بڑے نامی گرامی ارکان کی مدلل اور عالمانہ تقاریر سے مستفید ہوا بلکہ بہت سے اراکین کی دلچسپ نوک جھونک، حاضر جوابی اور شعر گوئی سے خوب مزہ لیا۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے ملنے جلنے، رکھ رکھاؤ، نشست برخاست،خاطر تواضع اور پہناوے کے انداز میں ہم نوجوانوں کے لئے ایک تربیت پائی جاتی۔ اب حالیہ بجٹ کے اجلاس میں اپنے نمائندوں کو شور شرابا ،گالیاں دینے اور ایک دوسرے پر بجٹ کی کتابیں پھینکتے ہوئے دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا۔
ہر جمہوری مُلک کے ایوانوں میں بحث کے دوران تلخ جملوں اور فقرے کسنے کے تبادلے ہوتے ہیں۔ بھارتی راجیہ سبھا میں تو ایک مرتبہ مرچوں کا سپرے بھی کیا گیا۔ یوکرائن میں ہاتھا پائی ہوئی اور جارجیا کی پارلیمنٹ میں گھونسے مارے گئے۔ اس کے بعد فوراً بیچ بچاؤ بھی ہوا اورمعاملہ رفع دفع کرا دیا گیا۔ ہمارے ہاںچند برسوں سے یہ معمول بن چکا ہے کہ ہر سال بجٹ اجلاس میں چاہے قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی، غل غپاڑہ ہی رہتا ہے۔ ایسے میں بجٹ کے حوالے سے عوامی مسائل کو سامنے رکھنے اور حل کرنے کی بجائے یہ اہم معاملہ ایک ہنگامہ کی نذر ہو جاتا ہے۔کوئی علمی، قانونی اور ماہرانہ بحث نہیں ہوتی۔ بس حکومتی ارکان خوش ہوجاتے ہیں کہ بالآخر بجٹ منظور ہو گیا اور حزبِ اختلاف والے لا یعنی تکرار اورماضی میں اپنی کارکردگی کے بیان سے عوام کو خوش کرنے اور محض نمائندگی جتلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمیں اس سے غرض نہیں کہ اس مرتبہ قومی اسمبلی کی ہلڑ بازی میں پہل کس نے کی اور میڈیا پہ اپنے حق میں جواز پیش کرنے سے کسی کو بے قصور بھی نہیں کہہ سکتے۔ پارلیمنٹ ہماری اجتماعی شعور کی آئینہ دار ہوتی ہے ،قوم کی ایک اکثریت مُلکی مفاد اور جمہوری اقدار کو ترجیح دینے میں سیاسی قائدین کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یوں آئے روز اسمبلی میں ہتک آمیز کلمات اور غیر شائستہ زبان استعمال کرنے سے وہ اپنا احترام کھو رہے ہیں۔ تین سال قبل اسمبلی میں وزیر اعظم نے جب اپنی پہلی تقریر میں صرف مخالفین کو اپنا نشانہ بنایا تو مجھے کچھ اندیشے لاحق ہوئے۔ ہم سب کو یہ اُمید تھی کہ وہ نئے پاکستان اور تبدیلی کے نعرے سے متعلق اپنا لائحہ عمل پیش کریں گے۔ اپنی ترجیحات کو نمایاں کریں گے مگر اُنہوں نے دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو شکست دینے کے باوجود اُنہی کے ساتھ الجھنے کو اپنا ہدف بنا لیا۔ مخالفین نے بھی اُنہیں آڑے ہاتھوں لیا اور اسمبلی میں قانون سازی کا عمل متاثر ہونے لگا۔ اسمبلی میں بہت سے اراکین پہلی مرتبہ اور خاص کر تحریک انصاف کے نوجوان اپنے قائدکی وجہ سے جیت کر حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہیں۔ اپنے قائدین کو خوش کرنے اور ناتجربہ کاری سے پارلیمنٹ میں باہمی احترام کی قدروں کا ستیا ناس کر دیا۔
یہ بات حزبِ اقتدار کو پلے باندھنا چاہیے کہ اُنہوں نے مخالفین کی شور انگیزی اور کوئی شوشہ چھوڑنے سے متاثر ہوئے بغیر اسمبلی کی کاروائی کو ہر صورت مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اپنی حوصلہ مندی سے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔جبکہ یہ اُنہیں دیوار سے لگانے میں لگے رہتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اِنہیں مفاہمت سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے کردار میں کیا فرق ہوتا ہے۔ یہ سب سیاست دان ہیں، اِن میں کوئی لیڈر نہیں ۔ اِنہیں اپنے مفاد عزیز ہیں اور اقتدار کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں۔
ماضی میں بھی دو بڑی سیاسی جماعتیں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے اور مفاہمت کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوئیں ۔میثاقِ جمہوریت کے مطابق کسی مفاہمتی عمل کو جاری نہ رکھ سکے۔ اپنے اپنے روئیے میں لچک پیدا کرنے کی بجائے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا گیا۔ عوام اِن سے مایوس ہوئے اورنئے پاکستان میں تبدیلی لانے والوں کا بھر پور ساتھ دیا۔ اب بھی اگر مفاہمت سے گریز اور پارلیمانی آداب کو بالائے طاق رکھ کر ایک کہے کہ یہ کسی کی شہ پہ ہو رہا ہے اور دوسراکہے کہ پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام کی راہ ہموار کی جاری ہے تو یاد رہے، کسی کے اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے سے چارہ گروں کو ہرگز فر ق نہیں پڑتا۔کوئی بھی نظام ہو ،ہمارے ہاں مہرے آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہی وہ اصل گھر ہے جہاں بیٹھ کر جمہوریت کی بقا ، مفادِعامہ اور سماجی اقدار کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا جا سکتاہے۔ ایسے رہبروں کی بھی ضرورت ہے جو اقتدار کی کشمکش سے بے نیاز ہو کر عوامی بالا دستی ،آئین اور انسانی حقوق کے محافظ نظر آئیں۔