پاکستان میں تعلیم کی حالت اور معاشرے پر اثرات

علم اور تعلیم بہت بڑے ' اعلیٰ اور مقدس الفاظ ہیں ۔ اس کائنات کی بنیاد علم پر رکھی گئی ہے ۔ آدم علیہ السلام مسجدود ملائکہ علم کے سبب قرار دیئے گئے تھے ۔ انبیاء کرام علیھم السلام ' اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی بنیاد پر انسانوں میں سب سے زیادہ علم سے بہرہ ور تھے ۔ اس سلسلے میں اختتام و کمال خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہوا۔
اقراء سے ابتداء ہوئے دین اور اس دین کے ماننے والوں کے لئے علم کی اہمیت و فضیلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور یہی وجہ اور سبب تھی کہ ایک زمانے تک امت مسلمہ میں تعلیم کا ایسا غلغلہ رہا کہ ایک دنیا ان سے متاثر اور مرعوب تھی۔ لیکن پھر پلڑا ایسا بدلا کہ مغرب نے حصول تعلیم کے اصول تو اسلام سے لئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دیگر معاملات اپنی ضروریات کے مطابق اختیار کئے ۔اس دور میں امت مسلمہ ایسے زوال سے دوچار ہوئی کہ نہ دین کی رہی اور نہ دنیا کی ۔ یورپ(مغرب) نے اسلام ہی کے اصول تحقیقات و انکشافات کی بنیاد پر ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جنہوں نے ایسے سائنسدان ' محققین ' ادباء او دانشور اور ماہرین عمرانیات پیدا کئے کہ ساری دنیا ان کی باجگزار بننے پر مجبور ہوئی۔
وہ دن اور آج کا دن ' ساری دنیا میں مغربی اصول تعلیم اور تہذیب و تمدن کا ڈنکا بج رہا ہے اور دنیا کے سارے ممالک ترقی کے حصول کے لئے ان کی تقلید کے خواہش مند ہیں اس میں شک نہیں کہ مغربی علوم وایجادات نے انسانیت کو مادی لحاظ سے بہت اونچے مقام پر پہنچا دیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کے فلسفہ تعلیم کا نچوڑ اور آئوٹ پٹ مادیات اور جسمانی عیش وتنعم کے علاوہ کچھ اور نہ ہوا اور نتیجتاً انسانیت ایک چوراہے پر کھڑی رہ گئی۔
پاکستان میں توعجب تماشا ہوا۔ تعلیم کے ساتھ اور نتیجتاً اس کے کروڑوں عوام کے ساتھ ۔ نظام اور فلسفہ تعلیم مغربی رائج ہوا لیکن اس کے نتائج ترقی کے لحاظ سے مغرب جیسے برآمد نہ ہوئے ۔ لیکن تہذیبی لحاظ سے بھیڑ چال اور اندھی تقلید کے سبب اپنی چال بھی بھول گئے ۔ یہ بات تو آج سب پر واضح ہے کہ علم کے بغیر ترقی ناممکن ہے لہٰذا مادی ترقی کے لئے مغرب سے سیکھنا اور ان کو فالو کرنا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی چونکہ ہماری ترکیب میں کچھ اور لازمی چیزیں بھی ہیں اس لئے پاکستان اور امت مسلمہ کا نظام تعلیم قرآن و حدیث پرمبنی ہوکر مغربی علوم سے جو صاف ہے ' انسانی ضروریات کی تکمیل وترقی کے لئے ضرور لینا ہوگا۔ لیکن اپنی روحانی و ایمانی تقاضوں کی تکمیل کے لئے جن اصولوں اور اقدار و علوم کی ضرورت ہے اسے کسی صورت بھلایا نہیں جانا چاہئے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس کے باوجود آئین و دستور میں اسلامی دساتیر و دفعات کا بڑا غلغلہ رہا ہے لیکن عمل اس کے بالکل برعکس ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کو کبھی سنجیدہ موضوع و امر کے طور پر لیا نہیں گیا۔اس کا اندازہ تعلیم کے لئے مختص بجٹ ' تعلیم کے لئے وزراء اور دیگر افراد شخصیات کی تعیناتیوں سے ہوسکتا ہے ۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہوسکتی ہے کہ ہمارے ہاں کبھی بھی ڈھنگ کا کوئی ایسا وزیر تعلیم مقرر نہ ہوسکا جس کے دل میں واقعی تعلیم کی قدردانی ہو۔ تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کا وزیر تعلیم برصغیر پاک وہند کے مایہ ناز عالم و مفسر فیلسوف مولانا ابوالکلام آزاد ٹھہرا تھا اپنی تاریخ بھی دیکھئے آج بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر جو وزراء تعلیم براجمان ہیں ان کا ذرا وزن اور قد کاٹھ تعلیم و علم کے میزان میں ڈال کر دیکھئے ۔ صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ تعلیم کے علاوہ وہ ہرفن مولا ہے ۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے کا حال بھی اس سے بہتر کسی صورت نہیں ۔ پختونخوا میں میٹرک پاس شخص ماضی قریب میں اس منصب پر فائز رہے ہیں ۔ بلوچستان کا تو پوچھنا کیا کہ وہ ازلی بیک بنچر ہے۔
بنگالی 1971ء میں ہم سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر الگ ہوئے آج ان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور تعلیم کے مختص بجٹ کا پاکستان سے موازنہ تو کبھی کیجئے۔ بنگلہ دیش کا تعلیمی بجٹ وطن عزیز کے تعلیمی بجٹ کا پانچ گنا ہے وہاں شرح خواندگی بھی پاکستان سے زیادہ ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ جس ملک میں تعلیم کے ساتھ یہ کھلواڑہو رہا ہو وہاں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ایسے ہی لوگ براجمان ہوں گے جن کی ''شائستگی'' اور اخلاقی معیار کا تماشا ایک دنیا نے دیکھ لیا۔ایک صاحب نے تو پورے پنجاب کو بدنام کر لیا۔ کہ اس نے گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دیا حالانکہ پنجاب نے جو شخصیات پیدا کی ہیں بالخصوص علم و ادب کے میدان میں اس کی تعداد و معیار باقی برصغیر کے برابر ہے۔اردو و ادب اور فکر و فلسفہ میں ایک علامہ محمد اقبال پورے ہندوستان و پاکستان پر بھاری ہیں ۔ کیا ہماری حکومت اور اہل اقتدار کبھی اس پر غور و فکر کرنا گوارا کریں گے کہ قرآن کریم سے استفادہ کرتے ہوئے تعلیم و تعلم پر توجہ دی جائے ' علم ہی وہ آلہ ہے جس کے ذریعے اقوام عروج پاتی ہیں ورنہ قعر ومذلت ان کا مقدر ہوتا ہے ۔