5 422

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

یہ سب کیا ہو رہا ہے ‘ ویکسین زبردستی لگوانے پر نہ صرف اخباری بیانات کے ذریعے احتجاج کیا جارہا ہے ‘ خاص طور پر یہ جو موبائل سم بند کرنے ‘ بنکوں میں داخلے پر پابندی بلکہ شناختی کارڈز بلاک کرنے کی”سرکاری”دھمکیاں دی جارہی ہیں ‘ ان پر قانونی تقاضوں کے بناء عمل کیا گیا تو یقیناً کچھ لوگ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں ‘ بلکہ ایک خاتون تو پہلے ہی عدالت میں درخواست دائر بھی کر چکی ہے اور آج کل ان کی گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے ‘ یہ خاتون بسمہ نورین ہیں جن کا تعلق کراچی سے ہے ‘ انہوں نے ڈرافٹنگ ونگ کے کسی ذمہ دار شخص سے جو گفتگو کی ہے اور آج کل سوشل میڈیا پر تیزی سے لوگوں تک پہنچ رہی ہے اس میں متعلقہ شخص سے گفتگو کے دوران بار بار یہ ماننے پرمجبور کر دیا ہے کہ قانون سرکار کو ایسے اقدامات اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ بقول خاتون کے عوام کو ”بلیک میل” کرکے کورونا انجکشن لگوائے ‘ ان صاحب نے دوران گفتگو یہ بھی تسلیم کیا کہ ہم نے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں ‘ گفتگو خاصی طویل ہے ‘ اور نہایت چشم کشا بھی ہے’ متعلقہ صاحب خاتون کو اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتا ہے تو وہ بتاتی ہیں کہ وہ پہلے ہی سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر چکی ہیں اور ضرورت محسوس ہوئی تو اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر سکتی ہیں ۔ادھر ایک اور خاتون ارم ڈائر نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک حساس ادارے کی ایک ایڈوائزری کی تصویر پوسٹ کی ہے جس میں ملازمین کو بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے آسٹریزپینکا ویکسین لگوایا ہے ان میں سے اکثر افراد کو مختلف ری ایکشن ہونے کی ا طلاعات آنے کے بعد مزید افراد تا حکم ثانی ویکسین نہ لگوائیں اور جو پہلی ڈوز لگوا چکے ہیں ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ فلاں فلاں دوائیں استعمال کریں ‘ ایسے افراد کو دوسری ڈوز کم از کم بارہ ہفتے کے بعد لینی چاہئے کہ ایسا کرنا ضروری ہے(یہاں ایک اور افواہ بھی گردش میں ہے کہ پہلی ڈوز کے بعد اگر دوسری ڈوز نہ لگوائی جائے تو اس کے خطرناک اثرات ہوسکتے ہیں یہ افواہ کتنی سچی یا جھوٹی ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے ) ان تمام خبروں کے ساتھ واٹس ایپ اور دوسری ایپس پر ایک تصویر بھی وائرل ہے جس میں ایک ڈاکٹر کسی شخص کو ویکسین لگانے کے لئے انجکشن قریب لاتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ ویکسین لگوانے کا خواہشمند یہودی ہے تو ڈاکٹر جو خود بھی یہودی ہے ‘ وہ انجکشن ”مریض” کی قمیض کے کالر میں لگا کر ضائع کر دیتا ہے اور اسے انجکشن نہیں لگاتا ‘ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ کورونا کے مریض دنیا بھر میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم اسرائیل میں آج تک کسی کے اس وباء سے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں آئی ‘ جبکہ اسرائیل کے رہنما نیتن یاہو کا ایک بیان بھی لوگوں کو یاد ہو گا جس میں کورونا کے حوالے سے اس نے کہا تھا کہ اب دنیا ہمارے اشاروں پر ناچے گی ‘ یوں محولہ یہودی ڈاکٹر کا یہودی باشندے کو ویکسین نہ لگانا اور اس کی قمیض کے کالر میں اسے ضائع کرنے سے میر انیس کا یہ شعر یاد آنا فطری امر ہے کہ
خیال خاطر احباب چاہئے ہم کو
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
اس سے پہلے ایک اور اخباری بیان بھی وائرل ہو چکی تھی جس میں نوبل انعام یافتہ لک مونٹاگنیز نامکے مشہور عالم یورالوجسٹ کا یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ تمام کورونا ویکسین لینے والے افراد دوسال کے اندر موت سے ہمکنار ہوجائیں گے جس پر بڑے خوبصورت تبصرے بھی فیس بک پر دیکھنے کو ملتے رہے ‘تاہم ان ”حقائق” یا ”بے بنیاد اطلاعات” کے علی الرغم موجودہ صورتحال پر تبصرہ بھی ناگزیر کے زمرے میں آتا ہے ویکسین کے بارے میں جو خبریں اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں اور خاص طور پر اس میں سور یعنی خنزیر اور بندر کے ڈی این اے استعمال کئے جانے کا انکشاف کیا جارہا ہے اس کے بعد عوام کو بقول کراچی کی خاتون بسمہ نورین جنہوں نے سرکاری ” ہدایات” کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے ‘ کس قانون کے تحت مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ بینک اکائونٹ ‘ موبائل سم یہاں تک کہ شناختی کارڈ ز کے بلاک کئے جانے کے خوف سے ویکسین لگوائیں۔ اس حوالے سے پشاور کے ایک اہم تاجر معمور خان جو سرحد چیمبرز کے ایک اہم عہدے پر بھی چند برس پہلے فائز رہے ‘ نے بھی صوبائی حکومت کے اس حکم پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور بنک ٹرانزیکشنز کے لئے عوام کے داخلے پر بنکوں میں داخلے پر پابندی پر تنقید کرتے ہوئے اس حکم کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے ‘ یہ اتنا سادہ معاملہ بھی نہیں ہے کہ اسے بعض احکامات کے تحت زبردستی لاگو کر دیا جائے ‘ ممکن ہے کہ اس معاملے میں بسمہ نورین اکیلی نہ رہے بلکہ ملک بھر میں مختلف لوگ متعلقہ عدالتوں میں اسے چیلنج کرنے کے لئے آگے آئیں ‘ تاہم بہتر ہو گا کہ قانونی ماہرین اس ویکسین میں سور اور بندروں کے ڈی این اے استعمال کرنے کی اطلاعات کے پیش نظر زبردستی عوام کو ویکسین لگوانے کے احکامات کے بارے میں قانونی رائے دیں’ تاکہ کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ بقول علامہ اقبال
آگ ہے ‘ اولاد ابراہیم ہے ‘ نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے؟