کشمیر پر پاکستان کی نئی ریڈ لائن ؟

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر مقبوضہ علاقے میں مزید تخریب کاری کی گئی تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ۔دفتر خارجہ کی طرف سے یہ انتباہ ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ بھارت پانچ اگست کے تسلسل میں مقبوضہ علاقے کی مزید ڈی لمٹیشن کی تیار ی کر رہا ہے ۔جموں کو الگ ریاست کا درجہ دینے اور وادی ٔکشمیر کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ کراس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کو ختم کرنا مقصودہے۔کشمیر میں فوجی نقل وحرکت میں غیر معمولی اضافے نے اس صورت حال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔پاکستان نے کشمیر کی مزید تقسیم اور توڑ پھوڑ کے خلاف بھارت کو ملفوف دھمکی دی ہے ۔پانچ اگست کے وقت یہ افواہیں عام تھیں کہ بھارت آزادکشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے نام پر کوئی فضائی یا زمینی کارروائی کرنا چاہتا ہے ۔پلوامہ حملے کے بعد سے ہی یہ خدشات عام ہونے لگے تھے ۔اس کے جواب میں پاکستان نے یہ ریڈ لائن مقررکی تھی کہ اگر بھارت نے آزادکشمیر پر جارحیت کی تو اسے بھرپور جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔کسی حد تک بالاکوٹ حملے کے جواب میں بھارت کو ایک بھرپور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اس کے بعد پانچ اگست کو جب بھارت نے مقبوضہ علاقے کے تشخص اور شناخت پر حملہ کیا تو پاکستان کی طرف سے آزادکشمیر پر حملے کی ریڈ لائن والے موقف کا ہی اظہار کیا جانے لگا ۔جس پر ملک کے اندرونی حلقوں میں تنقید بھی ہوئی اور اس موقف کو کشمیریوں کو بھارت کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے مترادف جانا گیا ۔ یوں لگ رہا ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز بھارت کی طرف سے اس اچانک اور غیر متوقع ا قدام کے لئے ذہنی اور عملی دونوں صورتوں میں تیار نہیں تھے بلکہ ایک موہوم امید یہ تھی کہ مودی انتخابی کامیابی کے بعد ووٹوں کی سیاست سے بے نیاز ہو کر پاکستان کے ساتھ تعلقات اور کشمیر کے حوالے سے کوئی غیر معمولی اور بڑا قدم اُٹھائیں گے ۔یہ امید پوری نہ ہوئی اور مودی نے انتخابی کامیابی کے بعد زیادہ متکبر ہو کر اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ۔پانچ اگست کا قدم اسی کا شاخسانہ تھا ۔اب اس بات کو دو سال کا عرصہ ہونے کو ہے اور اب پاکستان بھی حالات کی دلدل سے باہر نکل رہا ہے ۔ پانچ اگست کے نتیجے میں ہی چین اور بھارت کے شروع ہونے والے سرحدی تنازعات نہ صرف گہرے ہو گئے ہیں بلکہ ان کے مستقبل قریب میں حل ہونے کے آثار بھی نظر نہیں آتے ۔موسمی اعتبار سے سخت ایک آدھ مقام سے دونوں افواج پیچھے ہٹ گئی ہیں مگر کئی دوسری جگہوں پر چین کی افواج پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔دنیا میں اُبھرتی ہوئی تقسیم اور سرد جنگ بھی واضح ہو رہی ہے اور کئی ممالک اپنے مقام اور جگہ کا تعین کر رہے ہیں ۔اس صورت حال میں پاکستان نے مزید زچ ہونے کی بجائے اپنا وزن مغربی بلاک کے مقابلے میں چین اور روس کے پلڑے میں ڈالنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔اب یہ بات تو نوشتہ ٔ دیوار ہے کہ بھارت پانچ اگست کے بعد اگلا قدم بھی اُٹھائے گا ۔اس کے آثار وقرائن بھی واضح ہیں ۔کانگریس کے ایک لیڈر سے یہ بات منسوب کی گئی تھی کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد دفعہ 370بحال کرے گی مگر مودی نے جو جذباتی فضاء بنائی ہے اس کو ریورس کرنا اب آسان نہیں۔بھارت اس راہ میں آگے تو بڑھ سکتا ہے پیچھے ہٹنے کا امکان کم ازکم ہوتا جا رہا ہے ۔ایسے میںیہ اندازہ نہیں کہ مزید کسی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا جوابی قدم کیا ہوگا ؟۔ بھارت میں یہ احساس خوف بن کر قائم ہے کہ پاکستان کبھی اور کسی وقت جوابی قدم اُٹھا سکتا ہے ۔اس خدشے کا اظہاربھارتی فوج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے بھی پانچ اگست کے تناظر کا ذکر کئے بغیر کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کرگل جیسی کسی کارروائی کا امکان موجود ہے۔یہ پانچ اگست کے فیصلے کے ردعمل کا خوف ہے ۔بھارت کو احساس ہے کہ وہ اپنا کارڈ کھیل چکا ہے ۔اسے یہ اعتماد بھی ہے کہ وہ زمینی طاقت کی حیثیت سے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد بھی کر سکتا ہے مگر یہ خوف بھی کہیں کہیں چھلک پڑتا ہے کہ اب پاکستان کی باری ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی تحریک سے دستکش ہونے کی خودکشی نہیں کر سکتا ۔کشمیری عوام بھی بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کررہے ۔یہ دو حقیقتیں جب تک موجود ہیں کشمیر کا مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا ۔اگر پاکستان بھی فلسطینیوں کے ساتھ اردن اور مصر کے سلوک کی طرح کشمیریوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو بھی کشمیری حالات کے آگے سرینڈر نہیں کر یں گے ۔انہیں اپنی بقا کے لئے اپنے نسلوں کی بقا کے لئے دبائو کے طور پر مزاحمت کو کسی نہ کسی درجے میں زندہ رکھنا ہے۔جب تک یہ حقیقتیں موجود ہیں پاکستان کشمیر میں ایڈونچر اور مس ایڈ ونچر کرتا رہے گا ۔اچھا ہوا کہ پاکستان نے ریڈ لائن کو اپنی حدود سے باہر کھینچ لیا ہے اور بھارت کو بتادیا کہ مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ کسی طور اچھا نہیں نکلے گا اور بھارت کا اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔