پھر وہی ہم ہیں وہی تیشۂ رسوائی ہے

بات انداز بیان کی ہے ' وہ جو فرانس کی شہزادی نے کہا تھا اسے مشورہ قرار دیاجاتا ہے ' اور اب جو کچھ پرویز خٹک نے کہا ہے اسے''تڑی'' کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے ' جو شہباز شریف کو لگائی گئی ہے ' کہ میرے صوبے میں ایک غریب سامنے لا کر دکھائیں ' یہاں لفظ ''ایک'' کو مرزا غالب کے اس جواب کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جب ان سے سوال کیا گیا کہ مرزا اب کی بار کتنے روزے رکھے ہیں توانہوں نے ترنت جواب دیا ''ایک نہیں رکھا''۔ اس پر سوال کنندہ کا حیرت میں مبتلا ہونا فطری امر تھا کہ وہ اس سے کیا مراد لے ' بہرحال بات ہو رہی تھی انداز بیان کی جس کے بارے میں سیف الدین سیف نے کیا خوب بات کہی کہ
سیف انداز بیان بات بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
سو یہ جو ہم نے 18ویں صدی کے فرانس کی شہزادی کے حوالے سے آج کے ''شہزادے'' پرویز خٹک کے بیان کا تذکرہ کرتے ہوئے انداز بیان پر سوال اٹھایا ہے اور اس کو گہرائی میں جا کر پرکھا جائے تو بات ایک سی ہی ہے ' یعنی شہزادی نے تو''روٹی'' کے لئے احتجاج کرنے والے ہجوم کو نہایت شائستگی سے یہ مشورہ دیا تھا کہ اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک ' پیسٹر کھائیں ' اس کے بعد صورتحال جس انقلاب میں ڈھلی وہ تاریخ ہے ' اور دعا کرنی چاہئے کہ ہمیں ویسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے ' کیونکہ ہمارے ''شہزادے'' نے شہباز شریف کو جو چیلنج دیا ہے کہ میرے صوبے میں ایک غریب سامنے لا کردکھائیں تو شہباز جانے اور ''پرواز'' یعنی شہباز کرے پرواز کا بیانیہ کتنا کامیاب ہوتا ہے ' ممکن ہے امیر مقام اس ضمن میں کچھ مدد کرے اور''ایک''غریب سامنے لا کر کھڑا کر دے کہ یہ لو تمہاری''دھمکی'' کا جواب حاضر ہے ' البتہ جب ہم اپنے چاروں اور نظر دوڑاتے ہیں تو جو دودھ اور''شہد'' کی نہریں بہہ رہی ہیں ان کو دیکھ کر مرحوم دوست مقبول عامر ضروریاد آجاتے ہیں جنہوں نے کہا تھا:
پھر وہی ہم ہیں وہی تیشۂ رسوائی ہے
دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے
مقبول عامر نے تو شیریں فرہاد کی کہانی کے تناظر میں مذکورہ بالا شعر تخلیق کیا تھا مگر موجودہ تناظر میں اس کے الفاظ معنویت کے لحاظ سے جو لطف دے رہے ہیں ان پر بھی غور کیا جانا چاہئے ' ہم چونکہ شہباز شریف نہیں ہیں اس لئے ہم دور کی کوڑی لانے کی بجائے اپنے شہر پشاور ہی کی گلیوں ' سڑکوں پر رکھے ڈبلیو ایس ایس پی کے ڈرموں اور کنٹینرز میں لاکر ڈالی جانے والی گندگی میں سے بھوک کے ستائے ہوئے بچے اور کچھ بڑے''حصول رزق'' کی سعی میں سرگرداں نظرآتے ہیں ان کی جانب توجہ دلا دیتے ہیں۔اسی طرح گھروں سے صبح صبح گندگی اکٹھی کرکے مہینے کی اس مشقت کے بعد دو ڈھائی سو روپے فی گھر اکٹھے کرکے ''گزر بسر'' کرنے پر مجبور بچے تو شاید غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ شوق کی خاطر یہ کام کرتے ہیں ' اور یہ کام کرتے ہوئے انہیں وہ شعر بھی یاد نہیں رہاکہ:
چمن کے رنگ وبو نے اس قدر دھوکے دیئے مجھ کو
کہ میں نے شوق گلبوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
معاف کیجئے گا شاید ہم بھی کچھ بھٹک سے گئے ہیں ' یعنی گندگی کے ڈھیر سے حصول رزق میں مبتلا مخلوق خدا کو شعر و شاعری سے کیا کام ' بہر حال یہ جو ہر گلی ' ہر سڑک پر غریبوں کے لئے دعوت شیراز کے دسترخوان بچھے ہوئے ہیں ' کم از کم یہ ''دعوت یغما'' سے تو پھر بھی بہتر ہیں ' کہ ایک دور تھا جب ترکی میں بھی اسی طرح بھوکے لوگ ' متمول اور مالدارلوگوں کے گھروں کے باہر اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب یہ رئوساء اپنی دعوت ختم کرتے ہیں اور پھر گیلری میں آکر بچا کچھا کھانا اوپر سے اچھال کر نیچے ننگے بھوکے افراد کی طرف پھینکتے ' جبکہ ان کنٹینرز میں سے باسی بلکہ ''ایکسپائر'' خوراک تلاش کرنے والے آج جو لوگ ہمیں گلی گلی دکھائی دیتے ہیں ' وہ تو غریب نہیں ہیں ' اس لئے شہباز شریف کو تلاش غرباء کے ہنگام ان افراد کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت نہیں ہے ' کیونکہ ان افراد پر ملا نصیر الدین کے اس واقعے کا اطلاق بھی نہیں کیا جا سکتا ' جس میں وہ گلی میں ایک شخص کے ساتھ کسی مسئلے پر بات چیت میں مشغول تھے کہ دور سے ایک لڑکا ایک خوان میں کچھ رکھے دکھائی دیا تو اس شخص نے ملا سے کہا ' ملاجی دیکھیں کس قدر بھینی بھینی خوشبوئیں اس خوان سے امڈ رہی ہیں ' ملا نصیر الدین بولے ' تو مجھے کیا ' اتنے میں خوان اٹھانے والا بچہ ان کے پاس سے گزر کر ملا نصیر الدین کے گھر میں داخل ہوا تو اس شخص نے کہا ' ملا جی ' خوان تو تمہارے گھر چلا گیا ہے ' ملا جی نے فوراً کہا تو تمہیں کیا؟ اب اگر پرویز خٹک گندگی کے کنٹینروں میں رزق تلاش کرنے والوں ' گھروں سے معمولی معاوضے پر روزانہ گھروں کے باقیات اکٹھے کرکے ٹھکانے لگانے والوں کو بھی غریب تسلیم نہیں کرتے تو شہباز شریف کو ایک طرف ' ہم بھی آسانی سے کہہ سکتے ہیں ' پھر ہمیں کیا؟
ہم کوئے ملامت سے گزر آئے ہیں یارو
اب چاک رہا ہے ' نہ گریبان رہا ہے