کل کا کیا پتہ

ان دنوں کر ونا وائرس کے عفریت نے دنیا بھر میں خطرنا ک حد تک وحشت و دہشت پھیلا رکھی ہے اس عفریت سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں حکومتی سطح پر بھی انتظاما ت و تدابیر ہو رہی ہیں' خود کو جدید ماہر سمجھنے والے سرعام یہ وحشت پھیلا رہے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی انسان بستے ہیں ان کو زندگی میں ایک مرتبہ ضرور کر ونا ہو گا ، ساتھ ہی یہ ڈراؤا بھی دیا جا رہا ہے کہ چاہے انسان کمرے کو چاراطراف سے بند کر اس میں محصور ہی کیو ں نہ ہو جائے وہ اس وباء کا شکا ر ہو کر رہے گا۔ اس وقت دنیا میں مو سم گرما کی بدولت کر ونا وائرس میں بھی خاصی کمی آگئی ہے ، ایک بات اور نو ٹ کی گئی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ وباء روپ بھی بدل رہی ہے اور اس کا ڈیلٹا ویر ینٹ جو اہم تھا اب اس ویر ینٹ میں نئی ڈیلٹاپلس تیزی سے پھیل رہا ہے ، جو ٹیکہ (ویکسی نیشن ) اور قوت مدافعت کو بھی چکمہ دے سکتا ہے ۔بھارت کے عالمی سطح پر معروف وائر ولا جسٹ اور انسالوج سابق رکن پروفیسر ڈاکڑ شاہد جمیل کا اندیشہ ہے کہ ڈیلٹا پلس ویر ینٹ امیو نٹی اور ویکسین کے ساتھ ساتھ پہلے کے انفیکشن سے پید ا ہو نے والی قوت مدافعت کو بھی چکمہ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ K417Nنامی میوٹیسن جو جنو بی افریقہ میں دریا فت ہو تھا اسکی بھی علامات ظاہر ہو رہی ہیں ان حالا ت میں کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے کہ اس کا حفاظتی ٹیکہ مؤثر ثابت ہو گا اور ہر فرد کو ویکسین لگوانی چاہیے جس کے لیے حکومت مختلف حربے استعمال کرکے لو گو ں کو مجبور کررہی ہے کہ وہ ویکسین لگوائیں اگر نہیں لگوائیں تو ان کی تنخواہ روک لی جائے گی یا بینک اکاؤنٹ منجمند کر دئیے جائیں گے ۔ حیر ت کی بات یہ ہے کہ کوئی دوا چاہے وہ جان بچانے سے متعلق ہو یا پھر مر ض سے بچاؤ کے لیے ہو جب تک دس سال کے تجرباتی مر حلے سے نہ گزر جا ئے اور اس کا حفاظتی ڈیٹا سامنے نہ آجا ئے اس وقت تک کوئی عالمی ادرہ ایسی دوا کو عام استعمال کی اجا زت نہیں دیا کر تا اور نہ دے سکتا ہے کر ونا وائر ویکسین ایسے کسی عالمی اصول سے نہیں گزری اور نہ اس کے استعمال کی کو ئی باقاعدہ اجا زت دی گئی ہے نہ ہی اس کے استعمال کے اثرات سے متعلق کوئی کوائف و اعدا د وشما ر ہیں اس کے باوجود عام آدمی کو مجبور کیا جارہا ہے یہ اطلا عات بھی ملی ہیں کہ صیہونی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افرا د کو کرونا ویکسین نہیں لگائی جا تی بلکہ ان کی تسلی کے لیے پانی کا انجکشن لگا دیا جا تا ہے کیو ں کہ اس وقت کر ونا ویکسین کی پو زیشن تجر باتی بنیاد پر ہے اورخاص طور پر دوا سے متعلق تجر بات کو پہلے مر حلے میں جا نو روں سے گزارا جاتا ہے ان پر اثرات کا ڈیٹا حاصل کر کے پھر انسانو ں پر آزما یا جا تاہے جس کے لیے لاکھو ں یا کروڑوں انسانو ںکو تجر بہ گا ہ نہیں بنایا جا تا ہے اس کے لیے ایک محدو د تعداد میں انسانو ںکا انتخاب کیا جا تا ہے ان پر دوا کا استعمال کر کے اس کا ڈیٹا حاصل کر کے اور تما م اثرات کا جائزہ لینے کے بعد دوا کو مارکیٹ میں عالمی ادارو ں کی منظوری سے لایا جا تاہے ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض ادویا ت کا سالہا سال سے استعمال ہو رہا ہو تا ہے ۔کرونا ویکسین کسی عالمی اصول سے جانچ پڑ تال کے مرحلے سے نہیں گزری ہے اس کے باوجو د بہت وسیع پیمانے پر اس کا استعمال خطرنا ک قرار پا سکتا ہے علا وہ ازیں یہ بات کہ ہر فرد کو کر ونا ہو گا چاہے وہ کتنی احتیا ط کر ے شاید اسی پس منظر میں کیا جا رہا ہے کہ ویکسین تیار کر نے والو ں کو خود اس ویکسین کی اچھائی اور برائی کا کوئی علم نہیں ہے ۔اس وقت ویکسین کے استعمال سے کوئی منفی رپو رٹ تو نہیںآرہی ہے لیکن ایک طویل عرصہ کے بعد اس کے اثرات سامنے آئیں گے جو بے حد منفی بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس دوا کی تیا ری میں ایم آر این یعنی مسینجر آر این ٹیکنا لو جی استعمال کی گئی ہے جو آج تک ایسے کسی ٹیکے کے لیے استعما ل نہیں کی گئی ہے اس سے بھی بڑھ کر حیر ت کی بات یہ ہے کہ مڈرونا کمپنی جس نے آج تک کسی قسم کا ٹیکہ نہیں بنایا تھا اس نے بھی کر ونا ویکسین کا ٹیکہ بنا ڈالا ، اس کے فوری اثرات کا جو ڈ یٹا ملا ہے اس کے مطا بق رواں ما ہ چارجو ن تک امریکا میں ٹیکہ لگوانے کے بعد پانچ ہزار آٹھ سو اٹھاسی افرا د کو موت نے آلیا ،انیس ہز ارپانچ سوستانوے افراد کو ہنگامی طورپر ہسپتال میں داخل کیا گیا تقریباً پندرہ ہزار افرا د کا منہ ٹیڑھا ہو ا جس کو لقوا بھی کہا جا تا ہے ۔حکومت عوام کو ٹیکہ لگا نے پر زور تو بہت دے رہی ہے مگر اس بارے میں کہ اس کے سائڈ ایفیکٹ کیا ہوسکتے ہیں اس بارے میں آگاہی نہیں دے رہے اورنہ سائڈ ایفیکٹ سے بچاؤ کے بارے میں لو گوں کو باخبر کر نے کا کوئی انتظا م کیاجا رہا بلکہ ٹیکہ نہ لگو انے والوں خاص طورپر سرکا ری ملا زمین کو مختلف پا بندیو ں کا شکا ر ہو جا نے سے ڈرایا جا رہا ہے ۔ نہ ہی اس بات کی ضما نت ہے کہ ویکسین لگانے کے بعد اس مو ذی عفریت سے چھٹکارہ حاصل ہوجائے گا ۔